تعلیم کا مقصد شعور با نٹناہے اسکو کاروبار نہ بنایا جائے

پہلے تعلیم حاصل کرنے کے لیے لوگوں میں ایک جذبہ پایا جاتا تھا جو کہ آج زمانے کی تیزی کی وجہ سے بالکل ختم ہو گیا ہے۔ آج کل لوگوں نے تعلیم کو ایک کاروبار بنالیا ہے

پیر اپریل

Taleem ka maqsad shaoor bantna hai isko karobar nah banaya jaye
محمد عزیز جاوید رانا
تعلیم ایک زیور ہے۔ یہ ایک مشہور مقولہ ہے۔ اور اس زیور کو حاصل کرنا ہرکسی پرفرض ہے۔ تعلیم کی جو شکل آج ہمارے معاشرے میں موجود ہے اس کا تصور بالکل نہیں کیا جا سکتا تھا۔ آج کی تعلیم زمانے کے ساتھ ساتھ جد ید ہوگئی ہے اور اسی نے بھی بے پناہ منزلیں طے کر لی ہیں۔ پہلے تعلیم حاصل کرنے کے لیے لوگوں میں ایک جذبہ پایا جاتا تھا جو کہ آج زمانے کی تیزی کی وجہ سے بالکل ختم ہو گیا ہے۔

آج کل لوگوں نے تعلیم کو ایک کاروبار بنالیا ہے اور اس کی مدد سے بے شمار پیسہ کمایا جا رہا ہے۔ آج کے دور میں جدید تعلیمی نظام کے نام پر طالب علموں کو بے شمار کتابیں تھما دی جاتی ہیں جن کو سنبھالنا ان نازک کندھوں کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔ اور اس کے ساتھ بچوں کے بستے، جس میں ایک وقت میں چندگنتی کی کتا ہیں قلم دوات اورت ہوتی تھی جبکہ اس کے مقابلے میں آج کل کے بچوں کو جب سکول بھیجا جاتا ہے تو اس وقت ہی کم و بیش اتنی کتابیں موجود ہوتی ہیں کہ ان کا وزن اٹھانا ان ننھی جانوں کے لیے کسی محاذ کو سر کرنے کے برابر ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

آج سے چند روز پہلے کی بات ہے کہ ایک دن میرا گزر چھٹی کے وقت ایک سکول کے پاس سے ہوا۔ وہاں پر ایک بچہ فٹ پاتھ پر کتابوں سے لد ے بستے کو گھسیٹتا ہوا جا رہا تھا۔ گرمیوں کی تپتی ہوئی دوپہر میں وہ بچہ پسینے سے شرابور تھی تھکن اور نقاہت اس کی چہرے سے عیاں ہو رہی تھی۔ کبھی وہ بستے کو دائیں ہاتھ سے کھینچتا اورکبھی بائیں ہاتھ سے ، ایک لمحہ کے لیے اس پر بہت ترس آیا اور سوچا اس ننھی جان کی کچھ مددکی جائے مگر پھر اس نیک عمل سے صرف اس لیے بازرہے کہ اس طرح کے بے شماربچے یہاں موجود ہیں۔

جن کے کندھوں پر بھاری بھرکم بستے لدے ہوئے ہیں۔ ہم نے بھی طالب علمی کا وقت گزارا ہے۔ سکول سے لے کر کالج کا پھر کالج سے یونیورسٹی کا مگر کسی بھی وقت میں ہمارے بستے اتنے بھاری نہیں ہوئے تھے، بلکہ شاید ہمارے بستوں کا وزن ان بستوں کے آدھے وزن سے بھی کم رہا ہو گا۔ پتا نہیں کیوں آج کل تعلیم کے نام پر معصوم جانوں کے کندھوں پر اتنا بوجھ ڈالا جارہا ہے۔

ایک تو اس بستے کا اتناوزن، اور اگر اس کی بیلٹ ٹوٹ جائے تو وہ اس معصوم جان کے لیے وبال جان بن جاتا ہے۔ ایک تو ویسے ہی اتنا بھاری بھرکم بستہ سنبھالنا اتنا مشکل ہے اور اس کے ساتھ ہی اس کی بیلٹ کا ٹوٹ جانا کسی امتحان سے کم نہیں ہے۔ اسی طرح اچانک ایک دن برنس روڈ اردو بازار سے گزر ہوا۔ وہاں پر ایک 60 یا 65 برس کے ایک بزرگ کو دیکھا جن کے کندھوں پر چار بھاری بھرکم بستے لدے ہوئے تھے اور چار بچے ان کے ساتھ چل رہے تھے جن میں سے دو بچوں کی انہوں نے انگلیاں تھام رکھی تھیں۔

جب میں نے ان سے گفتگو کی تو انہوں نے بتایا کہ ان بچوں کے والدین ان کو5000 روپے ماہوار اسی کام کے دیتے ہیں کہ گھر سے ان بچوں کے بھاری بستے اٹھا کر ان کو سکول چھوڑنا ہے اور چھٹی کے وقت ان کو دوبارہ گھر چھوڑنا ہے۔ اگر ہم سکولوں کو جانے والی ٹرانسپورٹ کی بات کریں تو ان کی بھی کچھ اسی طرح کی حالت ہوتی ہے۔ اس میں بچے وین کے اندر اور ان کے بستے وین کے اوپر موجود ہوتے ہیں اور اتنے بھاری ہوتے ہیں کہ بعض اوقات ان کی بیلٹ ٹوٹ کر درمیان راہ گر جاتے ہیں اور حادثات کا باعث بھی بنتے ہیں۔

ان سب مسائل میں ایک اہم مسئلہ بچوں کو پڑھائی جانے والی کتب کا ہے۔ آج کل ہر تعلیمی ادارہ دوسرے تعلیمی ادارے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں شامل ہے۔ سکولوں کو انگلش میڈیم کر دیا گیا ہے خواہ وہ سرکاری ہیں یا پرائیوٹ۔ جبکہ ہماری قومی زبان اردو ہے۔ اور مادری زبان پنجابی ہے۔ گھروں میں بچوں کو اردو سکھائی جاتی ہے اورتعلیمی اداروں میں انگریزی کی مدد لی جاتی ہے جس کی وجہ سے بچوں کو اس میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اور وہ پڑھائی پر توجہ مرکوز نہیں کر پاتے۔ کیونکہ زبان کی بار بار تبدیلی کی وجہ سے ان کوسمجھنے میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آج کل تقریبا ہر سکول میں Oxford کا نصاب لگا یا جا رہا ہے جو کہ آسان نہیں ہوتا ہے اور بچوں کے لیے اسے پڑھنا مشکل ہوجاتا ہے۔ سرکاری سکولوں کے حالت زار پر دل کڑتا ہے کہ ایک وقت تھا کہ داخلہ لینے کے لیے بھی لمبی قطاریں لگی ہوتی تھیں مگر آج کے دور میں سرکاری سکولوں میں معیاری تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے کوئی داخلہ نہیں لیتا۔

ہر کوئی پرائیوٹ سکولوں میں جانے کو ترجیح دیتا ہے۔ مگر پرائیوٹ سکولوں میں اونچے طبقے کے لوگ تو اپنے بچوں کوبھیج دیتے ہیں مگر غریب لوگ ان سکولوں کی فیس ادا نہیں کر سکتے اور ان کے بچے تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ہمارے ملک میں جو تعلیم کا نظام رائج ہے اس کو ہم کسی صورت میں مناسب تعلیمی نظام نہیں کہہ سکتے۔ کیونکہ اس میں صرف وہ بچے اچھی تعلیم حاصل کر سکتے ہیں جن کے والدین کے پاس ذرائع اچھے ہیں۔

یا ان کے پاک سر ما یہ زیادہ ہے۔ غریب کا یہ اچھی تعلیم حاصل کرنے کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں دو طرفہ نظام تعلیم رائج ہے ایک اونچے طبقے کے لیے اور دوسرا نچلے طبقے کے لیے۔ جس کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں ایک خلا پیدا ہو رہا ہے جس کو پرُ کرنا بہت مشکل ہوتا جارہا ہے۔ میری اپنی رائے صرف یہی ہے کہ اگر ہم تعلیم کے میدان میں سود مند اصلاحات کریں جس کا فائدہ پاکستان کی ساری عوام کو ہو اور سب کے لیے یکساں اور آسان تعلیمی نظام ہو اور تمام کتب پاکستان کی قومی زبان میں ہوں تو ہمارا ملک ایک الگ ملک کی حیثیت سے اُبھر کر سامنے آئے گا۔

کیونکہ کسی بھی ملک کی تقدیر اس کے نو جوان ہوتے ہیں جو آگے جا کر اس ملک کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر ان کو آج اچھاتعلیمی نظام دیا جائے تو مستقبل میں وہ پاکستان کو پوری دنیا میں ایک اعلیٰ مقام ولوانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ کاش تعلیم کو صحیح معنوں میں معاشرے کی اصلاح و ترقی کے لیے بڑھایا اور سکھایا جائے۔ ہمیں اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرنا ہو گا۔ تا کہ قوم کے اس مستقبل کو محفوظ اور فائدہ مند بنایا جا سکے۔ کیونکہ ہمیں اپنا مستقبل جاری نہیں بلکہ روشن کرنا ہے۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Taleem ka maqsad shaoor bantna hai isko karobar nah banaya jaye is a Educational Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 30 April 2018 and is famous in Educational Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.