سوشل میڈیا، الزامات اور سیاسی ورکرز

منگل ستمبر

Sahibzada Asif Raza Miana

صاحبزادہ آصف رضا میانہ

سوشل میڈیااس صدی کی مقبول ترین اور ایک نا قابل فراموش حقیقت ہے جس کے وجود اور اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا. سوشل میڈیا نے بہت کم عرصے میں جہاں فاصلوں کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ معلومات تک با آسانی  اور جلد رسائی کو ممکن بنایا ہے وہیں سوشل میڈیا نے ترقی یافتہ   ممالک کی نسبت ترقی پذیر ملکوں کے سماجی،سیاسی اور اجتماعی رویوں پر گہرا اثر ڈالا ہے.
متمول اور ترقی پذیر ملکوں اور قوموں کی نفسیات اور سماجی رویوں میں سوشل میڈیا کے آنے کے بعد کیا تبدیلیاں آئی ہیں یہ سمجھنے کے لیے ہم آپ کو ماضی کے جھروکوں سے لندن کے ہائیڈ پارک لے چلتے ہیں.
 1637 سن عیسوی میں لندن کے وسط میں 350 ایکڑز پر قائم ہونے والا      ہائیڈ پارک برطانیہ کے شہرہ آفاق پارکوں میں سے ایک ہے.

پارک میں ہزاروں مختلف قسم کے پرانے پیڑ  ، سرسبزو شاداب گھاس کے میدان اور خوبصورت جھیل اور پھولوں کے  باغیچے ہیں جن کی سیر کے لیے  سالانہ تقریبا 80 لاکھ لوگ ہائیڈ پارک کا رخ کرتے ہیں. لیکن صرف یہی سب ہائیڈ پارک کی وجہ شہرت نہیں ہے. ہائیڈ پارک کی تاریخی شہرت کی ایک اہم وجہ اس میں قائم " سپیکر'ز کارنر " ہے.   سپیکر'ز کارنر کی تاریخ بہت دلچسپ ہے.

1855 میں برطانوی حکومت نے "سنڈے بل " کے نام سے ایک قانون پاس کیا جس کے تحت حکومت نے اتوارکے دن خرید و فروخت پر پابندی عائد کر دی. چونکہ ورکنگ کلاس نے اتوار کا دن چھٹی اور خرید و کروخت کے لیے مختص کیا ہوتا تھا انہوں نے اس فیصلے کو اپنے بنیادی انسانی حقوق کے خلاف جان کر احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا یہ  احتجاج آگے چل کر کارل مارکس کے بقول " انگلش انقلاب" کی بنیاد بنا.

پارک کے وسیع و عریض ہونے کے  باعث انقلاب کی لیڈرشپ نے کارکنان کی آسانی اور رہنمائی کے لیے پارک کے ایک مخصوص حصّے کو "سپیکر'ز کارنر" کا نام دے دیا.تحریک کے رہنما اور کارکنان "سپیکر'ز کارنر" میں جمع ہوتے اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف بحث و مباحثے کے بعد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جاتا. تحریک کے بانیوں نے "سپیکر'ز کارنر" میں   بحث و مباحثے کے کڑے اصول وضع کر رکھے تھے.

بحث و تکرار میں  کسی پر تنقید سے پہلے تحقیق،الزام سے پہلے ثبوت اور  گالم گلوچ، غیر اخلاقی گفتگو اور الزام تراشی کی جگہ مضبوط اور ٹھوس دلائل فیصلہ کن حیثیت کی حامل ہوتے تھے .انگلش انقلاب کی تحریک کی آبیاری اور فتح میں  "سپیکر'ز کارنر" نے فیصلہ کن کردار ادا کیا اور  سپیکر'ز کارنر نے پورے برطانیہ میں اس قدر مقبولیت حاصل کی کہ لندن کے ہائیڈ پارک کے بعد برطانیہ کے دوسرے شہروں کے ساتھ ساتھ کینیڈا آسٹرلیا اٹلی ہالینڈ نیوزی لینڈ اور امریکہ سمیت کئی دوسرے ممالک نے اپنے پارکس میں سپیکر'ز کارنرز قائم کر دیے.

سپیکرز کارنرز میں مختلف سیاسی اور سماجی نظریات رکھنے والے لوگ اکٹھے ہوتے اور کسی ایک عنوان پر  بحث کے طے شدہ اصول اور ضوابط کے تحت اپنا تبادلہ خیالات کرتے.  ان  سپیکر'ز کارنرز نے ان لوگوں میں صحت مند اور تعمیری بحث و مباحثے  کو پروان چڑھایا اور مختلف سوچ رکھنے والے  حزب مخالف کی راۓ کو جھوٹ اور الزام تراشی  کی بجاۓ دلیل کے ساتھ جواب دینا سکھایا.

یہی اصول آگے چل کر ان ملکوں کے کلچر اور اس کے ساتھ ان کے قانون کا حصّہ بن گئے. آپ ان ملکوں میں کسی پر بغیر  ثبوت کرپٹ کہہ کر کوئی الزام نہیں لگا سکتے کیوں کہ وہ آپ کو گھسیٹ کر عدالت میں لے جاۓ گا آپ نے الزام ثابت کر دیا تو ٹھیک نہیں تو الزام لگانے والے  کو جھوٹا الزام لگانے اور اس کی شہرت کو نقصان پہنچانے پر معافی مانگنے کے ساتھ ہرجانہ بھی ادا کرنا ہوگا.

مختلف سیاسی یا مذہبی نقطہء نظر کو برداشت کرنا ہوگا اور اختلاف راۓ روا رکھنے کا ایک  طریقہ کار ہے آپ کسی کی ذات کو نشانہ نہیں بنا سکتے اس کے اہل خانہ یا  خاندان کو ان معاملات میں نہیں گھسیٹ سکتے اور نہ ہی کسی کو اس کے مذہب اس کی جنس یا اس  کے رنگ یا اس کی نسل کی بنیاد پر اس کو برا بھلا کہ سکتے ہیں. یہی اصول سوشل میڈیا کے لیے  بھی ہے آپ نے اگر سکول میڈیا پر کسی شخص یا کسی کمیونٹی پر کوئی الزام لگا دیا یا اس کے مذہب اس کی جنس یا اس  کے رنگ یا اس کی نسل کی بنیاد پر کوئی پروپیگنڈا کر دیا اور مذکورہ شخص یا کمیونٹی عدالت میں چلی گئی تو الزام کا بار ثبوت آپ پر ہوگا آپ الزام ثابت کر پاۓ تو ٹھیک نہیں تو پھر سزا یا ہرجانہ میں سے کوئی ایک چیز آپ کو جھیلنی پڑے گی .

اس لیے مہذب ملکوں میں لوگ سماجی تربیت اور قانون کے بندھن میں اس حد تک بندھے ہے ہیں کہ حد درجہ  سیاسی رقابت اور اختلاف راۓ رکھنے کے باوجود سوشل میڈیا استعمال کرتے ہوۓ ان اصولوں سے انحراف نہیں کر سکتے.  
اب آپ ہمارے معاشرے کو سامنے رکھیں. ہمارے یہاں اختلافات سیاسی ہوں یا مذہبی ان کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہ ہونے کے برابر ہے . سماجی تربیت نہ ہونے کے برابر ہے اشیا تو ہیں استعمال کا ڈھب اور ڈھنگ میسّر نہیں ہے.  انفرادی اور اجتماعی سطح پر گفت و شنید اور بحث و مباحثے میں تنقید سے پہلے تحقیق، الزام سے پہلے ثبوت اور اختلاف میں دلیل کی روایت ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی رہی سہی کسر سوشل میڈیا نے نکال دی ہے.  آزادی راۓ کے نام پر جس کا جو چاہے وہ مخالفین کے خلاف سوشل میڈیا پر ڈال سکتا ہے چاہے وہ سچ ہو یا جھوٹ ، الزام ہو یا حقیقت،کسی ظالم کی حقیقت آشکار ہو یا جھوٹے الزام کی صورت میں کسی کی پگڑی اچھالی جاۓ، معاشرے کے لیے  اس سے معاشرے میں اچھائی پیدا ہو یا بگاڑ...

وہ سوشل میڈیا پر شایع کو بالکل آزاد ہے کیونکہ سوشل میڈیا پر کسی بھی مواد کی اشاعت کے مستند اور درست ہونے،جانچ پڑتال یا سنسر شپ کا کوئی بھی نظام موجود نہیں ہے.
اس سوشل میڈیا کے بے جا اور اندھا دھند استعمال نے معاشرے میں تلخی اور رشتوں میں کڑواہٹ کا زہر ڈالنا شروع کر دیا ہے. بدقسمتی سے سیاسی ورکرز سوشل میڈیا کے استعمال میں احتیاط اور برداشت کا دامن چھوڑ رہے ہیں اور نتیجے میں سوشل میڈیا سیاسی ورکرز کی گالم گلوچ ،الزام تراشیوں کا ایسا بدبو دار جوہڑ بن چکا ہے جس کے قریب جانے سے ہی دل گھبراتا ہے اور اگر میں حیث القوم سوشل میڈیا کا درست استعمال نہ کرنا سیکھا یاحکومت اور متعلقہ اداروں نے سوشل میڈیا کے مثبت اور بامقصد استعمال کے لیے  کوئی با قاعدہ منصوبہ بندی اور اس مئی منفی استعمال کے روک تھام کے لیے مؤثر قانون سازی نہ کی تو سوشل میڈیا کا یہ شتر بے مہار ہماری سماجی ہم آہنگی اور اخوات پر مبنی روایات کے ساتھ ساتھ ہمارے معاشرے کا امن سکون نگل جاۓ گا

(جاری ہے)

© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Social Media Ilzamat Or Siasi Workers Column By Sahibzada Asif Raza Miana, the column was published on 03 September 2019. Sahibzada Asif Raza Miana has written 19 columns on Urdu Point. Read all columns written by Sahibzada Asif Raza Miana on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.