وہ کون سے ایسی قربانی ہے جوکشمیریوں نے اسلام کی خاطر نہیں دی؟

دو قومی نظریہ ‘ پاکستان کے استحکام اورتحریک آزادی کشمیر کی کامیابی کاضامن کشمیری اسلام کی وجہ سے پاکستان سے محبت اور الحاق پاکستان چاہتے ہیں

ہفتہ مارچ

Wo Konsi Aisi Qurbani Hai Jo Kashmirion Ne Islam Ki Khatin Nehin Di
ابوالہاشم ربانی :
مسلمان اور ہندو دو الگ الگ قومیں ہیں ، دونوں کے الگ الگ نظریات ہیں ۔ ہندوؤں نے ہمیشہ مسلمانوں کو اپنا دشمن سمجھا، دوسری طرف مسلمان بھی یہ سمجھتے ہیں کہ ہندو کے ہاتھوں مسلمانوں کے حقوق کبھی محفوظ نہیں رہ سکتے ۔ دونوں کے مفادات الگ ہیں ، خیالات ونظریات اور رجحانات جداہیں ۔ تاریخ وتمدن ، آداب ، ورسوم ، اطوارواخلاق ، خوراک وپوشاک ، مساوات اور اسکا تصور ، سرمایہ ، سرمائے کا استعمال اور سرمائے کی تقسیم کے متعلق زاویہ نگاہ ، غرض یہ کہ ہرمادی اور روحانی جڑجو کہ زندگی پر کسی طریق سے اثر ڈال سکتا ہے ، ہندوؤں سے مختلف ہے ۔

مسلمانوں کی دنیا الگ ہے اور ہندو کا سنسار جدا ۔ تخلیق آدمیت سے لے کر اب تک اسی چیز کا نام دو قومی نظریہ اور حق وباطل ہے ۔

(جاری ہے)

اسی جذبہ پر لاکھوں مسلمانوں نے تقسیم برصغیر کے وقت جام شہادت نوش کیا اور طرح طرح کے ظلم وستم کوسینے سے لگایا ۔ اسی دو قومی نظریہ نے ہندوستان کے تین کروڑ مسلمانوں کو اپنا سب کچھ لٹا کر ایک نئے ملک” پاکستان “ کی طرف ہجرت کرنے پرمجبور کیا تھا ۔


یہی وہ دو قومی نظریہ ہے جو پچھلے 130سالوں سے کشمیریوں کی طاقت بناہوا ہے ۔ کشمیر کے لوگ مسلمان ہیں اور اسلام پر جان نچھاور کے دلوں سے خوف کے سائے ۔ چھین کر انہیں ایمان ویقین کا علمبردار بنا دیا ہے ۔ اگر آج کشمیری یہ اعلان کردیں کہ ہمیں پاکستان سے الحاق نہیں کرنا ہے اور نہ ہی ہمیں اسلام کی بنیادوں پر آزادی چاہیے ہمیں انڈیا کے ساتھ رہنا منظور ہے ۔

توانڈیا کشمیر میں دودھ کی نہریں بہادے گا مگر کسی ایک کشمیری نے بھی دنیوی عیش وآرام کو اسلام ، آزادی اور دو قومی نظریہ پر ترجیح نہیں دے اپنے ایمان سے دغا کر کے ہندوؤں کی آغوش میں پناہ نہیں لی ۔ وہ کون سی ایسی قربانی ہے جو کشمیریوں نے اسلام کی خاطر نہیں دی ؟ وہ کون سا ایسا ظلم ہے جوکشمیریوں نے حق کی خاطر برداشت نہیں کیا ۔ وہ کون سا ایسا قہر ہے جو ان پرپاکستان سے الحاق کے جرم میں ڈھاپانہ گیا ہو ۔

وہ کون سی ایسی وحشت وبربریت ہے جس کا سامنا کشمیریوں نے اسلام کے لیے نہ کیا ہو۔ چٹان کی طرح ڈٹے ہوئے کشمیریوں کا ایک ہی نعرہ ہے کہ ” کشمیر بنے گا پاکستان “ کشمیریوں کا یہ نعرہ آج سے نہیں بلکہ یہ بھی تھا جب 1944ء میں قائداعظم محمدعلی جناح نے کشمیر کا دورہ کیا تھا ۔ قرار داد لاہور کو پاس ہوئے صرف چار سال ہوئے تھے اور مسلم لیگ کا رکردگی تسلی بخش جارہی تھی ۔

کشمیر کی دو سیاسی جماعتوں نیشنل کا نفرنس اور مسلم کا نفرنس نے دورہ کشمیر کے لئے قائداعظم کو دعوت دی قائداعظم متحدہ ہندوستان کے پہلے اور واحد لیڈر تھے جنہیں ریاست جموں وکشمیر کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے دورے کے لیے دعوت دی تھی یہ ہی نہیں کشمیری حکومت کے وزیراعظم سربینی گالی نرسنگ راونے بھی سرکاری سطح پر قائد اعظم کو دعوت نامہ بھیجا۔

پھر قائداعظم کا کشمیر پہنچے پر جو شاندار استقبال کیا گیا وہ اس بات کی واضح دلیل تھا کہ کشمیر کے عوام بھی اپنے آپ کو فقط پاکستانی کہلوانا چاہتے ہیں ۔ چنانچہ سوچیت گڑھ سے جموں تک اور جموں میں قیام کے بعد بانہال سے سری نگر تک قائداعظم کا جوشاندار استقبال ہواوہ اب تک کشمیر کے راجہ ، مہاراجہ یانگریز سرکار کے کسی افسر کے حصے میں نہیں آیا تھا ۔

اس استقبال کے بعدایک غیر ملکی مبصر نے لکھا تھا کہ اگرچہ گاندھی اور نہرو بیرونی دنیا میں ہندوستان کی تحریک کے علمبرادار سمجھے جاتے ہیں لیکن حقیقت میں ہندوستان کے سیاسی سٹیج پر مقبول اور زور دار شخصیت محمد علی جناح کی ہی ہے ۔ اپنے استقبال میں قائداعظم نے ایک ایسا جملہ کہا جس نے کشمیریوں کو پاکستان کے حق میں یک جان ویک قالب کردیا۔

قائداعظم نے کہا ” کشمیر کے لوگو ! آپ نے استقبال محمد علی جناح کا نہیں کیا بلکہ ہندوستان میں مسلمانوں کی آزادی کی نمائندہ جماعت آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر کاکیا ہے ۔ یہ جلسہ اتنا بڑا تھا کہ آج تک کشمیر میں کسی سیاسی جماعت کو اتنی عوام نصیب نہیں ہوئے ۔ اس میں سری نگر سے باہر میر پور، پونجھ ، مظفرآباد ، گلگت ، لداخ ، جموں اور کشمیر کے گرد نواح سے بھی لوگ آئے تھے ۔

اخبارات کی اطلاعات کے مطابق جلسہ میں ایک لاکھ افراد شریک ہوئے تھے ۔ کشمیر کی تاریخ میں پہلی بار کسی جلسے میں عورتیں بھی شریک ہوئیں جن کی تعداد بھی ہزاروں میں تھی ۔ یہ بھی اطلاع ملی کہ سری نگر کے تمام سرکاری ملازم مسلم پارک کے ارد گرد پرائیوٹ مکانوں میں قائداعظم کی تقریرسن رہے تھے ۔ اس جلسے کا اثر اتنا گہرا ہوا کہ وہ لوگ جنہوں نے اب تک پاکستان کے ساتھ الحاق کے بارے میں کوئی خاص ذہن نہیں بنایا تھا وہ بھی پاکستان کے حامی بن گئے ۔

قائداعظم نے کشمیر کے لوگوں میں جذبہ آزادی اُبھارتے ہوئے فرمایا تھا کہ ” ہمارا اللہ ایک ، ہمارا رسول ﷺ ایک ، کتاب ایک اور دین ایک ہے ہمارے تنظیم اور قائد بھی ایک ہونا چاہیے ۔ قائداعظم کے اس جلسہ سے لے کر آج تک کے تمام جلوسوں میں کشمیری حریت قائدین کا ایسے ہی استقبال کرتے ہیں ۔ جلسہ گاہ میں ان کی تعداد اسی قدرہوتی ہے سامعین کے آزادی کے نعرے بھی اسی جوش وخروش سے ہوتے ہیں آززادی کا مطلب کیا لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ ۔

اور قائدین کی تقریروں میں جذبات اورپیغام بھی وہی ہوتے ہیں ۔
انڈیا کا یہ دعویٰ ہے کہ کشمیر اس کا اٹوٹ انگ ہے ۔ شاید وہ یہ بھول گیا کہ کشمیر کبھی اس کا حصہ تھا ہی نہیں بھارتی آئین کی خاص دفعہ 370 کے تحت کشمیر بھارت کے پبلک سروس کمیشن سپریم کورٹ اور آئین سازا اسمبلی سے باہر تھا ۔ کشمیر کا پرچم ترانہ اور زبان بھی بھارت سے الگ تھی ۔ بعد میں نہرونے اس میں ترمیم کی ۔

آج کل کشمیر کے ہر چوک وچوراہے میں ایک ہی نعرہ گونج رہا ہے ۔” کشمیر بنے گا پاکستان “ یہ نعرہ اس وقت بھی بہت وگونجاتھا جب انڈیا نے اپنی فوج کو کشمیر میں ظالمانہ تسلط کے لیے داخل کیا تھا ۔ جب انڈین فوج سری نگر شہر میں داخل ہوئی تو سری نگر شہر کی ہر گلی میں کشمیری بچے ، بوڑھے اور جوان “ کشمیر بنے گا پاکستان “ کے نعرے لگا کر ہر روز جلوس نکلاتے تھے تب ریاستی حکومت نے بالکل آج کی طرح بہتر بہتر گھنٹے کرفیو لگائے ۔

تقریباََ دس ہزار افرد کو فوری گرفتار کیاگیا ۔ یہان تک کہ جیلوں میں گنجائش باقی نہیں رہی ۔ مجاہدین کی مدد کے الزام میں نوجوان کشمیریوں کو ملٹری کے زیرنگرانی فوجی بیر کوں میں بند کردیا گیا ۔ جموں کے ایک پرانے قلعے کو جیل میں تبدیل کردیا گیا ۔ جس طرح آن انڈین فوج ٹرکوں پر مشین گنیں نصب کرکے گھومتی ہے تب بھی اسلام آباد ، بارہ مولہ اور سوپور وغیرہ کایہی حال تھا ۔

تب بھی انڈیا کشمیر کی آواز کو نہیں دباسکا تھا اور آج بھی نہیں دبا سکے گا ۔
انڈیا شاید یہ بھول چکا ہے کہ پاکستان نے صرف 15ماہ کشمیری عوام کی مسلح جدوجہد میں شرکت کی تھی ۔ ان پندرہ ماہ میں آدھا کشمیر انڈیا کے چنگل سے آزاد ہوگیا تھا ۔ تب انڈیا بھاگا بھاگا یواین پہنچا تھا اور جنگ بندی کی درخواست کی تھی ۔ کشمیر کی مسلح جدوجہد میں سب سے پہلے جسے مرد مجاہد سردار عبدالقیوم خان نے گولی چلائی تھی وہ جاتے جاتے بھی ہندوستان کے خلاف قلمی جہاد اور کشمیریوں میں تادم آخر آززادی کی لہر پھونک کرگئے ہیں ۔

مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان اپنی کتاب ” کشمیر بنے گا پاکستان “ میں یہ پیغام دیتے ہیں کہ کشمیریوں کے پاس دوہی راستے ہیں اول کشمیری بھارت کوبڑا ملک تسلیم کرتے ہوئے ہتھیار ڈال کر صلح کر لیں اور بھارت کے کشمیر پر ناجائز قبضے کو تسلیم کرلیں ۔ جیسا کہ وہ چاہتا ہے ۔ دوم یہ کہ انگریزا گر سوچی سمجھی سازش کے تحت پٹھا نکوٹ انڈیا کو نہ دے دیتا تو کشمیر کا مسئلہ ہی نہیں بننا تھا ۔

گویا یہ مسئلہ دانستہ طور پر سازش کرکے اسی لیے پیدا کیاگیا تھا کہ پاکستان کی سرحدات مکمل نہ ہوسکیں اور بالآخر مجبورہو کر خود ہی پکے ہوئے پھل کی طرح بھارت کی جھولی میں آگرے ۔ لیکن انڈیا خود ہی اس سے پریشان ہوگا کیونکہ ریاست جموں کشمیر جغرافیائی ، معاشرتی ، دفاعی ، تاریخی اور اقتصادئی طور پر ملک پاکستان کا طبعی حصہ ہے ۔ قارئین کرام ! قائداعظم محمد علی جناح کے جلسے اور سردار عبدالقیوم خان کی جہادی وعملی کاوش انڈیا کے لیے اس بات کا واضح پیغام ہے کہ کشمیر کبھی انڈیا کا حصہ نہ تھا ، نہ ہے اور نہ ہوگا۔

کشمیری صرف اسلام کی وجہ سے پاکستان سے محبت کرتے ہیں ا ور اسی وجہ سے پاکستان ہی سے الحاق چاہتے ہیں ۔ اقوام متحدہ نے 1948ء میں جو کشمیریوں سے حق خودارادیت کا کہا تھا ۔ انڈین فوج کشمیریوں کی نسل کشی کررہی ہے ۔ اقوام متحدہ اور عالمی قوتیں مل کر مظلوم ومقبور کشمیریوں کو وعدہ کے مطابق ان کا حق دلائے ۔ یہ اقوام متحدہ کی ذمہ داری بھی ہے اور عہد کی پاسداری بھی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کشمیریوں کو جلد آزادی کی نعمت عطاء فرمائے ۔ آمین

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Wo Konsi Aisi Qurbani Hai Jo Kashmirion Ne Islam Ki Khatin Nehin Di is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 25 March 2017 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.