نواز شریف نے ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کی بات کی تومیڈیا میں ان کی آواز بند کردی گئی، مریم اورنگزیب

پوری قوم نے اپنے ٹیلی وژن سکرینوں پر اس زبان بندی کا نوٹس لیا،چیف جسٹس کے ریمارکس پر افسوس ہوا،ورکروںکو عدلیہ کے خلاف نعرے بازی سے خود روکا،وزیر اطلاعات ونشریات چار مرتبہ منتخب وزیراعظم پر تاحیات پابندی تسلیم نہیں،سپریم کورٹ میں پارٹی نمائندگی کے طور پر نہیں بلکہ بحیثیت پاکستانی گئی تھی،عدلیہ کے خلاف نعرے بازی ن لیگ کی راویت نہیں،،نواز شریف کے ساتھ بھی وہی ہوا جو پہلی17 منتخب وزرائے اعظم کے ساتھ ہوا تھا،اب یہ روایت ختم ہونی چاہیے،، آئینی اداروں کو اپنے اپنے حدود میں رہ کر کام کرنا ہوگا،تقریب سے خطاب میڈیاکے ساتھ پہلے بحیثیت وزیر اطلاعات اور میڈیا ورکرز یا رپورٹرز کا رشتہ تھا آج سے محبت اور احساس کا رشتہ شروع ہو گیا ہے،آٹھویں ویج بورڈ ایورڈ کی نوٹیفکیشن صحافتی تنظیموں کے عہدیداروں کے حوالے

بدھ اپریل 17:31

نواز شریف نے ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کی بات کی تومیڈیا میں ان کی آواز بند ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) وزیر مملکت برائے اطلاعا ت ونشریات مریم اورنگزیب نے کہاہے کہ جب نواز شریف ووٹ کو عزت دینے کی بات کررہے تھے تب میڈیا میں ایک جمہوری لیڈر کی آواز بند کردی گئی،پوری قوم نے اپنے ٹیلی وژن سکرینوں پر اس زبان بندی کو نوٹس کیا،،چیف جسٹس کے ریمارکس پر افسوس ہوا، سپریم کورٹ کے باہر مسلم لیگ ن کے ورکروںکو عدلیہ کے خلاف نعرے بازی سے روکا،،مسلم لیگ ن عدلیہ کا احترام کرتی ہے، آئینی اداروں کے خلاف نعرے بازی کرنا ن لیگ کی روایت اور نہ ہی تربیت میں شامل ہیں،ویڈیو ریکارڈ منگوا کر دیکھ لیں۔

بدھ کو نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چار مرتبہ منتخب وزیراعظم کے خلاف تاحیات پابندی تسلیم نہیں،،سپریم کورٹ میں فیصلہ کے دن پارٹی نمائندگی کے طور پر نہیں بلکہ بحیثیت پاکستانی کے طور پر گئی تھی،،نواز شریف کے ساتھ بھی وہی ہوا جو پہلی17 منتخب وزرائے اعظم کے ساتھ ہوا تھا،اب یہ روایت ختم ہونی چاہیے،ملک کو ایٹمی قوت بنانے ، سڑکوں اور موٹرویز کا جھال بچھانے اورسی پیک جیسے عظیم منصوبہ کی وجہ سے نا اہل قراردیا گیا، آئینی اداروں کو اپنے اپنے حدود میں رہ کر کام کرنا ہوگا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ صحافیوںکے قلم نے پاکستان میں جمہوریت کو کھڑا رکھا،تاریخ میں پہلی بار جمہوریت دس سال مکمل کررہی ہے۔ الیکٹرانک میڈیا کے ورکروں کے حوالے سے تجاویز وزارت اطلاعات کو دی جائیں تاکہ اس کو جلد پارلیمنٹ بھیج سکیں، حکومت کی مدت پوری ہونے سے پہلے صحافیوں کی سیفٹی اور سکیورٹی سے متعلق بل پارلیمنٹ سے منظور کرانے کی حتی الامکان کوشش کروں گی،میڈیا ورکرز اور رپورٹرز کی مشکلات آگاہ ہیں،ان سے پانانہ کیس کے دوران قریبی تعلق قائم ہوا،میڈیاکے ساتھ پہلے بحیثیت وزیر اطلاعات اور میڈیا ورکرز یا رپورٹرز کا رشتہ تھا آج سے محبت اور احساس کا رشتہ شروع ہو گیا ہے۔

اس موقع پر وزیر اطلاعات نے آٹھویں ویج بورڈ ایورڈ کی نوٹیفکشن کی کاپی صحافتی تنظیموں کے عہدیداروں کو دیں، زیر اطلاعات کا اس موقع پر کہا کہ سولہ سال سے جو کام نہ ہو سکا موجودہ حکومت نے کر دکھایا،میڈیا ورکرز ، اینکرز اور مالکان نے جو عزت دیں وہی کامیابی ہیں، حکومت نے ایوارڈ کا اعلان کر کے کوئی احسان نہیں کیا ،یہ آپ کا حق ہیں،نواز شر یف نے جس اعتماد کا اظہار کیا تھا پوری دیانتداری سے انجام دینے کی کوشش کی۔

انہوں نے تما صحافیوں کو دیرینہ مطالبے کے حل پر مبارکباد یں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل پریس کلب کے صدر طارق چوہدری، پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ، آر آئی یو جے کے صدر مبارک زیب خان اور سیکرٹری نیشنل پریس کلب شکیل انجم نے کہا کہ اس تاریخ ساز تقریب کی میزبانی نیشنل پریس کلب کو حاصل ہونا اعزاز کی بات ہے،یہ صحافیوں کے انتھک جدوجہد کا نتیجہ ہے،صحافتی اداروں سے کنٹریکٹ سسٹم کا خاتمہ کیا جائے،آج پریس کلب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی سیاسی رہنما کی گل پاشوں سے استقبال ہوا ہے، صحافی اپنے حق کیلئے احتجاج کرنا بھی جانتے ہیں اور استقبال کرنا بھی،نو اپریل کو تاریخی دھرنا کا اعلان ہوا تو اگر ملک میں آمریت ہوتی تو صحافیوں پر لاٹھی چارج کرکے معاملہ ختم کرنے کی کوشش کی جاتی مگر یہ جمہوریت کا ثمر ہے کہ وزیر اطلاعات نی7 گھنٹے کی طویل مذاکرات کے بعد صحافیوں کے مطالبات مان لیں، جمہوریت کا گلا گھونٹے کی ہر کوشش ناکام بنائی جائے گی،تمام جماعتوں نے صحافیوں کے ساتھ اظہا یکجہتی کیا جس پر ان کا شکر گزار ہوں۔