چودھری پرویزالٰہی، طارق بشیر چیمہ اور اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کا نگران وزیراعظم کے ناموں پر تبادلہ خیال

سب سے پہلے 2011ء میں جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کا مطالبہ لے کر آگے بڑھے، سلام پھیرا تو اب یہ بات کرنے والے تمام ساتھی غائب تھے، چودھری پرویزالٰہی

جمعرات اپریل 18:01

چودھری پرویزالٰہی، طارق بشیر چیمہ اور اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کا نگران ..
اسلام آباد/لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) پاکستان مسلم لیگ کے سینئرمرکزی رہنما و سابق نائب وزیراعظم اور پارلیمانی لیڈر چودھری پرویزالٰہی اور مرکزی سیکرٹری جنرل طارق بشیر چیمہ ایم این اے نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ سے ملاقات کی جس میں نگران وزیراعظم کیلئے ناموں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستان مسلم لیگ کی جانب سے نگران وزیراعظم کیلئے نام دئیے گئے جبکہ اپوزیشن لیڈر کے زیر غور ناموں پر بھی گفتگو ہوئی۔

اپوزیشن لیڈر کی جانب سے بتایا گیا کہ ابھی نام طے کرنے میں وقت باقی ہے اس لیے وہ ناموں کے بارے میں مزید سوچ بچار کر رہے ہیں اس پر مسلم لیگ کے رہنمائوں نے کہا کہ وہ بھی ناموں کا مزید جائزہ لیتے ہیں جس کے بعد اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگی رہنمائوں میں پھر میٹنگ ہو گی۔

(جاری ہے)

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کے دوران چودھری پرویزالٰہی نے جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کے بارے میں سوال کے جواب میں کہا کہ آج اس بارے میں بات ہو رہی ہے لیکن یاد رہے کہ میں نے سب سے پہلے 2011ء میں ملتان میں جلسہ عام کے دوران جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا، اس موقع پر یہ تمام ساتھی بھی موجود تھے جو آج یہ مطالبہ کر رہے ہیں ان میں سابق صوبائی صدر سردار فاروق خان لغاری، ان کے صاحبزادے اویس لغاری جو آج کل وفاقی وزیرہیں، اسحاق خاکوانی، جاوید علی جو اب ن لیگ میں ہیں، رانا قاسم نون اور دیگر بہت سے ساتھی ہمارے ساتھ تھے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے اس سلسلہ میں جنوبی پنجاب کے دورے کیے اور اس معاملہ کو لے کر آگے بڑھا، جب سلام پھیرا تو یہ سب ساتھی غائب تھے، کوئی کہیں اورکوئی کہیں کھڑا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ جنوبی پنجاب کے عوام کا ساتھ دیا اور اپنے پانچ سال میں ان کی پسماندگی اور احساس محرومی کے خاتمے کیلئے انقلابی اور مثالی کام کیے۔