پناہ گزینوں کی نئی لہر سے یورپ خائف

مشرق وسطیٰ کو عدم استحکام کا شکار کرنے والا مغرب آج خود اندرونی خلفشار کا شکار ہے

پیر 29 نومبر 2021

Panah Gzinon Ki Nai Lehar Se Europe Khaif
محبوب احمد
دنیا میں لوگوں کے بے گھر ہونے کی وجوہات مختلف ہیں کچھ جنگوں،کچھ قحط سالی اور کچھ موسم کی سختیوں سے عاجز آکر روشن اور محفوظ مستقبل کی تلاش میں دیار غیر کا رخ کر رہے ہیں جبکہ ان میں سے بیشتر تو اپنے ہی ممالک میں کسمپرسی کی حالت میں دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں یہاں سب سے بڑی ستم ظریفی تو یہ ہے کہ نقل مکانی کرنے والے افراد کے حقوق کا کوئی بھی ضامن نہیں۔

پرتشدد تنازعات،خانہ جنگی،قحط اور دہشت گردی کیخلاف نام نہاد جنگ کے باعث جبراً نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد 10 کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے جو دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑی تعداد ہے،مہاجرین کی تعداد میں یہ اضافہ امدادی اداروں کے لئے ایک چیلنج سے کم نہیں۔

(جاری ہے)

عراق،شام،وسطی افریقہ اور جنوبی سوڈان میں جاری لڑائی کے باعث اس تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

جمہوریہ وسطی افریقہ اور جنوبی سوڈان میں بھی تنازعات کے باعث کثیر تعداد میں لوگ بے گھر ہو رہے ہیں۔ایک طرف جہاں غربت،بھوک اور بے سر و سامانی کے شکار دربدر کی ٹھوکریں کھانے والے پناہ گزینوں کی محرومی حد درجہ بڑھ رہی ہے وہیں دوسری طرف یورپ میں نے امیگریشن کنٹرول کے نام پر انسانی حقوق کے استحصال کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے یہی وجہ ہے کہ مہاجرین کی زیادہ تر تعداد ترقی پذیر ممالک میں پہنچ کر خود کو اقوام متحدہ کے ادارے کے ساتھ رجسٹرڈ کروا رہی ہے۔

بیلا روس کی سرحد پر ان دنوں سردی کے شدید ترین تھپیڑوں میں مشرق وسطیٰ اور دیگر علاقوں کے ہزاروں تارکین وطن پولینڈ کے ذریعے مغربی یورپ میں داخل ہونے کے خواہشمند ہیں۔یورپی یونین کا یہ الزام کہ صدر الیگزینڈر لوکاشینکو 2020ء کے متنازع انتخابات کے بعد اپنی حکومت کے خلاف لگائی جانے والی پابندیوں کے جواب میں ”ہائبرڈ حملہ“ کر رہے ہیں جس میں پناہ گزینوں کی جانب سے غیر قانونی سرحد پار کرانے کی کوششیں شامل ہیں سے خطے میں کشیدگی کی نئی راہ ہموار ہو رہی ہے۔


دہشت گردی کیخلاف امریکہ کی نام نہاد جنگ نے جہاں دنیا بھر کے انفراسٹرکچر کو تباہ کرکے رکھ دیا وہیں ان ممالک کو خانہ جنگی کی سی کیفیت میں مبتلا کر دیا۔واشنگٹن،برطانیہ اور اس کے اتحادی یورپی ممالک نے عراق اور افغانستان پر چڑھ دوڑنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کی لیکن جب مسئلہ مہاجرین کو دوبارہ بسانے کا پیش آیا تو کسی طرح بھی ان کی مدد نہیں کی گئی،مقام افسوس ہے کہ عالمی سطح پر جب عالمی مستقبل اور حکمت عملیوں اور مفادات کی بات کی جاتی ہے تو یہ موضوعات اس گفتگو سے خارج ہوتے ہیں۔

ترقی یافتہ ممالک چاہے ان میں وہ جو براہ راست ان ممالک کے اندر ہنگاموں اور افراتفری کیلئے ذمہ دار ہوتے ہیں انہی ممالک کو سیاسی ہنگاموں اور ختم نہ ہونے والے حکومتی مسائل کیلئے مطعون کرتے ہیں اور کوئی بھی یہ نہیں سوچتا ہے کہ یہ عدم استحکام لوگوں کے مسلسل ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کی وجہ سے ہے ایک ایسے ملک میں جس میں مواقع ویسے ہی محدود ہیں۔

میانمار کے ساتھ ملحق تھائی لینڈ کی سرحد پر برسہا برس سے مہاجر بستیوں میں مقیم میانمار کے کیرن اقلیت کے ایک لاکھ 20 ہزار افراد کی خوراک،پانی،قیام اور طبی سہولت تک رسائی محدود ہے،لبنان میں 10 لاکھ سے زائد مہاجرین میں مجموعی آبادی کا ایک چوتھائی شامی باشندے ہیں جن کے لئے رہائشگاہوں،تعلیم اور صحت کی سہولیات کی فراہمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے یو این ایچ سی آر کی ایک رپورٹ کے مطابق 2014ء کے پہلے 6 ماہ کے دوران 55 لاکھ افراد اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے اور یہ ان 5 کروڑ 20 لاکھ افراد کے علاوہ ہیں جو 2013ء کے اواخر تک دنیا بھر میں بے گھر ہوئے تھے،اب خدشہ یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر اس شرح سے لوگ بے گھر ہوتے رہے تو رواں سال کے آخر تک اس تعداد میں خوفناک اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔


شورش زدہ علاقوں کے مہاجرین اس قدر مشکلات کا شکار ہیں کہ انہیں جبری مشقت کے ساتھ ساتھ جنسی استحصال جیسے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے،ہزاروں مہاجرین اپنی زندگی کے بہترین اوقات خیمہ بستیوں میں گزارتے ہوئے بے گھر ہونے کا باعث بننے والے بحرانوں کو تقریباً بھلا چکے ہیں۔افغانستان کے علاوہ دوسرے نمایاں ممالک جن میں صومالیہ،جنوبی سوڈان،عوامی جمہوریہ کانگو،برما اور عراق شامل ہیں کے مہاجرین آج بھی کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

اردن اور لبنان میں کم و بیش 20 لاکھ کے لگ بھگ پناہ گزین مقیم ہیں جبکہ سب سے زیادہ اقتصادی بوجھ ایتھوپیا اور پاکستان کو برداشت کرنا پڑا ہے کیونکہ یہ اپنے معاشی حجم کی نسبت زیادہ مہاجرین کی میزبانی کر رہے ہیں۔گزشتہ 4 دہائیوں میں عراق اور افغانستان کی جنگوں کے بعد ایران اور پاکستان نے ہی دنیا بھر میں مہاجرین کی سب سے بڑی تعداد کو اپنے ممالک میں پناہ دی۔

ایک ایسے ملک میں جہاں ایک کے بعد دوسرا مسئلہ درپیش رہتا ہے وہاں مہاجرین کی بڑھتی تعداد سے کئی مسائل جنم لیتے ہیں جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ان مہاجرین کو پناہ دینے والے ممالک کو بین الاقوامی برادری کی جانب سے خاطر خواہ امداد فراہم نہیں کی جاتی۔مقام افسوس ہے کہ ان پناہ گزینوں کی دیکھ بھال کا زیادہ تر بوجھ ان ممالک پر ہے جو خود کمزور ہیں جس کا اندازہ اس امر سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ ترقی پذیر ممالک دنیا بھر کے مہاجرین کی 86 فیصد تعداد کے میزبان ہیں جبکہ دولت مند ممالک محض 14 فیصد کا خیال رکھ رہے ہیں سب سے بڑھ کر ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ مغربی ممالک آج ان کے حقوق کو تسلیم کرنے کے بجائے اپنے سرحدی علاقوں کو محفوظ بنانے میں مصروف ہیں حالانکہ عراق،شام،افغانستان اور دیگر ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں کہ جہاں نیٹو کی کارروائیوں سے سب کچھ تبدیل ہو کر رہ گیا،یاد رہے کہ شام میں 2014ء کے وسط تک تقریباً ایک کروڑ افراد کو ملک کے اندر نقل مکانی کرنا پڑی تھی۔


یورپی یونین کی سرحد کو محفوظ بنانے کے اقدامات سے مہاجرین اور سیاسی پناہ لینے والوں کے لئے خطرات مزید بڑھ گئے ہیں کیونکہ دنیا بھر میں انہیں کہیں عقوبت خانوں اور بعض اوقات جہازوں میں تنگ جگہ پر محصور کرنے کا سلسلہ جاری ہے یہاں یہ بھی ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ کینیا کا تیسرا بڑا شہر اصل میں ایک ریفیوجی کیمپ ہے جہاں لاکھوں پناہ گزین قیام پذیر ہیں بعض مستقل حیثیت اختیار کرنے والی خیمہ بستیوں میں سکول،ہسپتال اور کاروبار قائم ہیں لیکن یاد رہے کہ یہ کبھی گھر نہیں بن سکتیں لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا میں قیام امن کیلئے اقوام متحدہ کو ان تمام عوامل پر عمل کرنا ہو گا جس سے مہاجرین کے بڑھتے ہوئے مسائل پر قابو پایا جا سکے۔

دنیا بھر کے مہاجرین میں 15 فیصد کا تعلق شام،افغانستان اور جنوبی سوڈان سے ہے اور ان میں سے 80 فیصد نے اپنے ہمسایہ ممالک کا رخ کیا ہوا ہے۔یو این ایچ سی آر کے مطابق دنیا بھر میں ایسے افراد کی تعداد 7 کروڑ سے زائد ہے جنہیں مختلف محرکات کی وجہ سے زبردستی یا مجبوراً اپنے آبائی علاقوں کو چھوڑنا پڑا،اڑھائی کروڑ کے لگ بھگ ایسے لوگ ہیں جو اپنے ہی ملک میں مہاجرت کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں جبکہ تقریباً ایک کروڑ نے مختلف حصوں میں پناہ لینے کو ترجیح دی لہٰذا ضرورت اب اس امر کی ہے کہ مغربی ممالک خاص طور پر امریکہ اور یورپ پر بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ مہاجرین کی آباد کاری کیلئے ہنگامی بنیادوں پر ٹھوس اقدامات کرتے ہوئے ایسے ممالک جو بحالی کا فریضہ انجام دے رہے ہیں ان کی خاطر خواہ مدد کی جائے۔

بیلا روس کی سرحد پر تارکین وطن کے بحران میں جونہی شدت آئی ویسے ہی روس نے چھاتہ بردار دستوں کو بیلا روس میں مشترکہ مشقوں کے لئے روانہ کیا لہٰذا ان نازک حالات میں نیٹو اتحادیوں کی طرف سے جارحانہ کارروائیوں کے تناظر میں فوجی تعاون کا فروغ ناگزیر ہو چکا ہے کیونکہ جوہری صلاحیت سے لیس روسی بمبار طیاروں کی فضاء پروازیں کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہو رہی ہیں،یہاں یہ بھی قابل غور امر ہے کہ اگر انسانی سمگلنگ کی آڑ پر نئی پابندیاں عائد کیں تو جواب میں بیلا روس گیس سپلائی بھی معطل کر سکتا ہے جس کا اس نے عندیہ دینے سے بھی گریز نہیں کیا۔

اس میں کوئی دورائے نہیں ہیں مغرب نے مشرق وسطیٰ کو غیر مستحکم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی لہٰذا دیکھا جائے تو اب سرحد پر موجود مہاجرین کو تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ داری بھی انہی ممالک پر عائد ہوتی ہے۔

ادارہ اردوپوائنٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Panah Gzinon Ki Nai Lehar Se Europe Khaif is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 29 November 2021 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.