احتساب کے نام پر تحریکِ انصاف کا ”یو ٹرن“

میگا کرپشن اسکینڈلز میں ملوث عناصر سے لوٹی گئی دولت واپس نہ لے سکنا سوالیہ نشان ہے

بدھ 12 جنوری 2022

Ehtesaab Ke Naam Par Tehreek e Insaaf Ka U Turn
خالد حسین رضا
قدرت کا یہ قانون ہے کہ جو آج ہیں وہ کل نہیں رہیں گے۔دنیا کے اقتدار پر جو بھی براجمان ہوتا ہے وہ جانے کے لئے ہی آتا ہے اگر کوئی یہ سمجھے کہ وہ ہمیشہ صدر،وزیر اعظم یا بادشاہ رہے گا تو یہ اس کی خام خیالی ہے،یہ اقتدار،کالی،نیلی اور پیلی شیروانیاں دائمی نہیں۔

اس فانی دنیا میں صبح کے امیر کا شام کو غریب اور شام کے فقیر کا صبح کو امیر ہونا کوئی حیرت والی بات نہیں یہاں عروج کو زوال کل بھی تھا اور یہاں زوال آج بھی عروج کے کندھوں پر سوار ہے۔چشم فلک نے کئی بڑے بڑوں کو یوں لمحوں میں اوندھے منہ زمین پر گرتے دیکھا ہے۔یہاں نہ اس سے پہلے کوئی کسی کا تھا اور نہ اب کوئی کسی کا ہے یہی وہ سچ ہے جسے جھٹلانا کسی کیلئے ممکن۔

(جاری ہے)

احتساب اور انصاف کا نعرہ لگاتے ہوئے اقتدار میں آنے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف بظاہر اس وقت دوراہے پر کھڑی نظر آ رہی ہے جہاں ایک طرف آئے روز ان کی اپنی حکومت میں کسی نہ کسی وزارت میں اربوں روپے کی کرپشن کے اسکینڈلز منظرعام پر آ رہے ہیں چاہے وہ ادویات اسکینڈل ہو،گندم،چینی اسکینڈلز،پٹرولیم و گیس کی کرپشن کے اسکینڈلز یا پھر حال ہی میں منظر عام پر آنے والا رنگ روڈ کرپشن اسکینڈل وہیں دوسری طرف تحریک انصاف کو ایک سے زائد مختلف محاذوں پر لڑنا پڑ رہا ہے جیسا کہ اپوزیشن کے خلاف کرپشن کیسز میں مسلسل ناکامی کا سامنا،30 ماہ سے زائد اپوزیشن احتساب میں سوائے اپوزیشن لیڈر ان کی جیل یاترا کے انصافی حکومت عدالتوں میں ایک پیسے کی نہ تو کرپشن ثابت کر پائی اور نہ ہی قومی خزانے میں کرپشن بیانئے کے تحت لوٹی گئی رقم واپس جمع کر پائی بلکہ اُلٹا احتساب کے نام پر اربوں روپے کی رقم بیرون ملک میں جرمانے کے نام پر جمع کروانی پڑی صحیح معنوں میں حکومت کا احتساب کا راگ اور نعرہ بری طرح سے پٹ چکا ہے۔

حکومت وقت مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں ناصرف ناکام رہی بلکہ مہنگائی کا جن حکومت وقت کے ہاتھوں سے نکل کر کوسوں میل دور جا چکا ہے۔حکومت وقت کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ضمنی الیکشن میں مسلسل پے در پے شکست پاکستان تحریک انصاف کا مقدر بن رہی ہیں بہت سے مالی اسکینڈلز اور مہنگائی کے جن کی بدولت مشکل ترین حالات میں گھری ہوئی حکومت کی مشکلات میں اضافہ خود ان کی اپنی پارٹی کے جہانگیر ترین ہم خیال گروپ پیدا کر رہے ہیں۔

کوئی مانے یا نہ سچ یہ ہے کہ ترین کا حکومت کے بغیر گزارہ ممکن ہے مگر حکومت کا ترین کے بغیر چلنا ممکن نہیں کیونکہ جس دن ترین گروپ نے پی ٹی آئی کی طرف تین پتھر پھینکے اس دن پھر اس مضبوط اور طاقتور حکومت کو ایک دھکے کی ضرورت بھی نہیں رہے گی۔
وزیر اعظم عمران خان کے کیا اصول ہیں اس کا تو ہمیں نہیں پتہ لیکن یہ ہم جانتے ہیں کہ بیوپاریوں کے اصول بڑے واضح ہوتے ہیں جس طرف نقصان کا ذرہ بھی اندیشہ ہو اس طرف اگر باپ بھی ہو تو پھر بھی بیوپاری اس طرف نہیں جاتے۔

کپتان بڑے ضدی سہی لیکن ”بیوپاری بھی ضد میں کسی سے کم نہیں ہوتے“۔ترین نے کپتان کو مشکل بہت مشکل میں ڈال دیا ہے۔لوگ تحریک انصاف کی کوکھ سے جنم لینے والے ترین گروپ کو گھر کا معاملہ سمجھ رہے ہیں مگر اسے اب گھر تک محدود کرنا یا رکھنا اتنا آسان نہیں ہو گا۔اصول کے نعروں پر زندگی گزارنے والے کپتان کو کیا پہلے سے یہ نہیں پتہ تھا کہ پی ٹی آئی کے لئے 10 روپے لگانے والا ترین کل دس کے بدلے 50 نقد وصول کرے گا۔

؟بیوپاری سب کچھ برداشت کرتا ہے لیکن وہ کاروبار میں نقصان کبھی برداشت نہیں کرتا۔جہانگیر ترین نے شوگر کی مد میں لاکھوں کمائے یا اربوں اسے وہ اپنا حق سمجھتا ہے اب اگر اسے اس منافع و حق کو جائز و حلال قرار دینے کے لئے این آر او نہیں ملے گا تو وہ کبھی بھی خاموش نہیں رہیں گے۔ہاتھوں میں ہاتھ ڈالنے والے جہانگیر ترین ساتھ نہیں رہے تو ن لیگ،پیپلز پارٹی،جے یو آئی ،جماعت اسلامی اور دیگر پارٹیوں اور گھونسلوں سے چھلانگیں لگا کر آنے والے کیا خاک ساتھ رہیں گے؟بس وقت کی دیر ہے۔


یہ حکومت نہ رہی تو پھر چند گنے چنے نظریاتی ورکروں اور پارٹی رہنماؤں کے سوا کوئی بھی ساتھ نہیں رہے گا۔کپتان پر زبانی کلامی مر مٹنے والے یہ وزیر اور مشیر یہ تو کرائے کے لوگ ہیں جس دن پی ٹی آئی کی حکومت ختم ہونے کی صورت میں ان کے مکان خالی ہو گئے یہ اسی دن اپنا بوریا بستر گول کرکے ن لیگ،پیپلز پارٹی ،جماعت اسلامی،اے این پی،جے یو آئی یا ایم کیو ایم نامی سیاسی کالونیوں میں کرائے کے نئے مکان ڈھونڈ لیں گے شائد اسی لئے شاعر نے کہا تھا کہ ”جن پر تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے“پی ٹی آئی میں ایک نہیں اور بھی بہت سے ایسے جہانگیر ترین ہیں جنہیں اب صرف وقت اور موقع کا انتظار ہے جس لمحے وقت نے پلٹا کھایا پھر کوئی عمران خان کے ساتھ نہیں رہے گا یہ وزیر مشیر سب اپنی اپنی راہ پکڑیں گے کیونکہ یہاں کوئی کسی کا نہیں ہوتا یہ سب مفادات کی گیم ہے۔


ادارہ اردوپوائنٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Ehtesaab Ke Naam Par Tehreek e Insaaf Ka U Turn is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 12 January 2022 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.