ملک میں چین کی سرمایہ کاری کے حق میں ہیں تاہم سی پیک میں اپنا حق بھی چاہتے ہیں، میاں افتخار حسین

کابل میں ہونے والے دھماکے بدترین کاروائی تھی، شہداکے لواحقین کے غم میں شریک ہیں،سرحد کے دونوں جانب پختون چالیس سال تک افغان جنگ کے نام پر مرتے رہے، پاکستان اور افغانستان کا امن ایکدوسرے سے مشروط ہے ، دونوں ملک مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کریں،صحافیوں سے بات چیت

پیر اپریل 23:05

لنڈی کوتل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ کابل میں ہونے والے دھماکے بدترین کاروائی تھی اور امریکہ کی داعش کو سپورٹ کے باعث لاشیں گرنے کا سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے لنڈی کوتل پریس کلب میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ، اے این پی خیبر ایجنسی کے صدر شاہ حسین شنواری اور مقامی قائدین اور کارکن بھی موجود تھے، میاں افتخار حسین نے کابل دھماکوں میں صحافیوں کی شہادت پر لنڈی کوتل پریس کلب کی صحافی برادری سے افسوس کرتے ہوئے اظہار یکجہتی کیا اور کہا کہ افغانستان میں تحریک طالبان اور داعش کی چپقلش کے باعث امریکہ نے پینترا بلا اور اب وہ داعش کو سپورٹ کر رہا ہے جس کی وجہ سے بے گناہ انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں،انہوں نے کہا کہ سرحد کے دونوں جانب پختون چالیس سال تک افغان جنگ کے نام پر مرتے رہے اور اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو مزید چالیس سال تک پختونوں کا خون بہتا رہے گا،انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کا امن ایکدوسرے سے مشروط ہے ،لہٰذا دونوں ملک اپنے مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کریں اور اپنی پالیسیاں سپر پاورز کی بجائے قومی مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے بنائیں ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ دوسری صورت میں چین کو دونوں ملکوں کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنا چاہئے ، انہوں نے کہا کہ تمام مسائل کے حل کیلئے 20نکاتی متفقہ ایجنڈا موجود ہے جو حکومتوں کی غفلت کے باعث قابل عمل نہ ہو سکا ، حکومتیں کالعدم تنظیموں کو سپورٹ کررہی ہیں اور یہ جماعتیں خود کو رجسٹرڈ کرا کے پارلیمنٹ تک رسائی چاہتی ہیں،اور یہ ایک ایسی خطرناک صورتحال ہے جس کی روک تھام نہ کی گئی تو بعد میں نمٹنا نا ممکن ہو جائے گاانہوں نے کہا کہ ہم خطے میں امن کے خواہاں ہیں ،،فاٹا کے حوالے سے انہوں نے ایک بار پھر مؤقف دہرایا اور کہا کہ آئندہ عام انتخابات سے قبل فاٹا کو صوبے میں ضم کر کے صوبائی اسمبلی میں اسے نہ صرف نمائندگی دی جائے بلکہ آئینی ترمیم کے ذریعے صوبائی کابینہ میں انہیں حصہ دیا جائے ، انہوں نے کہا کہ صرف دو افراد فاٹا اصلاحات کی مخالفت کر رہے ہیں جو سمجھ سے بالاتر ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں فاٹا کا حصہ ہونا چاہئے اور صوبے و مرکز کی طرف سے خصوصی پیکج کے ساتھ اسے صوبے میں ضم کیا جائے خواتین کی نمائندگی بھی فاٹا کو ملنی چاہئے ، انہوں نے سپریم کورٹ اور پشاور ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار فاٹا تک بڑھانے کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ ایف سی آر کے خاتمے کی جانب یہ اہم قدم ہے ،، اٹھارویں ترمیم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ 10جنوری کو وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس کے بعد کیبنٹ ڈویژن نے اٹھارویں ترمیم کی واپسی کیلئے تجاویز طلب کیں ، صرف چند عناصر ایسے ہیں جن کی آنکھ میں اٹھارویںترمیم کھٹک رہی ہے ،تاہم اگر اسے رول بیک کیا گیا تو اے این پی میدان میں ہو گی۔

(جاری ہے)

سی پیک بارے میاں افتخار حسین نے کہا کہ چینی سفیر کے ساتھ بارہا ملاقاتوں میں انہوں نے مغربی اکنامک کوریڈور تعمیر کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے تاہم مرکز ی حکومت نے دھوکہ دیا، انہوں نے کہا کہ سی پیک میں صوبے کا حق نہ ملا تو یہ پختونوں کا معاشی قتل ہوگا ،انہوں نے کہا کہ ہم ملک میں چین کی سرمایہ کاری کے حق میں ہیں تاہم سی پیک میں اپنا حق بھی چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ وفاق کی جانب سے تعصبانہ رویے کی وجہ سے صوبے میں سرمایہ کاری کا راستہ بند کیا جا رہا ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ مغربی اکنامک کوریڈور کو اس کی اصل شکل میں تعمیر کیا جائے اور قبائل میں ایکسپریس وے تعمیر کر کے تمام قبائلی علاقوںکو اس سے منسلک کیا جائے ۔

قبل ازیں میاں افتخار حسین لنڈی کوتل میں دریا خان کے چچا زاد میجر دوست محمد مرحوم کی رہائش گاہ پر گئے اور ان کی وفات پر فاتحہ خوانی کی۔