آگ سے نہ کھیلیں

پیر 22 نومبر 2021

Umer Khan Jozvi

عمر خان جوزوی

امام صاحب مسجدکے عقبی دروازے سے جونہی اندرداخل ہوئے توہم صف میں اپنی جگہ پر کھڑے ہوگئے ۔امام صاحب کودیکھتے ہی وہ صاحب اس پرایسے برسنے لگے جیسے برسات کاموسم یامون سون کاکوئی سیزن ہو۔حضرت ذرہ ٹائم دیکھیں کیاہوا۔؟ہم نے اپنارخ فوراًمسجدکی گھڑی کی طرف پھیراتوایک منٹ نمازکے ٹائم سے اوپرہوگیاتھا۔ایک ۔۔صرف ایک منٹ لیٹ ہونے پراتناغصہ۔

؟ہم آگے کی بجائے پیچھے کی طرف مڑے اورکچھ بڑھے۔صاحب کیامسئلہ ہے۔؟امام صاحب اگرایک منٹ لیٹ ہوگئے توکونسی قیامت آگئی۔؟او۔۔نہیں جی۔۔ٹائم ٹائم ہوتاہے۔پھران مولویوں کی توعادت ہے لیٹ آنا۔وہ صاحب مسجدکمیٹی کے کوئی ممبریاکوئی عہدیدارلگ رہے تھے تب اس کی دس گزلمبی زبان منہ سے کافی دورنکل چکی تھی۔ہم قریب ہوکرشریفانہ اندازمیں اس کوسمجھانے لگے کہ حضرت ٹائم ٹائم ہوتاہے یانہیں لیکن ایک بات یادرکھیں امام امام ضرورہوتاہے۔

(جاری ہے)

نمازوں کایہ ٹائم یہ کوئی حرف آخریایہ کوئی ٹائم بم نہیں کہ فکس ٹائم پراگرامام صاحب نہیں پہنچے تونمازکاوقت گزرجائے گایاکوئی بم پھٹ جائے گا۔ماناکہ ہرنمازکاٹائم اورایک وقت ہوتاہے لیکن معذرت کے ساتھ وہ وقت یاٹائم کوئی ایک یادومنٹ نہیں اگرکوئی امام ،کوئی قاری ،کوئی مولانایاکوئی مفتی صاحب اگرنمازکے مقررہ ٹائم سے ایک دوکیا۔۔؟ پانچ دس منٹ بھی اگر لیٹ پہنچے توتب بھی نمازکی صحت پرکوئی فرق اوراثرنہیں پڑتانہ ہی ثواب میں کوئی کمی آتی ہے۔

امام صاحب بھی توہمارے جیسے ایک انسان ہیں ۔جس طرح ہمارے ساتھ ضروریات ہیں ،مجبوریاں ہیں ،کمی اورپیشیاں ہیں۔اسی طرح امام صاحب بھی توضروریات،مجبوریوں اورکمی پیشیوں کے ساتھ بندھاہواہے ۔پھرہم تونمازکے لئے روزلیٹ آتے ہیں ۔کبھی کبھارنہیں بلکہ اکثرآتے بھی نہیں ۔امام صاحب ایک وقت یاایک دن اگرلیٹ آگئے توکیاہوگیا۔؟پتہ نہیں ہماری باتیں اس صاحب کی سمجھ میں آئیں یانہ۔

لیکن آپ یقین کریں اس دن ہمیں اپنے اس حال پرترس اوررحم آیا۔وہ امام اوروہ مولاناصاحب جونہ صرف پانچ وقت ہماری نمازیں پڑھاتے ہیں بلکہ ہماری مسجدوں اورمدرسوں کوبھی آبادرکھتے ہیں۔جن کی محنت اوربرکت سے ہمارااورہمارے بچوں کاشمارآج مسلمانوں میں ہوتاہے وہ اگرہم سے محفوظ نہیں توپھرہم اورہمارے بچے کیسے محفوظ ہیں۔؟ جن قوموں اورلوگوں کے ہاں اپنے آئمہ،خطباء اورعلماء کی قدرنہیں ہوتی آپ یقین کریں ایسی قوموں اورایسے لوگوں کودنیاکی تباہی ،بربادی اورجہنم کے سرخ انگاروں سے پھرکوئی نہیں بچاپاتا۔

یہی وہ امام ،یہی وہ خطیب ،یہی وہ قاری ،یہی وہ مولانااوریہی وہ علماء توہیں جنہیں ،،ورثتہ الانبیاء،،انبیاء کے وارث کہاگیاہے۔انبیاء کے ان وارثوں کاادب اوراحترام ہم سب پرفرض بھی ہے اورقرض بھی۔روئے زمین پراگریہ نہ ہوتے توہمیں بھی پھریہ نمازیں،یہ روزیں،یہ حج،یہ عمرے اوریہ عبادات کبھی نصیب نہ ہوتی۔یہ توانہی علماء اورصلحاء کی برکت ہے کہ آج ہمیں امامت کے ساتھ نمازپڑھنے کاشرف بھی مل رہاہے اوراللہ کے گھرودرپرقلبی سکون بھی ۔

جن لوگوں کی وجہ سے آج ہم سکون میں ہیں ہمیں کوئی حق نہیں پہنچتاکہ ہم ایک اوردومنٹ لیٹ آنے یاپہنچنے کے بہانے پران کوبے سکون کریں۔مسجدکمیٹیوں کی آڑمیں آج کراچی سے گلگت اورکشمیرسے چترال تک ہم نے آئمہ مساجدکوبے عزت کرنااپنامعمول بنالیاہے۔ملک کے اکثرصوبوں ،شہروں اورعلاقوں میں مسجدکمیٹیاں بناکرہم نے اللہ کے گھروں کاانتظام اورانصرام ایسے ایسے لوگوں کے حوالے کردیاہے جن کودین کی الف ب کاکوئی پتہ ہے اورنہ ہی دینی علوم اوراللہ کے احکامات کی کوئی سمجھ بوجھ۔

مسجدکمیٹی کے چیئرمین یاممبرہونے کایہ مطلب نہیں کہ آپ پھرمسجدکے دروازے پرکھڑے ہوکرامام صاحب کی کلاس اورتلاشی لیناشروع کردیں۔آپ کواگرگریبان میں جھانکنے کااتناشوق ہے توآپ کسی امام ،کسی قاری ،کسی مفتی اورکسی مولوی کے گریبان میں جھانکنے کی بجائے گناہوں سے اٹے اپنے گریبان میں کیوں نہیں جھانکتے۔؟مولوی اورامام صاحب کے پاک دامن کوٹٹولنے کی بجائے آپ اپنے دامن پرایک نظرکیوں نہیں ڈالتے۔

؟امام صاحب کے ایک منٹ لیٹ آنے پرپوراشہر،پوراعلاقہ،پورامحلہ اورسات آسمان سرپراٹھانے والے اپنے لیٹ آنے اورلیٹ جانے پرواویلاکیوں نہیں کرتے اورشورکیوں نہیں مچاتے۔؟ڈیوٹی ٹائم اٹھ بجے ہوں توآپ نواوردس بجے جاتے ہیں کیاآپ نے اس پرکبھی شوراورواویلاکیاکہ میں لیٹ کیوں آیا۔؟آپ کی نوکری اورمزدوری کاٹائم چھ یااٹھ گھنٹے ہوتاہے آپ چاریاپانچ گھنٹے بعدبھاگ کرگھرپہنچ جاتے ہیں کیاآپ نے ڈیوٹی ٹائمنگ کے بارے میں اپنے آپ سے کوئی سوال کیا۔

؟ولیمے کاٹائم ایک یادوبجے ہوتاہے آپ ولیمے میں آنے والوں کوچاراورپانچ بجے تک بٹھاکررکھتے ہیں یاکوئی آپ کوایک اوردوبجے سے چاروپانچ بجے تک کاانتظارکروادیتے ہیں اوریہ اس ملک اورمعاشرے میں اب ایک معمول بھی ہے کیاآپ نے کسی ولیمے میں دولہے کے باپ کوکھانالیٹ ہونے پرکبھی گریبان سے پکڑاہے۔؟جن الفاظ اورجس لہجے میں آپ بے چارایک امام اورمولوی صاحب سے ایک منٹ کاحساب مانگ رہے ہیں کیاان الفاظ اوراس لہجے میں آپ نے کبھی کسی دولہے کے باپ سے تین اورچارگھنٹے لیٹ ہونے کی وجہ پوچھی ہے۔

؟ختم ،خیرات،شادی بیاہ اوردعوتوں میں چاراورپانچ گھنٹے کھانالیٹ ہونے پراگرآسمان نہیں گرتاتوآپ یقین کریں ایک اوردومنٹ نمازلیٹ ہونے پربھی آسمان کبھی نہیں گرے گا۔یہ مولوی،یہ قاری،یہ مفتی اوریہ علمائے کرام یہ آپ اورہمارے کوئی مزارع ،کوئی خادم،کوئی نوکر،کوئی غلام اورکوئی مزدورنہیں یہ ہم سب کے امام ہیں اورامام ہمیشہ سروں کے تاج ہواکرتے ہیں۔

جنہوں نے ان کی قدراورقیمت پہچانی وہی منزل اورمقصودتک پہنچے۔تاریخ گواہ ہے کہ جن لوگوں اورجن قوموں نے ان کودھتکارا،ان کوبے عزت کرنے کی کوشش کی وہ لوگ اورقومیں پھردوسروں کے لئے صرف عبرت کی مثال ہی بن پائیں۔اس لئے مسجدکمیٹی اورعلاقے کی چیئرمینی وممبری کانشہ گھروں میں اتارکراللہ کے گھروں میں جائیں ۔کوئی صدرہے یاوزیراعظم، ممبرہے یاکوئی چیئرمین،کوئی امیرہے یاغریب۔

اللہ کے گھراوردرپرسب برابرہیں ۔صدر،وزیراعظم،چیئرمین ،ممبراورامیرسے بھی زیادہ تواللہ کے قریب وہ ہیں جواللہ کے دین اورانبیاء کے وارثوں کے قریب ہیں۔انبیاء کے وارثوں اوراللہ کے مہمانوں کونشانہ بنانے کے لئے مواقع تلاش کرنے والے اللہ کے قریب کیسے ہوسکتے ہیں۔؟ہم نے ایک اوردومنٹ نمازلیٹ ہونے کی آڑمیں آئمہ مساجد کی تذلیل اورتضحیک کرنے والے بہت سے پکے ٹکے نمازیوں کوبھی اس دنیاسے بے نمازی جاتے ہوئے دیکھاہے۔

اس لئے اپنے پکے ٹکے نمازی یامسجدکمیٹی کے ممبروچیئرمین ہونے پرکوئی تکبروغرورنہ کیجیئے۔نہ ہی اپنے امام اورمولوی صاحب کے مانیٹربننے کی کوئی کوشش کریں۔ورنہ کل کوپھرآپ بھی دوسروں کے لئے نہ صرف ایک تماشابلکہ عبرت کی ایک زندہ مثال بننے سے بھی اپنے آپ کوبچانہیں پاؤگے۔انبیاء کے وارثوں کی تذلیل اورتضحیک یہ توآگ کی مانندہے آگ سے کھیلوگے توجل کربھسم ہوجاؤگے۔اس لئے علمائے کرام کے دامن کوٹٹولنابندکردیں اور اپنے گناہوں کی گنتی شروع کردیں کیونکہ اصل گناہ گارہی ہم ہیں ۔

ادارہ اردوپوائنٹ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Aag Se Na Kheelain Column By Umer Khan Jozvi, the column was published on 22 November 2021. Umer Khan Jozvi has written 475 columns on Urdu Point. Read all columns written by Umer Khan Jozvi on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.