کراچی، نیپرا کی تحقیقاتی ٹیم نے کے الیکٹرک کی جانب سے لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے جماعت اسلامی کے مؤقف کو درست ثابت کیا ہے،حافظ نعیم الرحمن

تمام پلانٹس کو اپنی پوری پیداواری صلاحیت کے مطابق اور فرنس آئل سے چلنے والے بند پلانٹس کو فی الفور چلانے کا پابند کیا جائے،امیرجماعت اسلامی کراچی

بدھ اپریل 22:54

کراچی، نیپرا کی تحقیقاتی ٹیم نے کے الیکٹرک کی جانب سے لوڈ شیڈنگ کے حوالے ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ نیپرا کی تحقیقاتی ٹیم نے کراچی میں کے الیکٹرک کی جانب سے لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے جماعت اسلامی کے مؤقف کو درست ثابت کیا ہے ، کے الیکٹرک کو ماضی کی طرح رعایت اور چھوٹ دینے اور اپنی من مانی کرنے کی اجازت دینے کے بجائے اس کے خلاف کاروائی کی جائے ، تمام پلانٹس کو اپنی پوری پیداواری صلاحیت کے مطابق اور فرنس آئل سے چلنے والے بند پلانٹس کو فی الفور چلانے کا پابند کیا جائے تاکہ کراچی کے شہریوں اور تاجروں کو ریلیف مل سکے ،نوری آباد پلانٹ کا مسئلہ تو چار دن میں حل کرادیا گیا تھا لیکن کراچی کے ڈھائی کروڑ سے زائد آبادی کا مسئلہ تاحال حل نہیں ہوا ہے ، وزیر اعلیٰ سندھ اپنی ذمہ داری پوری کریں ، وفاقی حکومت کو صرف خطوط لکھ کر وہ بری الذمہ نہیں ہوسکتے ، جمعہ 20اپریل کو کراچی میں اذیت ناک لوڈ شیڈنگ اور پانی کی قلت کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس پر ہر صورت میں احتجاجی دھرنا دیا جائے گا اور عوام کے حقوق کی جدوجہد جاری رہے گی ۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے تاجر اتحاد کراچی کے تحت گلستان جوہر مین یونیورسٹی روڈ ، نزد سمامہ سینٹر پر اور چاندنی چوک سعید آباد 24مارکیٹ پر تاجروں کے احتجاجی مظاہروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ مظاہروں سے نائب امراء کراچی محمد اسحاق خان ، محمد اسلام ، امراء اضلاع عبد الرزاق خان ، یونس بارائی ، تاجر اتحاد کراچی کے صدر رمضان اعوان ، نائب صدر حاجی طور خان ، جنرل سکریٹری شاہد علی خان اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔

تاجروں نے کے الیکٹرک کے خلاف پلے کارڈ اور بینرز اٹھائے ہوئے تھے جن میں کے الیکٹرک کے خلاف ،واٹر بورڈ ، وفاقی اور سند ھ حکومت کے خلاف مختلف نعرے درج تھے ۔حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ عوام کو بجلی ، پانی اور دیگر بنیادی ضروریا ت کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے ، کراچی میں اذیت ناک لوڈ شیڈنگ فراڈ اور دھوکا ہے ،لوڈ شیڈنگ سے کراچی کا ہر شہری اور تاجر طبقہ بھی متاثر ہورہاہے ، کے الیکٹرک نے گیس کا بہانہ بنا کر عوام کو مصنوعی بحران میں مبتلا کیاہے ، کے الیکٹرک اگر اپنے تمام پلانٹ چلائے اور فرنس آئل کو استعمال کرے تو شہر میں لوڈ شیڈنگ ختم ہوسکتی ہے ،،وزیر اعلیٰ وفاقی حکومت کو خطوط لکھ کر خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے ، آج کراچی کے شہری پینے کے صاف پانی کوترس رہے ہیں ،عوام اگر ایک ماہ کا بل ادا نہ کرے تو کے الیکٹرک بجلی معطل کردیتا ہے لیکن کے الیکٹرک گیس کمپنی کی 80ارب روپے کی مقروض ہے اس کا لائسنس کیوں منسوخ نہیں کیا جاتا ، جماعت اسلامی کی ’’حقوق کراچی تحریک ‘‘جاری ہے ، کراچی کا ہر شہری تحریک میں جماعت اسلامی کا ساتھ دیں ۔

حافظ نعیم الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ سعید آباد کے تاجروں نے آج کا احتجاج منظم کر کے کے کرپٹ اور نااہل کے الیکٹرک کے خلاف اپنا شدید رد عمل ظاہر کیا ہے ، کے الیکٹرک ایک مافیا بن چکی ہے جو کہ میٹر رینٹ ، اوور بلنگ اور دیگر چارجز لگا کر کر عوام کو لوٹ رہی ہے ، کے الیکٹرک نے سیاسی پارٹیوں کو خرید کر مک مکا کیا ہوا ہے اور بھاری تنخواہوں پر سیاسی اور سفارشی ملازمین بھرتی کیے ہوئے ہیں ، آج اگر ایم کیو ایم ، پیپلز پارٹی یا ن لیگ کے الیکٹرک کے خلاف بیان دیتی ہے تو یہ بیان عوام کے مفاد کے لیے نہیں بلکہ یہ بیان کے الیکٹرک کی حمایت میں ہو تا ہے لیکن عوام اب جان چکے ہیں کہ کے الیکٹرک اور ان کی سرپرستی کرنے والوں کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا ۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے کے الیکٹرک کے خلاف سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی ہوئی ہے جو کہ دوسال سے زیرالتواء ہیں ، چیف جسٹس ثاقب نثار سے اپیل کرتاہوں کہ کے الیکٹرک اور ان کی سرپرستی کرنے والوں کو بھی کٹہرے میں لائیں ، ان کا احتساب ہو تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے ۔ انہوں نے کہا کہ آج کراچی میں ہر شہری پینے کے پانی کو ترس رہا ہے ، غیر منصفانہ تقسیم ، بد عنوانی اور ٹینکر مافیا کے باعث کراچی کا پانی فروخت کیا جارہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے کے الیکٹرک اور نادرا کے خلاف آئینی و جمہوری اور قانونی طریقے سے جدوجہد کی ہے عوام کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے جماعت اسلامی 20اپریل کو وزیر اعلیٰ ہاؤس کا گھیرا ؤ کرے گی اور حکومت نے اس کے بعد بھی کوئی سنجیدہ کوشش اور اقدامات نہ کیے تو 27اپریل کو شہر بھر میں پُر امن ہڑتال کی جائے گی ۔ شہری عوام کے بنیادی حقوق کے لیے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں اور اس تحریک کا حصہ بنیں۔#