داخلی سیاسی کشمکش امریکہ میں بھی محسوس کی جارہی ہے

خون ریز افغانی میدان جنگ میں امن کے قیام کا راﺅنڈ شروع جنگ اور من کے سوال پر امریکی قیادت ابہام کا شکار ہے

پیر فروری

dakhli siyasi kashmakash america mein bhi mehsoos ki ja rahe hain
امتیاز الحق:
پاکستان امریکہ کے تاریخی سیاسی عسکری روایتی تعلقات سیاسی سفارتی حدود سے نکل کر غیر سنجیدہ،مبہم غیر سیاسی اور غیر سنجیدگی کے راستے میں چل پڑے ہیں دھونس دباﺅ دھمکی اور غیر شائستہ الفاظ اب واشنگٹن ،پینٹا گون، سی آئی ائے،امریکی پارلیمنٹ اور کانگرس کے ارکان کی زبان سے ادا ہونا شروع ہوگئے ہیں امریکی رہنماﺅں نے ماضی میں سرد جنگ کے دور میں بھی مخالفانہ پروپیگنڈہ اور اختلافات کے باوجود بھی سفارتی سیاسی زبان استعمال کی دنیا کو نسان حقوق کے تحفظ انسانیت کا چہرہ مہذب اندا ز میں دکھایا لیکن اپنے مفادات کے لئے پس پردہ غیر انسانی رویہ اور ظالمانہ طریقے استعمال کئے لیکن اب موجودہ دور میں اپنی پالیسیاں وعدے کو اپنے عوام اور دنیا کے سامنے واضح طور پرخلاف ورزی کے ساتھ اکسی بیخ کنی بھی کررہے ہیںافغانستان سے فوج واپس لانے کا اپنے عوام اور عالمی سطح پر اعلان کیا لیکن افواج کی تعداد بھی بڑھا دی شام میں غیر ضروری مداخلت داعش جنگجوﺅں کو منظم کرنے اسلحہ اور تباہی کے لیے استعمال کیا بظاہر ان کے خلاف کاروائی کا ڈھونگ رچایا عراق میں صدام حسین کے خلاف انسانی تباہی کے ہتھیاروں کے نام پر عراق کو تباہ کرکے اپنی ہی غلطی کا اعتراف کیا کہ سی آئی اے نے غلط اطلاعات فراہم کیں لیکن اس دوران عراقی عام کو بے گھر مہاجرین اپنے ملک سے بے وطن کرادیا مذہبی فرقہ ورانہ تقسیم کرادی اور عراق کو سنی شیعہ علاقوں میں بدلنے کی سازش کی یہی کھیل پاکستان میں مذہبی تفریق کراکر ہم آہنگ مذہبی برادریوں کو فرقہ پرستی میں تبدیل کردیا اور پاکستان کے اندر بلیک واٹر سی آئی اے کے خفیہ نیٹ ورک نے فرقہ پرست انتہا پسندوں کے فریکشن منظم کرا کرطالبان داعش کے نام کو پاکستان میں متعارف کراکر”را“”موساد“ اور کرائے کی خوفیہ ایجنسیوں کا منظم نیٹ ورک بنادیا اور اب اس سے بلوچستان خیبرپختونخواہ پنجاب اور سندھ میں اپنی مرضی سے کام لے رہا ہے دہشت گردی سیو تاثر اغوا برائے تاوان ٹارگٹ کلنگ ایسی حرکتیں ہیں جنہیں پوشیدہ رکھا گیا کہ تاثر دیا ائے کہ یہ تو پاکستان کے اندرونی معاملات اور اندرونی مقامی عناصر کا معاملہ ہے پاکستان کے اندر یہ وہ مہذب عالمی طاقت کا چہر ہے جو محسوس تو کیا جاسکتا ہے لیکن دیکھنے والی اکثر نظر اندازہ لگاسکتی ہے کہ افغانستان میں سوویت مداخلت کے بعد یہ واقعات ایسے چہرے اسی امریکہ کی حکمت عملی کا حصہ ہے جو وہ خطے میں روس چین کے گرد حصار قائم کرنے کے لئے برسوں سے تاک لگائے بیٹھا تھا تاہم عملی طور پر اب ایسی صورت حال میں پھنس گیا ہے کہ وہ اب اس سے نکلنے کی بجائے مزید دھنستا چلاجارہا ہے جس کا تمام الزام پاکستان پر عائد کررہا ہے کیونکہ ماضی کی پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اسکی پارٹنر تھی اور اب بھی اس کے بچے کھچے دوست عناصر موجود ہیں جس سے امریکہ کو امید ہے کہ وہ موجودہ عسکری قیادت پر دباﺅ ڈال کر واشنگٹن کے مفادات کو پورا کرسکتے ہیں لیکن ماضی کے تجربہ کا نتیجہ پاکستان کی ترقی کی رفتار میں سستی مسائل میں اضافہ معیار زندگی میں گراوٹ اور اسکی سکیورٹی کا سوال پیدا ہوگیا ہے نسلی علاقائی قدرتی توازن بگڑ گیا ہے بلکہ بگاڑ ا گیا جسکی وجہ سے پاکستان ایسی کسی امریکی پالیسی فیصلے حکمت عملی کا حصہ نہیں بننا چاہتا جو اس کی سرحدوں کو کمزور بقاءکو خطرہ میں ڈالے ملکی اور ترقی اتحاد کو سوالیہ نشان بنا اور غیر محفوظ کردے مزید یہ کہ اس کے معاشی اقتصادی سیاسی ڈھانچہ کو جو قریب قریب بے قابو ہونے کی جانب جارہا ہے مزید رفتار کو تیز کردے ملک میں ابتری بحران باہمی قومی کشمکش کو ہوا دے اب ایسی صورتحال پاکستان کے لئے قابل قبول نہیںہے اس اور ایسی حالت میں بھی امریکی اشرافیہ وار انڈسٹریل کمپلیکس پینٹاگون سی آئی اے کانگرس سینٹ پاکستان پریل پڑے ہیں کہ وہ طویل قیام کے سلسلے میں چین و روس کے گرد گھیراﺅ پالیسی میں افغانستان میں میدان جنگ کا حصہ بنے نہ کہ مذاکرات کا پاکستان کے لئے افغانستان کا سبق تقریباً 60 ہزار پاکستانی شہداءایک ٹریلین سے زیادہ نقصان فرقہ ورانہ تقسیم معاشی بدحالی بیروزگاری مسائل کے انبار کی شکل میں ملا ہے اب اس کی قیمت اس طرح ادا کی جاسکتی ہے کہ امریکہ سے ہاتھ کھینچ کر عوام کو اعتماد میں لیا جائے اسٹیبلشمنٹ میں چند عناصر کی خواہش کے مطابق امریکی مفادات کا حصہ نہ دیا جائے اورعوام کو تیار کیا جائے کہ امریکی سینٹ میں پاکستان کی امداد روکنے کے لیے بل پر بجٹ کا جلد نتیجہ آنے والا ہے ممکن ہے کہ اس تحریر کی اشاعت کے تک پاکستانی امدا د بند کرنے کا اعلان بھی ہوسکتا ہے امریکہ کی پارلیمنٹ پاکستان کیخلاف قومی و دفاعی بل پاس ہوچکا ہے جو چند ماہ قبل امریکی پارلیمنٹ قومی قومی و دفاعی پالیسی بل 2018 منظور ہوا جس میں امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور یو ایس ایڈ کی جانب سے پاکستان کی امدا د پر پابندی کا تقاضا کیا گیا تھا جس کے حق میں 334 اور مخالفت میں 81 ووٹ آئے ایوان زیریں میں پیش کئے جانیوالے بل میں یہ بھی کہا گیا پاکستان کی غیر عسکری امداد بھی بند کی جائے اور وہ تمام رقم امریکہ پلوں سڑکوں پر خرچ کی جائے امریکیوں کی موت پر خوش ہونے اور امریکی جھنڈے جلانے والوں کی مدد کرنے سے امریکی داخلی ڈھانچہ بری طرح متاثر ہوا ہے جس کے تحفظ کے لیے ناکامی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے لہٰذا دہشت گردی اور اس کے رہنماﺅں کو تحفظ دینے کی پاکستان کی پالیسی کی وجہ سے اس ملک کو سبق سکھایا جائے جوابی طور پر پاکستان کو آنے والے حالات کا ادراک ہونا شروع ہوگیا ہے کہ امریکی ویت نام سے سیکھا سبق بھول چکے ہیں اور وہ اب بھی افغانستان میں خونریزی اور اسے میدان جنگ میں تبدیل کرکے فیصلہ کن کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیںگذشتہ ہفتے 24 گھنٹوں میں 24 جدید میزائلوں سے طالبان کے ٹھکانوں پر حملوں کا ایک سلسلہ شروع کردیا گیا ہے جو کہ جنوری کے وسط میں کابل میں دو بڑے حملوں کا بھی جواب ہے جس کا بالواسطہ الزام پاکستان پر بھی لگادیا ہے تاہم پاکستان کی جانب سے مذمت و تردید کے باوجود مختلف الزامات کے بعد امریکی حکام نے معاملات امریکی پارلیمنٹ اور کانگرس کے حوالے کردئیے قبل ازیں پاکستان کی روس چین سے قربت ایران کے ساتھ بہتر تعلقات وسط ایشیائی ریاستوں سے تعاون کے ضمن میں اپنے اندر اعتماد محسوس کرتے ہوئے امریکی دھمکیوں کا واضح جواب دیا جس کی خود امریکیوں کو امید نہیں تھی کہ ان کا پرانا شراکت دار اب پرانی تنخواہ پر کام پر آمادہ نہیں ہے علاوہ ازیں چند عقلمند ماہرین نے امریکی انتظامیہ کے متکبر مغرور رہنماﺅں کے کان میں یہ بات ڈالی کہ امریکہ میں عوام کا معاشی دباﺅ کا شکار ہے بیرون ملک امریکی افواج اور دیگر عوامی مسائل کو خرچ کرکے وار انڈسٹریل کمپلیکس اور اشرافیہ فائدہ اٹھا رہی ہے لیکن امریکی عوام کی حالت خراب سے خراب ہوتی جارہی ہے وہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ امریکی افواج ایسے کون سے فائدہ کے لئے لڑرہی ہیں کہ عوام کو نقصان ہورہا ہے اسی قسم کے دیگر سوالات نے امریکہ کی قیادت کا نگرس پارلیمنٹ وائٹ ہاﺅس سی آئی اے اور دیگر اداروں کے مابین انجام پیدا کردیا ہے کہ وہ امریکی عوام سے پوشیدہ اپنی کاروائیوں کو کس طرح منظر عام آنے سے روکیں اسی ابہام کی بنیاد پر وہ پاکستان کو پہلے دھمکی دیتے ہیں بعد ازاں یو ٹرن لیکر پاکستان سے اچھے تعلقات بنانے کی بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ امریکہ افغانستان سے پاکستان پر حملہ نہیں کریگا لیکن قبل از یں ڈرون حملے کرکے کسی قسم کی معذرت بھی نہیں کی جاتی حالیہ امریکی اقدامات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وائٹ ہاﺅس پاکستان کی امداد روکتا ہے ڈرون حملے ہوتے ہیں دوستی اور بہتر تعلقات کے لئے حملہ نہ کرنے کی یقین دھانی کے ساتھ امداد روکنے کے لیے معاشی حملہ کرنے کی تیاریاں شروع کردی جاتی ہے اور دوسری جانب افغانستان میں فضائی اور زمینی حملے تیز کردئیے جاتے ہیںجس کا منفی اثر پاکستان پر پڑے گا اسی کے ساتھ ساتھ ایک بیانیہ تشکیل دیا جائے گا کہ افغانستان میں کاروائیوں کے نتیجہ میں طالبان پاکستان میں پناہ لے رہے ہیں لہٰذا پاکستان کا نشانہ بنا کر امریکی ٹیکس و ہندگان کی آنکھوں میں دھول جھونکی جائیگی کہ ان کی جیبوں سے نکالی گئی رقم ان کی حفاظت کے لیے خرچ کی جارہی ہے آئندہ حالات میں پاکستان قربانی کا بکرا بنے گا اور معاشی بحران کے ساتھ اندرونی خلفشار بحرانی صورتحال میں مبتلا کردیا جائیگا جس کے لئے نااہل قیادت نے بھی زمین ہموار کررکھی ہے امتحان اہل قیادت اور عوام کا ہے

Your Thoughts and Comments

dakhli siyasi kashmakash america mein bhi mehsoos ki ja rahe hain is a international article, and listed in the articles section of the site. It was published on 19 February 2018 and is famous in international category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.