دردنہیں بانٹا جا سکتا جس کو ہوتا ہے وہی جانتا ہے

اتوار اکتوبر

Waqar Haider

وقار حیدر

کس کا کلیجہ کتنا چھلنی ہے ، کس کی روح تک کو کتنا زخمی کیا گیا ہے کوئی نہیں جانتا
درد کی ایسی شدت ہے دھاڑیں مار مار کر چیخ رہا ہوں ، خاموش زبان سے چلا چلا کر پکار رہا ہوں کہ کوئی تو سنبھال لے ۔ لیکن ہر دفعہ کی طرح درد کی شدت میں کسی نے آنکھ اٹھا کر بھی نا دیکھا
اور میں نے پھر دل پر درد کی ہی مرہم رکھ لی
درد ہر صورت درد ہی رہا ہے الٹا لکھا چاہے سیدھا ، درد اور موت دونوں کے ہی تین حروف ہوتے ہیں بس فرق اتنا ہوتا ہے کہ موت ایک بار کا درد ہے اور درد ہر لمحہ کی موت ۔


یہ درد کوئی چاند نہیں کہ گھٹتا اور بڑھتا رہے ، یہ درد کوئی جذبہ نہیں کہ اس پیدا ہو جائے یا ختم ہو جائے ، درد تو ایک ایسی چنگاری ہے جو سلگتی رہتی ہے اور زمانہ ایسا ہے کہ ہر دوسرا شخص اسکو ہوا دیتا ہے اور یہ آگ کی صورت دل کو جلاتا ہی چلا جاتا ہے ۔

(جاری ہے)

درد آپکو روشن کر دیتا ہے لوگ کچھ دیر اس آگ کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں یا اپنا کام نکالتے ہیں اور پھر چلے جاتے ہیں۔


کبھی کبھار دل چاہتا کہ درد کو ایسے لکھوں جیسے ہوتا ہے لیکن یقین کیجیے نہ تو الفاظ کے بس کی بات ہے کہ درد کو بیان کر پائیں اور نہ ہی ان میں اتنی سکت کپ درد کی ترجمانی کر پائیں ، ایک جوان بیٹے کی لاش پر ماں کا درد کوئی لکھ کر تو دکھائے ، ایک بوڑھے باپ جس کی بیٹی کے بالوں میں چاندی اتر آئی اور وہ اسکا جہیز نہیں بنا سکتا اسکا درد کوئی بیان نہیں کر سکتا ، یہ جو اوراق پر چند الفاظ کشید کیے گئے ہیں کہ درد کی شدت کو بیان کیا جا سکے یہ بھی بس استعارے ہیں، کسی بھی لغت میں اتنی سکت ہی نہیں کہ درد کی عکاس بنے۔


درد کی مثال کچھ ایسی ہے کہ جیسے کوئی آپکے بخیئے ادھیڑ کر رکھ دے، جسم کا ہراعضاء الگ سمت میں پڑا ہو، خون سے آپ رنگین ہوں اور بس آپکا دل آپکے ہاتھوں میں ہو اور آپ چپ چاپ تمام اعضاء  سمیٹنے کی کوشش میں لگے ہوں لیکن آپ سے کچھ بن نا پا رہا ہو۔
درد اذیت بھی اور یی درد یزیدیت ہے یہ صحرا میں آپکو پیاسا قتل کرتا ہے اور پھر آپکے جسموں پر گھوڑے دوڑائے جاتے ہیں آپکے سامنے آپکے پیاروں کو قتل کرتا ہے اور آپ کے جوانوں کو تہہ تیغ کرتا ہے،  یہ آپکے شیرخوار کی پیاس تیر سے بجھاتا ہے ۔ یہ ایسی خون کہ ہولی ہے کہ آپکو اپنا آپ بھلا دیتا ہے،  مصائب و آلام کی وہ سخت گھڑی ہے کہ جس میں روح کو جسم سے بے دخل کر دیا جاتا ہے ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Dard Nahi Banta Ja Sakta Column By Waqar Haider, the column was published on 18 October 2020. Waqar Haider has written 4 columns on Urdu Point. Read all columns written by Waqar Haider on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.