کراچی میں بچی سے زیادتی اور قتل کیخلاف احتجاج،

پولیس فائرنگ سے 3 افراد شدید زخمی، آئی جی سنھ نے واقعے کا نوٹس لے لیا مقتولہ کے والد نے 3افراد کونامزدکیاتھا جن میں سی2ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ تیسرے کی گرفتاری کیلیے چھاپے مارے جارہے ہیں، ایس ایس پی ویسٹ آئی جی سندھ کی مقتولہ بچی کے لواحقین کو اعتماد میں لینے،اورورثاکے بیانات کی روشنی میں تفتیش کوموثربنانے اورملزمان کی جلد از جلد گرفتاری کو یقینی بنانے کی ہدایت

منگل اپریل 15:05

کراچی میں بچی سے زیادتی اور قتل کیخلاف احتجاج،
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اپریل2018ء) کراچی کے علاقے منگھوپیر میں 6 سالہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا گیا جبکہ واقعے کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین پر پولیس نے سیدھی فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 3 افراد شدید زخمی ہوگئے جن میں سے ایک کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔آئی جی سندھ نے ڈی آئی جی ایسٹ سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے منگھوپیر میں بچی کو زیادتی و اغوا کے بعد قتل کردیا گیا۔ بچی کی لاش کچرا کنڈی سے ملی جس کی شناخت رابعہ کے نام سے ہوئی۔ پولیس کے مطابق رابعہ کی عمر 6 سال اور اورنگی ٹائون بلوچ پاڑہ کی رہائشی ہے۔ بچی کے والد کے بیان کے مطابق رابعہ 15 اپریل اتوار کو گھر سے کھیلنے نکلی اور اس کے بعد لاپتہ ہوگئی۔

والد نے اورنگی ٹائون میں گمشدگی کا مقدمہ درج کرا کے 3 افراد کو نامزد کیا جن میں سے 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا تاہم منگل کی صبح بچی کی لاش کچرا کنڈی سے برآمد ہوئی جس کے بعد بچی کے لواحقین اور اہل علاقہ کی بڑی تعداد گھروں سے نکل آئی۔

لواحقین اور اہل محلہ نے جمشید پمپ پر ایم پی آر اورنگی روڈ پر احتجاج کیا، احتجاج کے باعث مظاہرین نے سڑک بند کر دی۔بچی سے زیادتی پر کیا جانے والا احتجاج اس وقت شدت اختیار کر گیا جب پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلیے آنسو گیس کی شیلنگ کی اور ان پر براہ راست فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 3 افراد زخمی ہوگئے۔۔پولیس فائرنگ پر مظاہرین مشتعل ہوگئے اور انہوں پولیس پر شدید پتھرائو کردیا جس کے نتیجے میں علاقہ میدان جنگ بن گیا ہے جب کہ پولیس علاقے سے فرار ہوگئی ہے۔

مشتعل افراد نے پولیس موبائل پر شدید پتھرائو کیا اور میڈیا نمائندوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا ، مظاہرین کے پتھرائو سے پولیس موبائل اور میڈیا کی گاڑیوں کو نقصان پہنچا ۔مشتعل افراد نے کئی گاڑیوں کے شیشے بھی توڑ دیے ہیں۔ زخمیوں میں سے ایک شخص کی حالت انتہائی تشویش ناک بتائی جاتی ہے جس کے سر پر گولی لگی ہے۔ تینوں زخمیوں کو عباسی شہید اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

آئی جی سندھ نے ڈی آئی جی ویسٹ سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے۔آئی جی سندھ نے مقتولہ بچی کے لواحقین کو اعتماد میں لینے،شواہداورورثاکے بیانات کی روشنی میں تفتیش کوموثربنانے اورملزمان کی جلد از جلد گرفتاری کو بھی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہیں۔ایس ایس پی ویسٹ عمرشاہد نے کہا کہ مقتولہ کے والد نے 3افراد کونامزدکیاتھا جن میں سی2ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ تیسرے کی گرفتاری کیلیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

پولیس کے مطابق مقتولہ بچی اورنگی ٹائون بلوچ پاڑہ کی رہائشی تھی، جو اتوار15 اپریل کو گھر سے کھیلنے کے لیے نکلی تھی اور اس کے بعد لاپتہ ہوگئی تھی۔۔پولیس کے مطابق 7سالہ مقتولہ بچی کی لاش گزشتہ روز شام کو منگھوپیر کے علاقے میں جھاڑیوں سے ملی تھی، مقتولہ کے جسم پر زخموں کے نشانات موجود تھے۔بچی کی لاش کو عباسی اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں ڈاکٹروں نے تصدیق کی کہ اسے گلا گھونٹ کر قتل کیا گیا ہے، جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بچی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق کی گئی ہے۔

Your Thoughts and Comments