کے الیکٹرک اورسوئی سدرن گیس کے مابین تنازعہ کا خمیازہ کراچی کے عوام بھگت رہے ہیں،میئر کراچی

رہائشی علاقوںکے ساتھ ساتھ اسپتالوں کو بھی لوڈشیڈنگ سے نہیں بخشا گیا،حکومت چاہتی ہے کہ کراچی کے لوگ ٹیکس دینا بند کردیں،وسیم اختر صدر پاکستان کے الیکٹرک اور سوئی گیس کے تنازعات حل کروائیں، احتجاجی مظاہرے سے خطاب

منگل اپریل 17:42

کے الیکٹرک اورسوئی سدرن گیس کے مابین تنازعہ کا خمیازہ کراچی کے عوام ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اپریل2018ء) میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ کے۔ الیکٹرک اورسوئی سدرن گیس کے مابین تنازعہ کا خمیازہ کراچی کے عوام بھگت رہے ہیں، رہائشی علاقوںکے ساتھ ساتھ اسپتالوں کو بھی لوڈشیڈنگ سے نہیں بخشا گیا،حکومت چاہتی ہے کہ کراچی کے لوگ ٹیکس دینا بند کردیں اورسول نافرمانی شروع کردیں، کے ۔الیکٹرک، صوبائی حکومت سوئی سدرن گیس،، واٹر بورڈ ہو یا کوئی بھی اس احتجاج کو سنجیدہ لینا ہوگا،صدر پاکستان سے اپیل کرتا ہوں کہ کے الیکٹرک اور سوئی گیس کے تنازعات حل کروائیں، صاحب اقتدار کو چاہئے کہ اس مسئلے کو جلد سے جلد حل کیا جائے، کراچی کی باری آتی ہے تو حکومت پاکستان اور حکومت سندھ کے پاس فنڈز ختم ہو جاتے ہیں، گزشتہ دس سال سے کراچی میں ایک بھی منصوبہ مکمل نہیں ہوا، بجلی کے بحران کو حل کرنے کے لئے کم از کم 200 والیوم گیس کے الیکٹرک کو ملنا چاہئے، حکومت ایس ایس جی سی کو کے الیکٹرک کو گیس دینے کے لیے پابند کرے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کی صبح کے الیکٹرک کے صدر دفتر گذری کے سامنے احتجاج کرنے والے بلدیاتی نمائندوں سے خطاب اور بعدازاں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر چیئرمین بلدیہ کورنگی سید نیئر رضا اور چیئرمین بلدیہ شرقی معید انور ، وائس چیئرمین عبدالرئوف خان، وائس چیئرمین بلدیہ وسطی سید شاکر علی، سٹی کونسل میں پارلیمانی لیڈر اسلم شاہ آفریدی، اراضی کمیٹی کے چیئرمین سید ارشد حسن، قانونی امور کمیٹی کے چیئرمین عارف خان ایڈوکیٹ، سٹی کونسل میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر امان خان آفریدی، اے این پی کے پارلیمانی لیڈر عالم زیب الائی ، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے اکبر شاہ ہاشمی، پی ٹی آئی کے شجاع حیدر ایڈوکیٹ اور دیگر بلدیاتی نمائندے موجود تھے جنہوں نے ہاتھوں میںاحتجاجی بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جن پر غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نامنظور۔

(جاری ہے)

زائد بلنگ بند کرو۔۔کے الیکٹرک کراچی عوام دشمن کے نعرے درج تھے،میئر کراچی نے کہا کہ ابھی ہم نے کراچی کے ان لوگوں کو اس گرمی نہیں بلایا جنہوں نے ہمیں ووٹ دے کر منتخب کرایا ہے، صدر پاکستان سے درخواست ہے کہ ملک کے لئے کوئی تو کام کرے، کراچی کے لوگ مشکل میں ہیں اور ان کے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہے، میئر کراچی وسیم اختر اس موقع پر بلدیاتی نمائندوں کے ہمراہ کے الیکٹرک کے اعلیٰ حکام کے سامنے احتجاج ریکارڈ کرانے کے لئے مرکزی دفتر میں داخل ہوئے جہاں انہوں نے چیف مارکیٹنگ سید فخر عالم ،ڈائریکٹر ڈسٹری بیوشن ارشد افتخار‘ ڈائریکٹر میڈیاسعدیہ دادا‘ ڈائریکٹرراشد حسین‘ ڈپٹی ڈائریکٹر پروٹوکول فیصل جہانگیراور ہیڈ ایچ آررضوان ڈالیاکے ساتھ مذاکرات کئے اور بعدازاں کے الیکٹرک کے دفتر سے باہر آنے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آج کے الیکٹرک کے عہدیدار وں سے بات چیت میں بھی انہیں یہ پیشکش کی ہے کہ بہت سے ایشوز ہم ضلعی سطح پر بھی حل کرسکتے ہیں لہٰذا اس حوالے سے سنجیدہ کوششیں اور اقدامات کئے جانے چاہئیں، انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ لوڈشیڈنگ اور دیگر مسائل کے ستائے ہوئے کراچی کے لوگوں کو جلد از جلد ریلیف ملے ہم نے کے الیکٹرک اور حکومت کے سامنے یہ مطالبے رکھے ہیں کہ جتنے بھی گیس کے پاور پلانٹ بند ہیں انہیں چلایا جائے اور لوڈشیڈنگ کا مسئلہ جلد از جلد حل کیا جائے، انہوں نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے اسپتالوں میں مریضوں کے آپریشن تک متاثر ہو رہے ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں یہ انتہائی سنگین صورتحال ہے مگر بدقسمتی سے کوئی اس پر توجہ نہیں دے رہا، انہوں نے کہا کہ جب پی ایس ایل کا میچ ہو رہا تھا کے الیکٹرک کو 190والیوم گیس دی گئی مگر اب مطلوبہ مقدار میں گیس فراہم نہیں کی جا رہی انہوں نے کہا کہ منتخب بلدیاتی نمائندوں نے یہاں آکر اپنی ذمہ داری کا ثبوت دیا، اس شہر میں آ پریشنز بہت ہو گئے اب یہاں ترقیاتی کاموں پر توجہ دینی ہوگی، کے الیکٹرک بجلی کے بحران پر فوری قابو پائے اگر یہ معاملات حل نہ ہوئے تو کراچی کے شہری سڑکوں پر نکل آئیں گے، میئر کراچی نے کہا کہ ہم پر امن شہری ہیں، اس وقت تمام منتخب لوگ اس احتجاج میں موجود ہیں ہم حکومت کی تیسری سطح ہیں، کراچی ملک کا معاشی حب ہے مگر یہاں حکومت کا کوئی بھی ترقیاتی منصوبہ مکمل نہیں ہوا ، دس سال سے اس شہر کی ٹرانسپورٹ میں ایک بس کا بھی اضافہ نہیں ہوا، کراچی اس وقت آئی سی یو میں پڑا ہے ،نہ بجلی ہے نہ ٹرانسپورٹ ، کیا کراچی خودکشی کر لے، انہوں نے کہا کہ شہری ہمارا گریبان پکڑتے ہیں کہ شہر میں کیا ہورہا ہے، کراچی کو حکومت نے بے یار ومددگار چھوڑا ہوا ہے ، مجھے نہیں معلوم کہ اس ملک میں کون صاحب اقتدار ہیں اگر کوئی صاحب اقتدار ہوتا تو شہر کی اس قدر ابتر حالت نہ ہوتی،انہوں نے کہا کہ یہاں مختلف سیاسی جماعتیں ووٹ ضرور مانگتی ہیں لیکن کراچی کے لیے کوئی نہیں بولتا، اس شہر کو اب ترقی چاہیے، شہر کے تمام نامکمل ترقیاتی منصوبوں کو بلاتاخیر مکمل کیا جائے، میئر کراچی نے کہا کہ سرکلر ریلوے کا آج تک نام سنتے آئے ہیں لیکن اس سمیت کراچی کے تمام منصوبے نامکمل ہیں ، کے فور اور ایس تھری، بس ریپڈ ٹرانسپورٹ اور دیگر منصوبے نامکمل ہیں، کراچی بند ہوا تو پورا ملک بند ہو کر رہ جائے گا ہمیں اس بات پر مجبور نہ کریں کہ ہم منتخب نمائندے جن کے پیچھے ہزاروں لوگ موجود ہیں اور جنہوں نے ووٹ دے کر ہمیں منتخب کیا ہے انہیں ساتھ لے کر آئیں اور کراچی کو بند کردیں ، انہوں نے کہا کہ کراچی کے ساتھ ناانصافی بند کی جائے، کے الیکٹرک سوئی سدرن گیس کے ساتھ اپنے تنازعات خود نمٹائے کراچی کے شہریوں کو اگر بجلی دینے کی ذمہ داری لی ہے تو اسے پورا کریں، جو قانونی چارہ جوئی کرنی ہے کریں کراچی کے لوگوں کو اس سے سروکار نہیں ، انہیں بجلی چاہئے ، کراچی کے لوگوں کے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہے ، کراچی کے لوگ کیوں سفر کریں طلبہ کے امتحانات شروع ہوچکے ہیں بجلی نہ ہونے کے سبب انہیں شدید دشواریوں کا سامنا ہے، لوگوں کو صحت کے مسائل کا سامنا ہے اس لئے اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نہیں ہونی چاہئے، ہم نے تمام مسائل کے الیکٹرک کی سینئر مینجمنٹ کے سامنے رکھے ہیں، کراچی کی عوام تکلیف میں ہے اگر ان مسائل کا اعادہ نہ کیا گیا تو آئندہ لائحہ عمل طے کریںگے۔