سید علی گیلانی کی کشمیری نوجوانوں کی گرفتاریوں کی شدید مذمت

اتوار اپریل 19:10

سرینگر ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل2018ء) مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے بھارتی فورسز کی طرف سے کشمیری نوجوانوں کے خلاف کریک ڈائونز اور چھاپوں کا نیا سلسلہ شروع کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق سید علی گیلانی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں بھارتی فورسز کی طرف سے نہتے نوجوانوں کے خلاف خوف و دہشت کا ماحول قائم کرنے پر افسوس کا اظہار کیا۔

حریت چیئرمین نے کہا کہ نوجوانوں کو گرفتاراور نظربند کرکے شدید جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔تاہم انہوںنے کشمیریوں کے اس عزم کا اعادہ کیاکہ وہ بھارت کے ان ظالمانہ ہتھکنڈوں سے حق خودارادیت کے ناقابل تنسیخ حق،حق خودارادیت سے کبھی دستبردار نہیں ہونگے۔

(جاری ہے)

بھارتی فوجیوں نے ضلع پلوامہ کے علاقے کریم آباد میںاحتجاجی مظاہرین پر فائرنگ کرکے تین افراد کو زخمی کردیا۔

یہ لوگ بھارتی فوجیوں کی طرف سے علاقے میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی شروع کرنے کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔زخمیوں کو علاج کے لیے سرینگرہسپتال منتقل کردیا گیا۔ قابض انتظامیہ نے دختران ملت کی سربراہ کوا پنے چار پارٹی کارکنوں کے ہمراہ 8روزہ عدالتی ریمانڈ پر سینٹرل جیل سرینگر منتقل کردیا ہے۔آسیہ اندرابی اور دختران ملت کی دیگر کارکنوں کو گزشتہ رات ضلع اسلام آباد کے علاقے آنچی ڈورہ میں ایک چھاپے کے دوران گرفتار کیاگیا تھا۔

ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کٹھوعہ میں کم سن بچی آصفہ کی بے حرمتی اور قتل کیس میں انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے مقدمہ عدالت عالیہ میں چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کی طرف سے واشنگٹن میں جاری انسانی حقوق کے بارے میں2017ء کی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں شہریوںکو مبینہ طور پر فرضی مقابلوں میں قتل کرکے ان پر غیر ملکی دہشت گرد ہونے کا الزام لگایاجاتاہے۔

رپورٹ میں2010ء میں مقبوضہ علاقے میں تین شہریوں کے قتل میں ملوث فوجی اہلکاروں کی عمر قید کی سزا آرمڈ فورسز ٹریبونل کی طرف سے معطل کرنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کو بھی زیر بحث لایاگیا ہے جو صرف جموں وکشمیر میں نافذ ہے اور جس کے تحت انتظامیہ کسی بھی شخص کو کسی الزام یا عدالتی کارروائی کے بغیر دو سال تک نظربند کرسکتی ہے اور ان کے اہلخانہ کو اسے ملنے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی۔

رپورٹ کے مطابق جموںو کشمیر میں پولیس لوگوں کو باربار نظربند کرتی ہے اور ان کو اپنے وکلاء تک رسائی نہیں دی جاتی اور نہ طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ رپور ٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 2012سے 2015ء کے درمیان آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ کے تحت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے 186 شکایات میں سے 49.5فیصد شکایات جموںو کشمیر سے کی گئی تھیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ انتظامیہ باالخصوص متنازعہ علاقوں بشمول جموںوکشمیر کی انتظامیہ نظربند افراد کے اہلخانہ کو ان سے ملنے کی اجازت نہیں دے رہی ۔

رپورٹ میں کہاگیا کہ جیلوں میں اکثر گنجائش سے زائد افراد کو رکھا جاتاہے اوران میں معیاری غذا ،طبی سہولیات، صفائی ستھرائی اور صاف ماحول کا فقدان ہے جبکہ مناسب پانی دستیاب نہیں ہوتا۔ جیلوں اور حراستی مراکز کو مناسب رقوم اور عملہ فراہم نہیں کیا جاتا اور ان میں ناکافی بنیادی ڈھانچہ ہے جبکہ قیدیوں کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔