
مدرسہ ڈسکورس ان قطر!
ہفتہ 19 جنوری 2019

محمد عرفان ندیم
(جاری ہے)
دوسری پریزنٹیشن شاہ ولی اللہ کے افکار کی روشنی میں شریعت اور تمدن کے باہمی تعلق کے حوالے سے تھی ، اس حوالے سے شاہ صاحب کی کتاب حجة اللہ البالغہ کی کچھ مباحث کو بنیاد بنایا گیا تھا ۔شاہ صاحب کا نقطہ نظر یہ ہے کہ شریعت اور تمدن کا آپس میں گہرا تعلق ہے اور شریعت کی تنزیل و تکمیل تمدنی ضروریات کو مد نظر رکھ کرکی جاتی ہے ۔ شاہ صاحب تمدنی علوم ،عقائد و افکاراور عادات کو تکمیل شریعت کی بنیاد قرار دیتے ہیں ۔ یہ سوال کہ اگر تمدن ہی شریعت کی بنیاد ہے تو انبیاء کی بعثت کا کیا مقصد باقی بچتا ہے تو شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ دین ایک ہی ہے البتہ شرائع مختلف ہیں اور شرائع کے مختلف ہونے کی وجہ ان کا وہ خاص تمدن ہے جس دور میں وہ نازل ہو رہی ہیں ۔ جب کسی تمدن میں ایسی رسوم جڑ پکڑنے لگیں جو اصل دین، انسانی فطرت اور مشترکہ انسانی قدروں کے خلاف ہوں تو ایسی صورت میں اللہ کسی نبی یا مجدد کو مبعوث فرماتے ہیں جو دین کو اپنی اصل حالت ، فطرت انسانی کے خلاف رسوم اور مشترکہ اخلاقی اقدار کو اپنی اصل حالت میں برقرار رکھتے ہیں اور اس اصلاح میں بھی اس خاص تمدن کی ضروریات کو مد نظر رکھا جاتا ہے ۔
تیسری پریزنٹیشن میں حدود و تعزیرات کی ابدیت اور بدلتے حالات میں اس کی عملی صورتوں کے حوالے سے مولانا عبید اللہ سندھی کی فکر اور ان کے رجحان کا جائزہ لیا گیا تھا۔ مولانا سندھی کے نزدیک اسلامی شریعت میں سزاوٴں کا بنیادی مقصد انسانی اقدار اور مصالح اجتماعیہ کی حفاظت ہے ، یہی وجہ ہے کہ اسلامی شریعت میں خصوصا ان جرائم کی روک تھام کے حوالے سے کافی سختی کی گئی ہے جن کا تعلق فطرت انسانی، اعلیٰ اخلاق ،مشترکہ انسانی اقدار، امن عامہ اور نظم مملکت سے ہے اورسلام کا بنیادی مقصد ہی امن و سلامتی ہے ۔ مولانا کے نزدیک بنیادی طور پر قرآن کی دو حیثیتیں ہیں ، پہلی یہ کہ اپنی روح کے اعتبار سے قرآن ایک ابدی، عالمگیر اور دائمی ضابطہ حیات ہے اور دوسری یہ کہ قرآن کے اولین مخاطب اہل عرب تھے لہذاقرآن نے بیان احکام اور تکمیل شریعت میں عرب تمدن کو بنیاد بنایا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف زمانوں میں قرآن کی جو تفاسیر لکھی گئی ان کی تفسیر و تشریح میں ہے ہر زمانے کے لحاظ سے ہمیں مختلف نتائج نظر آتے ہیں ۔مولانا کے نزدیک قرآن نے اپنی بات کی تفہیم کے لیے جو مثالیں پیش کی ہیں وہ بھی خاص عرب تمدن کو مد نظر رکھ کر اپنائی گئی ہیں ۔ مثلا عرب ایک خشک اور گرم ملک تھا جس میں صاف پانی اور دودھ اللہ کی بڑی نعمتیں شمار ہوتی تھیں، عرب کے صحرا میں شہد اور میٹھے پھلوں کا مل جانا بھی ایک بڑی نعمت تھی اس لیے اللہ نے قرآن میں ایسی مثالیں پیش کی ، حالانکہ زرعی زمینوں میں صاف پانی ، دودھ ، شہد اور پھلوں کا مل جانا ایک معمول کی بات تھی ۔اسی طرح جہنم کی دہشت اور خوفناکی کے بیان کے لیے بھی عرب تمدن کی مثالوں کا سہارا لیا گیا ، عرب کے صحراوٴں سے ملنے والے گرم پانی سے جہنم کی شناخت کروائی گئی ۔ مولانا کے نزدیک کوئی غیر عرب داعی یا واعظ اسے اپنے تمدن اور اپنی قوم کی ذہنیت اور نفسیات کے مطابق بیان کر ے گا ۔حدودو تعزیرات کو بھی وہ اسی اصول کے ضمن میں دیکھتے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ جرائم اور حدود کے حوالے سے قرآن نے اصولی نوعیت کے احکام بیان فرما دیئے ہیں مگر ان سزاوٴں کا نفاذ کب ، کیسے اور کن شرائط کے ساتھ ہو گا اس کا فیصلہ ہر علاقے کے اہل علم اور ارباب اختیار کو خود کرنا ہو گا ۔ وہ کہتے ہیں اللہ نے رسول اللہ کو تعلیم کتاب کے ساتھ تعلیم حکمت کی ذمہ داری بھی سونپی ہے اور حکمت سے مراد فطرت انسانی اور اس کے طبعی تقاضوں کو سمجھنا ہے ۔ قرآن کے اصولی احکام کو سمجھتے ہوئے ذیلی قوانین بنانا اور انہیں اپنے ماحول اور زمانے کے مطابق نافذ کرنے کی سعی کرنا ہی حکمت ہے ۔ مولانا حدود کو آخری درجے کی سزائیں سمجھتے ہیں یعنی جب مجرم ہر طرح کی چھوٹی سزاوٴں کے باجود باز نہ آئے تو اسی یہ انتہائی سزا دی جائے گی اور ایسی سزاوٴں کا اطلاق آخری درجے کی عدالت عالیہ ہی کر ے گی ،نیز ایسی سزاوٴں کے نفاذ میں مجرم کے معاشی و معاشرتی حالات اور ا س کے ذاتی احوال و اوصاف کو بھی مد نظر رکھا جائے گا ۔
یہ پہلے دن کی تین پریزنٹیشنزکے عنوانات اور اہم مباحث تھے ، ظہر کے بعد کا وقت سوالات اور گروپ ڈسکشن کے لیے ہوتا تھا ۔ پورے ہفتے میں مختلف موضوعات پر تقریبا پندرہ اسٹوڈنٹس نے پریزنٹیشنز دیں ، اگلے کالم میں بقیہ پریزنٹیشنز کا خلاصہ پیش کرنے کی کوشش کروں گا ۔
ادارہ اردوپوائنٹ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
تازہ ترین کالمز :
محمد عرفان ندیم کے کالمز
-
ہم سب ذمہ دار ہیں !
منگل 15 فروری 2022
-
بیسویں صدی کی سو عظیم شخصیات !
منگل 8 فروری 2022
-
میٹا ورس: ایک نئے عہد کی شروعات
پیر 31 جنوری 2022
-
اکیس اور بائیس !
منگل 4 جنوری 2022
-
یہ سب پاگل ہیں !
منگل 28 دسمبر 2021
-
یہ کیا ہے؟
منگل 21 دسمبر 2021
-
انسانی عقل و شعور
منگل 16 نومبر 2021
-
غیر مسلموں سے سماجی تعلقات !
منگل 26 اکتوبر 2021
محمد عرفان ندیم کے مزید کالمز
کالم نگار
مزید عنوان
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2025, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.