ہمارا تعلیمی نطام۔۔۔آخر مسٗلہ کیا ہے؟۔۔۔۔تحریر:زین الحسن

پاکستان میں دیگر تمام شعبوں کی طرح تعلیمی نظام بھی دراصل برصغیر پاک و ہند میں برطانوی راج کا ڈیزائن کیا ہوا ہے اور جس کا مقصد، ظاہر ہے کہ اس وقت کے باشندوں کو خوشحالی اور ترقی تو ہرگز نہیں تھا۔ ہاں! البتہ صرف اس حد تک کہ جس سے ان کے اپنے سارے حساب کتاب سیدھے ہو سکیں اور وہ انتظامی معاملات کو چلا سکیں

ہفتہ جون

hamara taleemi nizam, aakhir masla kya hai?
ہمارے تعلیمی نظام کا بنیادی طور پر کوئی مضبوط ڈھانچہ سرے سے ہے ہی نہیں۔ سکولز اور مدارس کی تقسیم، سرکاری اور نجی سطح پر نصاب اور معیارِ تعلیم میں فرق، تعلیمی اداروں اور اساتذہ کی تعداد میں کمی اور اور دیگر تمام مسائل کی جڑ اصل میں ملکی سطح پر کسی خاص منزل کے حصول کی جدو جہد کا نہ ہونا ہے۔ لہزا کسی خاص علاقے اور کسی مخصوص ادارے یا کسی خاص شعبے میں تو ہمیں انفرادی کوششوں سے قدرے حالات بہتر نظر آجاتے ہیں البتہ اس سے کبھی بھی بڑے پیمانے پر تبدیلی نہیں آ سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست چلانے اور عوام میں شعور بیدار کرنے کا ذمہ ان لوگوں نے لیا ہوا ہے جن کا تعلق تعلیمی شعبے سے ہے ہی نہیں۔

(منفی اور مثبت دونوں اعتبار سے)

اصل میں ریاست کا سیاسی نظام ہی دیگر تمام نظام کنٹرول کرتا ہے، اور ہمارے سیاسی نظام کو کس طرح چلایا جارہا ہے وہ سب کے سامنے ہیں۔

(جاری ہے)

میرے خیرات کرنے سے ہو سکتا یے کہ ایک فرد یا ایک خاص علاقے کے لوگوں کے حالات بہتر ہو جائیں لیکن اس سے غربت کے خاتمے کی امید کرنا اصل میں خود کو دھوکے میں رکھنا ہے۔ لہذا اصل حل کی طرف توجہ دینا بھی ضروری ہے۔آئیے زرا وضاحت کے ساتھ ان نکات پر بات کرتے ہیں۔

پاکستان میں دیگر تمام شعبوں کی طرح تعلیمی نظام بھی دراصل برصغیر پاک و ہند میں برطانوی راج کا ڈیزائن کیا ہوا ہے اور جس کا مقصد، ظاہر ہے کہ اس وقت کے باشندوں کو خوشحالی اور ترقی تو ہرگز نہیں تھا۔ ہاں! البتہ صرف اس حد تک کہ جس سے ان کے اپنے سارے حساب کتاب سیدھے ہو سکیں اور وہ انتظامی معاملات کو چلا سکیں۔ دوسرا یہ کہ ہر غالب قوت اپنی زیر اثر مغلوب اقوام کو کمزور سے کمزور کرنے کی پالیسی اپناتی ہے جس سے ان کا اپنا اثرورسوخ قائم رہتا ہے۔ لہذا برصغیر میں سابقہ قوت یعنی مسلمانوں کو اپنا چھینا ہوئے ورثہ دوبارہ حاصل کرنے سے روکنے کے لیے تعلیم پالیسی کا اس کے مطابق ہونا بہت ضروری تھا، جس کے وجہ سےہی دینی و دنیاوی تعلیم کا تصور وجود میں آیا۔ چونکہ ہر نئی چیز کے خلاف عوام میں ایک طرح کی رزسٹنس موجود ہوتی ہے۔ اس لیے عوامی سطح پر کئی نئے اداروں کی بنیاد پڑی جنھوں نے اپنے اپنے انداز میں تعلیمی اداروں کو چلانے کی کوشش کی جیسا کہ دیو بند کا مدرسہ اور علی گڑھ یونیورسٹی۔ لیکن یہ سارے ادارے چونکہ کسی بیرونی قوت کے زیر اثر ہونے کے باعث محدود تھے اس لیے صرف ایک خاص علاقے اور ایک خاص عوام تک ہی پہنچ سکے۔ لیکن پاکستان بن جانے کے بعد ضروری تھا کہ ایک نئے تعلیمی نظام کی بنیاد رکھی جاتی کیونکہ پاکستان کا نعرہ ایک نئے ریاستی نظام کی بنیاد پر ہی مقبول ہوا تھا۔ مگر نہ تو کوئی نیا نظام آیا اور نہ ہی اسی حساب سے تعلیمی نظام کو ترتیب دیا گیا۔۔۔۔

تعلیمی شعبے کے مسائل تین طرح کے ہوتے ہیں اور اکثر کسی ایک مسئلے کے حل دوسرے مسئلے کو مزید فروغ دیتاہے۔ مگر کیسے؟ کچھ اس طرح کہ ہر ریاست اپنی ایک تعلیمی پالیسی ڈیکلیئر کرتی ہے کہ وہ بچوں کو کیا سکھانا چاہتے ہیں، ان کو فنی و تکنیکی مہارتیں کسی طرح مؤثر انداز میں سیکھائی جاسکتی ہیں جس سے ریاست کے دیگر تمام شعبوں کو نہ صرف چلانے بلکہ ان کو ترقی دینے اور بہتر بنانے والے لوگ سامنے آسکیں، اور چونکہ ریاست پوری قوم کی ترقی و خوشحالی کی زمہ دار ہوتی ہے لہذا اسے ہر پہلو کو اپنے سامنے رکھناہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ریاست کو انڈسٹریز چلانے والے لوگ بھی چاہیے، جج بھی چاہیے، سیاست دان بھی چاہیے، علماء اور مجتہدین بھی چاہیے، سائینٹسٹ اور انوینٹر بھی چاہیے وغیرہ وغیرہ۔ اگرچہ ہر شعبے کے لوگ اپنے اپنے متعلقہ شعبہ جات میں اپنی مہارتوں کی بناء پر ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں لیکن بنیادی تعلیم سبھی کی یکساں ہوتی ہے جو ریاست خود ڈیفائین کرتی ہے۔ چونکہ پاکستان ایک مسلم ریاست ہے لہذا سبھی کی تربیت اسلامی ماحول میں عمل میں آتی ہے جس کی وجہ فزکس کی کلاس میں بیٹھے ہوئے ایک مسلمان اور کسی دوسرے نظام کے ماننے والے میں فکری فرق ہمیشہ قائم رہتا ہے۔ پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ اس طرح کا کوئی نظریاتی ڈھانچہ نہیں ہے اور جس طرح عوامی سطح پر برصغیر میں معاملات چل رہے تھے ابھی بھی ویسے ہی ہیں۔ اس کے نتائج کی سادہ مثال یہ ہے کہ لوگوں کو لگتا ہے کہ پاکستان کو ملویوں نے تباہ کیا ہے، اور مدارس کے طلباء، کالجز اور یونیورسٹیز میں پڑھنے والوں کو دین کے لیے وقت نکالنے کی ترغیب دیتے ہیں۔

دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اگرچہ ہمارے ہاں اسلامی تعلیمی نظام نہیں ہے لیکن کیا جو ہے وہ ٹھیک طریقے سے کام کر رہا ہے یا نہیں؟ تو جواب آپ بھی جانتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے، جو دراصل براہ راست پہلے مسئلے سے ہی منسلک ہے۔ جیسا کہ تعلیمی اداروں کی کمی، نجی اور سرکاری سطح پر تعلمی اداروں کے نصاب، سٹرکچر، زبان، تربیت اور معیارِ تعلیم میں کچھ فرق اور بہت حد تک تضاد، وغیرہ وغیرہ۔ اب اگر ہم ان چیزوں کو قدرے بہتر کر بھی لیں تو ایک اسلامی ریاست کے باشندے کو کس طرح سوچنا اور عمل کرنا چاہیے وہ ابھی بھی کہیں موجود نہیں ملے گا۔

تیسرا مسئلہ بظاہر بہت بڑا لیکن ریاستی سطح پر بہت چھوٹا ہے اگر مناسب ڈھانچہ ترتیب دیا ہوا ہو جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے۔ جیسا کہ امتحانات کا نظام، رٹہ سسٹم، اکیڈمی کلچر، ٹیوشن سسٹم وغیرہ، جس کی وجہ سے ہمیں لگتا ہے کہ پاکستان کے طالب علم دوسرے ملک کے طلباء سے کافی پیچھے ہیں۔ جوکہ دراصل ایک کولونئل نظام کا ہی مرہون منت ہے۔

اب سب سے ضروری بات یہ کہ کیا یہ سب اصلاحات ممکن ہیں؟ تو جواب ہے کہ یہ سب چیزیں موجودہ نظام کے ساتھ compatibleہی نہیں ہیں۔ چونکہ اس طرح کی ساری تبدیلیاں براہ راست سیاست کے ساتھ جڑی ہیں اور حالیہ نظام میں اقتدار حاصل کرنے کا واحد راستہ ہی ان تمام مسائل کا موجود ہونا ہے۔ ایک MNA بننے کے لیے کیا ضروری ہے اور پاڑٹی کا انتخا بات جتنے کے لیے کن لوگوں کو ساتھ ملانا پڑتا ہے، عوام کو کس طریقے سے کنٹرول کرنا پڑتا ہے، لوگوں کے مفادات کے ساتھ ساتھ اپنے مفادات کیسے حاصل کرنے ہیں یہ سب چیزیں سیاسی نظام کے ساتھ جڑی ہیں۔ مزید کسی بھی انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے وسائل درکار ہوتے ہیں اور اس سےبھی اہم کہ ان کو کس طرح استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک ادارے کے لیے فنڈز کی منظوری سے لے کر اس کی تکمیل تک کیا کچھ جھیلنا پڑتا ہے ،اس سے یہ سمجھنا آسان ہے کہ تعلیم کا شعبہ ریاست کے باقی شعبوں کے ساتھ منسلک ہوتا ہے۔ چونکہ ابھی ہمارے تعلیمی فنڈز باہر زیادہ تر باہر سے آتے ہیں، ہمارے اپنے وسائل استعمال کرنے میں ہم آزاد نہیں، غیر سرکاری اداروں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے تو یہی کہنا کافی ہے کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔

آخری بات یہ کہ ہر کسی کو ذاتی طور پر اپنی حیثیت کے مطابق جتنا ہو سکے بہتری کے لیے کام کرتے رہنے چاہیے۔ لیکن اگر ریاست بھی صرف سکالرشپ دینے، اساتذہ کی تنخواہ بڑھانے، نئے سکولز اور کالجز بنانے کو تعلیمی نظام میں بہتری سمجھتی ہےتو میرے خیال سے یہ پچھلے کئی سالوں سے ہو رہا ہے جس کی تصدیق کے لیے پرانے اخبار پڑھے جاسکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین :

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

hamara taleemi nizam, aakhir masla kya hai? is a Educational Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 08 June 2019 and is famous in Educational Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.