عالمی یومِ ماحولیات :پاکستان میں جنگلات کی تباہی اور بیڈگورنس

گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران پاکستان کے جنگلات کو غیر قانونی کٹائی، بے قابو شہری پھیلاﺅ، ناقص زمین کے استعمال کی منصوبہ بندی، جنگلاتی آگ، حد سے زیادہ چرائی اور ماحولیاتی قوانین کے کمزور نفاذ کی وجہ سے شدید نقصان پہنچا ہے

Mian Muhammad Nadeem میاں محمد ندیم ہفتہ 6 جون 2026

World Environment Day - Pakistan Mein Forests Ki Tabahi Aur Bad Governance
ہر سال 5 جون کو دنیا بھر میں عالمی یومِ ماحولیات منایا جاتا ہے، جس کا مقصد ماحولیاتی چیلنجز کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا اور کرہ ارض کے تحفظ کے لیے اجتماعی کوششوں کو فروغ دینا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ دن محض ایک علامتی موقع نہیں بلکہ ملک میں بڑھتے ہوئے ماحولیاتی بحران پر غور کرنے اور فوری اصلاحات کی ضرورت کو سمجھنے کا ایک اہم موقع ہے۔ پاکستان کو درپیش متعدد ماحولیاتی مسائل میں جنگلات کی تیزی سے تباہی سب سے سنگین مگر مسلسل نظرانداز کیا جانے والا مسئلہ ہے۔

جنگلات کی مسلسل کٹائی، کمزور حکمرانی اور پالیسیوں کی ناکامی ملک کی ماحولیاتی بقا، معاشی ترقی اور طویل مدتی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔جنگلات فطرت کا ایک نہایت قیمتی سرمایہ ہیں۔ یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں، آکسیجن پیدا کرتے ہیں، حیاتیاتی تنوع کو محفوظ رکھتے ہیں، آبی چکروں کو منظم کرتے ہیں، مٹی کے کٹاﺅ کو روکتے ہیں اور قدرتی آفات کے اثرات کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

(جاری ہے)

صحت مند جنگلات دیہی معیشتوں کو سہارا دیتے ہیں، جنگلی حیات کو مسکن فراہم کرتے ہیں اور ماحولیاتی پائیداری میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان فوائد کے باوجود پاکستان ایشیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں جنگلات کا رقبہ نہایت کم یعنی کل زمین کے 6 فیصد سے بھی کم ہے، جو ماحولیاتی توازن کے لیے درکار معیار25فیصد سے بہت کم ہے۔گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران پاکستان کے جنگلات کو غیر قانونی کٹائی، بے قابو شہری پھیلاﺅ، ناقص زمین کے استعمال کی منصوبہ بندی، جنگلاتی آگ، حد سے زیادہ چرائی اور ماحولیاتی قوانین کے کمزور نفاذ کی وجہ سے شدید نقصان پہنچا ہے۔

مختلف حکومتوں نے ماحولیاتی تحفظ کی اہمیت کو تسلیم کیا، لیکن عملی اقدامات اکثر ناکافی رہے۔ شجرکاری مہمات کو تو میڈیا پر نمایاں کوریج ملتی ہے، مگر جنگلات کے تحفظ اور پائیدار انتظام پر توجہ کم دی جاتی ہے۔اس غفلت کے نتائج اب واضح طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہیں، حالانکہ عالمی گرین ہاﺅس گیسوں کے اخراج میں اس کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔

ملک میں شدید گرمی کی لہریں، تباہ کن سیلاب، طویل خشک سالی، غیر متوقع بارشیں اور شمالی علاقوں میں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین خبردار کر چکے ہیں کہ اگر قدرتی ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ آفات مزید شدید اور بار بار وقوع پذیر ہوں گی۔پاکستان میں جنگلات کی تباہی کی بڑی وجوہات میں غیر قانونی لکڑی کی کٹائی شامل ہے۔

دور دراز پہاڑی علاقوں میں لکڑی مافیا سرگرم ہے جہاں حکومتی نگرانی کمزور ہے۔ قیمتی درخت غیر قانونی طور پر کاٹے جاتے ہیں اور منظم نیٹ ورکس کے ذریعے منتقل کیے جاتے ہیں۔ ماحولیاتی کارکن اور مقامی لوگ طویل عرصے سے اس غیر قانونی سرگرمی پر تشویش کا اظہار کرتے آ رہے ہیں۔کرپشن اور سیاسی مداخلت نے بھی جنگلات کے تحفظ کے عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

بعض اوقات لکڑی کی غیر قانونی تجارت میں ملوث افراد کو بااثر حلقوں کی سرپرستی حاصل ہوتی ہے، جس کی وجہ سے احتساب مشکل ہو جاتا ہے۔ جب تک حکومتیں سنجیدہ سیاسی عزم کا مظاہرہ نہیں کرتیں، جنگلات کے تحفظ کی کوششیں مو ¿ثر ثابت نہیں ہو سکتیں۔تیز رفتار آبادی میں اضافہ اور غیر منصوبہ بند شہری توسیع بھی ماحولیاتی بگاڑ کا ایک اہم سبب ہے۔ شہروں کے پھیلاو ¿ کے ساتھ ساتھ جنگلات اور سبز علاقے رہائشی اسکیموں، تجارتی منصوبوں، سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے ختم کیے جا رہے ہیں۔

ماحولیاتی اثرات کی جانچ (EIA) اکثر محض رسمی کارروائی بن کر رہ گئی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتی قدرتی وسائل کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔یہ صورتحال خاص طور پر خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں تشویشناک ہے، جہاں جنگلات پانی کے بہاﺅکو منظم کرنے، زمین کے کٹاﺅ کو روکنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ان جنگلات کی تباہی نہ صرف حیاتیاتی تنوع کے لیے خطرہ ہے بلکہ ان علاقوں میں بسنے والے لاکھوں افراد کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈال رہی ہے۔پاکستان میں حالیہ برسوں میں آنے والے تباہ کن سیلاب ماحولیاتی بدانتظامی کی واضح مثال ہیں۔ اگرچہ موسمیاتی تبدیلی نے ان سیلابوں کی شدت میں اضافہ کیا، لیکن ماہرین کے مطابق جنگلات کی کٹائی، آبی گزرگاہوں پر تجاوزات، ناقص نکاسی آب اور غیر پائیدار زمین کے استعمال نے نقصان کو کئی گنا بڑھا دیا۔

صحت مند جنگلات بارش کے پانی کو جذب کر کے سیلاب کی شدت کو کم کرتے ہیں، لیکن ان کی تباہی سے پانی تیزی سے بہہ کر تباہی کا باعث بنتا ہے۔پنجاب میں فضائی آلودگی اور سموگ کا بحران بھی ایک بڑا ماحولیاتی چیلنج ہے۔ ہر سال سردیوں میں لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور ملتان جیسے شہر شدید سموگ کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں۔ یہ سموگ انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے اور سانس کی بیماریوں، دمہ،پھیپھڑوں اور آنکھوں کے امراض میں اضافہ کرتی ہے۔

اس بحران کی وجوہات میں گاڑیوں کا دھواں، صنعتی آلودگی، فصلوں کی باقیات جلانا، تعمیراتی گردوغبار اور شہری سبزہ زاروں کی کمی شامل ہیں۔ جنگلات اور درختوں کی کمی اس مسئلے کو مزید سنگین بناتی ہے کیونکہ درخت آلودگی کو جذب کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔بدقسمتی سے حکومتی اقدامات زیادہ تر ردعمل پر مبنی ہوتے ہیں، جبکہ مسئلے کی جڑ کو حل کرنے کے لیے طویل المدتی حکمت عملی کی ضرورت ہے، جس میں صاف توانائی، مضبوط ٹرانسپورٹ نظام، سخت صنعتی قوانین اور وسیع پیمانے پر شجرکاری شامل ہے۔

پاکستان کے ماحولیاتی ادارے بھی شدید مالی اور انتظامی مسائل کا شکار ہیں۔ ماحولیاتی تحفظ کے اداروں کے پاس محدود بجٹ، پرانا آلات، کم تربیت یافتہ عملہ اور جدید ٹیکنالوجی کی کمی ہے۔ نتیجتاً ماحولیاتی قوانین کا مو ¿ثر نفاذ ممکن نہیں ہو پاتا۔پالیسیوں میں تسلسل کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ہر نئی حکومت پرانی پالیسیوں کو تبدیل کر دیتی ہے، جس سے ماحولیاتی منصوبے ٹکڑوں میں بٹ جاتے ہیں اور ان کا موثر نفاذ ممکن نہیں رہتا۔

ماحولیاتی تعلیم اور عوامی شعور کی کمی بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ زیادہ تر عوام جنگلات کی تباہی اور ماحولیاتی نقصان کے طویل المدتی اثرات سے آگاہ نہیں ہیں۔ اس کے لیے تعلیمی اداروں، میڈیا اور سول سوسائٹی کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔پاکستان کی سیاحت کی صنعت بھی ماحولیاتی بگاڑ سے متاثر ہو رہی ہے۔ شمالی علاقوں میں بے قابو سیاحت، غیر قانونی تعمیرات، پلاسٹک آلودگی اور قدرتی مساکن کی تباہی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

اگر مناسب اقدامات نہ کیے گئے تو یہی قدرتی خوبصورتی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔کمیونٹی کی شمولیت، جدید ٹیکنالوجی، سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور سخت قانون نافذ کرنے کے ذریعے جنگلات کے تحفظ کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر پاکستان کو محض نعروں اور تقریبات سے آگے بڑھ کر ایک جامع قومی ماحولیاتی حکمت عملی اپنانا ہوگی، جس میں جنگلات کا تحفظ مرکزی حیثیت رکھتا ہو۔

ماحولیات کا تحفظ کوئی لگژری نہیں بلکہ قومی ضرورت ہے۔ ہر درخت جو کٹتا ہے وہ ملک کی کمزوری میں اضافہ کرتا ہے، اور ہر محفوظ جنگل مستقبل کو مضبوط بناتا ہے۔پاکستان کے پاس دو راستے ہیں یا تو وہ ماحولیاتی تباہی کی طرف سفر جاری رکھے یا اپنے قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اور فیصلہ کن اقدامات کرے۔ آنے والی نسلیں آج کے راہنماﺅں کو ان کے وعدوں سے نہیں بلکہ ان کے محفوظ کردہ جنگلات اور بہتر ماحول سے یاد کریں گی۔عالمی یومِ ماحولیات ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ماحولیات کا تحفظ کوئی انتخاب نہیں بلکہ بقا کا مسئلہ ہے۔

ادارہ اردوپوائنٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

متعلقہ مضامین :

World Environment Day - Pakistan Mein Forests Ki Tabahi Aur Bad Governance is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 06 June 2026 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.