مینٹل ہسپتال علاج گاہ نہیں بلکہ جیل ہے،چیف جسٹس سپریم کورٹ

مینٹل ہسپتال میں خواتین مریضوں کوبھی مردورکرزدیکھتےہیں،مینٹل ہسپتال میں پیازکی جگہ شیرا دیا جاتا ہے،پتا چلا یہاں بچیوں کوجنسی ہراساں بھی کیا جاتا ہے۔جسٹس ثاقب نثارکے ریمارکس

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ ہفتہ اپریل 15:21

مینٹل ہسپتال علاج گاہ نہیں بلکہ جیل ہے،چیف جسٹس سپریم کورٹ
لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔21 اپریل 2018ء) ::چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ مینٹل ہسپتال علاج گاہ نہیں بلکہ جیل ہے،مینٹل ہسپتال میں خواتین مریضوں کوبھی مردورکرزدیکھتےہیں،مینٹل ہسپتال میں پیازکی جگہ شیرا دیا جاتا ہے،پتاچلایہاں بچیوں کوجنسی ہراساں بھی کیا جاتا ہے۔ میڈیا رہورٹس کے مطابق سپریم کورٹ میں ذہنی معذورخاتون کی سزائےموت پرعملدرآمد کیس کی سماعت ہوئی۔

قیدی خاتون کی اپیل سپریم کورٹ کے5 رکنی بنچ کے روبرولگانے کی ہدایت کردی۔ قیدی کنیزفاطمہ کاعلاج پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ کرانے سمیت عدالت نے کنیزفاطمہ کی ذہنی حالت کےجائزے کیلئے میڈیکل بورڈ بنانےکا بھی حکم دیا۔عدالتی حکم پرمینٹل اسپتال کےڈاکٹرطاہرمنیر بھی پیش ہوئے۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نےسوال کیا کہ کیا ذہنی مریض کی سزائے موت پرعملدرآمد کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے کہاکہ میری عقل اورسمجھ میں نہیں آتا کہ ذہنی مریض کوپھانسی پرلٹکایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ کافی عرصہ پہلے مینٹل اسپتال کا دورہ کیا تھا۔ چیف جسٹس نےدوران سماعت ریمارکس دیےکہ مینٹل اسپتال علاج گاہ نہیں بلکہ جیل ہے۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ مینٹل اسپتال میں پیازکی جگہ شیرا دیا جاتا ہے۔ مینٹل اسپتال میں خواتین مریضوں کوبھی مرد ورکرز ہی دیکھتےہیں۔ انہوں نے کہا کہ پتا چلا مینٹل اسپتال میں بچیوں کوجنسی ہراساں کیا جاتا ہے۔ اب آپ تیاررہیں میں کسی بھی وقت مینٹل اسپتال کا دورہ کرسکتا ہوں۔