سینٹ اجلاس، اپوزیشن کی جانب سے بجث کے حوالے اقتصادی ایمرجنسی نافذ کرنے پر بحث

نئے انتخابات ہونے والے ہیں، اگر چار مہینے کا بجٹ دے دیا جاتا تو اس میں کیا حرج تھا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بجٹ کے اعلان کے بعد مزید اضافہ ہوگا، بالواسطہ ٹیکسوں سے عوام پر بوجھ پڑتا ہے، حکومت کو انہیں کم کرنا چاہئے، بجٹ خسارے کا بجٹ ہے، اپوزیشن جماعتوںکے ساتھ مل کر فیصلہ کریں گے اپنی سفارشات دیں یا نہ دیں ، شیریں رحمان بجٹ میں غریبوں کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا بلکہ ان پر بوجھ مزید بڑھے گا اور مہنگائی میں اضافہ ہوگا،سکندر میندھرو حکومتی اقدامات کے نتیجے میں صورتحال بہتر ہو رہی ہے ، رواں مالی سال کے دوران برآمدات 13 فیصد کی شرح سے بڑھی ہیں ،10 ہزار میگاواٹ آئندہ چند سال میں شامل ہو جائیگی،زراعت کا شعبہ 3.81 فیصد کی شرح سے ترقی کر رہا ہے، جی ڈی پی کے تناسب سے اس وقت ہمارے قرضے 61.4 فیصد ہیں، بیرونی قرضوں میں کمی آئی ،برآمدات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ،سٹاک مارکیٹ 2013ئ میں 19916 پوائنٹس پر تھی، آج تینوں اسٹاک ایکسچینجوں کو ضم کر کے یہ 45000 سے اوپر ہے اور اس میں اڑھائی گنا سے زائد کا اضافہ ہوا ہے، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے ریونیو ہارون اختر خان کا ، اقتصادی ایمرجنسی نفاذ کے مطالبے پر سینٹ میں بحث کے دوران اظہار خیال بحث جاری تھی سینٹ کا اجلاس بدھ کی سہ پہر تین بجے تک ملتوی کر دیا گیا

پیر اپریل 23:40

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) سینٹ اجلاس میں بجٹ پر بحث کے دوران وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے ریونیو ہارون اختر خان نے اقتصادی ایمرجنسی کے نفاذ کے مطالبہ کے سوال پر کہاہے کہ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں صورتحال بہتر ہو رہی ہے ، رواں مالی سال کے دوران برآمدات 13 فیصد کی شرح سے بڑھی ہیں ،10 ہزار میگاواٹ آئندہ چند سال میں شامل ہو جائیگی ،حکومتی اقدامات پر عمل درآمد جاری رہا تو چند سال میں جی ڈی پی کے تناسب میں ٹیکسوں کی وصولی میں مزید اضافہ ہوگا۔

پیر کو سینٹ میں آئندہ مالی سال 2018-19ئ کے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2013ئ میں پاکستان کی شرح نمو 2.2 سے 3 فیصد کے درمیان تھی جو اس وقت 5.8 فیصد ہے ،سروسز کا شعبہ جو پاکستان کی معیشت کا 61 فیصد ہے، 2013ئ میں اس کی شرح نمو 5.13 فیصد تھی جو آج 6.43 فیصد ہے۔

(جاری ہے)

زراعت کا شعبہ 3.81 فیصد کی شرح سے ترقی کر رہا ہے۔ لارج سکیل مینوفیکچرنگ کا شعبہ 2013ئ میں 2.98 فیصد تھا۔

آج 6.24 فیصد کی شرح سے ترقی کر رہا ہے۔ سیمنٹ انڈسٹری، آٹو انڈسٹری اور تعمیرات کے شعبے میں بھی مسلسل بہتری نظر آ رہی ہے۔ 2013ئ میں زرعی شعبہ کے لئے جولائی سے فروری تک 196 ارب روپے قرضہ دیا گیا جبکہ موجودہ مالی سال کے دوران یہ 570 ارب روپے سے بڑھ گیا ہے۔ 2013ئ میں گندم کی پیداوار 24.21 ملین ٹن تھی جو اس وقت 25.5 ملین ٹن ہے۔ چاول کی پیداوار 2013ئ میں 5.45 ملین ٹن تھی جو اس وقت 7.44 ملین ٹن ہے۔

مکئی کی پیداوار 2013ئ میں 4.22 ملین ٹن تھی جو اس وقت 5.70 ملین ٹن ہے۔ گنے کی پیداوار 2013ئ میں 63.79 ملین ٹن تھی، آج یہ 81.16 ملین ٹن ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پی آئی انفلیشن 2013ئ میں 8 فیصد سے زائد تھا، آج یہ 3.78 فیصد ہے۔ فوڈ انفلیشن 2013ئ میں 7.9 فیصد تھا، آج یہ 2 فیصد ہے۔ ورکرز ریمی ٹینسز 2013ئ میں 13 ارب ڈالر تھے، آج یہ 20 ارب ڈالر سے زائد ہیں۔ غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 2013ئ میں 11.85 ارب ڈالر تھے، آج یہ 17 ارب ڈالر سے زائد ہیں۔

فی کس آمدنی 2013ئ میں 1333 ڈالر تھی، آج یہ 1640 ڈالر ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لئے مختص رقم 2013ئ میں 46.5 ارب روپے تھی، اس سال 121 ارب روپے ہو گئی ہے اور اس میں تین گنا اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے روزگاری کی شرح جانچنے کا اگرچہ کوئی طریقہ کار ہمارے پاس وضع نہیں ہو سکا تاہم 2013ئ میں عالمی طریقہ کار کے مطابق بے روزگاری کی شرح 6.2 فیصد تھی، اب یہ کم ہو کر 5.90 فیصد پر آ گئی ہے۔

سٹاک مارکیٹ 2013ئ میں 19916 پوائنٹس پر تھی، آج تینوں اسٹاک ایکسچینجوں کو ضم کر کے یہ 45000 سے اوپر ہے اور اس میں اڑھائی گنا سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔ اس میں مارکیٹ کیپیٹلائزیشن میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ 2013ئ میں ایف بی آر کی وصولیاں 1946 ارب روپے تھیں، آج یہ دوگنا اضافہ کے ساتھ 4 ہزار ارب روپے سے زائد ہیں۔ جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکس وصولی 2013ئ میں 8 فیصد تھی، آج یہ 11.9 فیصد ہے اور اگر 0.5 فیصد کی شرح سے اس میں اضافہ ہر سال ہو تو دس سال میں ہمارا مالیاتی خسارہ ختم ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ 2013ئ میں پالیسی ریٹ 9 فیصد تھا، آج یہ 6 فیصد ہے۔ 2013ئ میں نجی شعبہ کوئی قرضہ نہیں لے رہا تھا۔ اس سال 750 ارب روپے نجی شعبہ کو قرضہ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی ڈی پی کے تناسب سے اس وقت ہمارے قرضے 61.4 فیصد ہیں تاہم بیرونی قرضوں میں کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ، عالمی سطح پر کساد بازاری رہی لیکن ہمیں کرنسی کو بھی مضبوط رکھنا تھا، اس وجہ سے برآمدات میں زیادہ اضافہ نہیں ہوا تاہم حکومتی اقدامات کے نتیجے میں صورتحال بہتر ہو رہی ہے اور برآمد کنندگان کو ایک بڑا پیکیج دیا گیا ہے۔

رواں مالی سال کے دوران برآمدات 13 فیصد کی شرح سے بڑھی ہیں اور مارچ میں ان میں 24 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے مالی سال کے دوران 54 ارب ڈالر کی درآمدات سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ہماری معیشت میں ترقی کی گنجائش موجود ہے اور اسی وجہ سے درآمدات ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی خسارہ بھی کم ہوا ہے، چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت پاکستان میں 57 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔

توانائی کے شعبہ میں بہتری کے نتیجہ میں 12 ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل ہوئی ہے ، 10 ہزار میگاواٹ آئندہ چند سال میں شامل ہو جائے گی۔ کاروباری اشاریئے مثبت ہیں۔ سیاسی استحکام سے ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ ملتا ہے۔ ایف بی آر موثر انداز میں کام کر رہا ہے۔ ایف بی آر میں اصلاحات کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلمی صنعت کو سہولیات دی گئی ہیں۔

ایل این جی اور کمپیوٹر پر ٹیکس کم کیا ہے۔ یہ ٹیکس 200 ایسوسی ایشنوں اور چیمبرز کی مشاورت سے تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومتی اقدامات پر عمل درآمد جاری رہا تو چند سال میں جی ڈی پی کے تناسب میں ٹیکسوں کی وصولی میں مزید اضافہ ہوگا۔ آئندہ مالی سال 2018-19ئ کے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے قائد حزب اختلاف سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ نئے انتخابات ہونے والے ہیں، اگر چار مہینے کا بجٹ دے دیا جاتا تو اس میں کیا حرج تھا۔

انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بجٹ کے اعلان کے بعد مزید اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بالواسطہ ٹیکسوں سے عوام پر بوجھ پڑتا ہے، حکومت کو انہیں کم کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ خسارے کا بجٹ ہے، اپوزیشن جماعتوںکے ساتھ مل کر فیصلہ کریں گے کہ اس کے لئے اپنی سفارشات دینی ہیں یا نہیں، ابھی تک اس حوالے سے ہم نے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ میں عوام کو ریلیف دیا جاتا ہے لیکن اس میں ہمیں ایسی کوئی چیز نظر نہیں آ رہی۔ پیپلز پارٹی کے سکندر میندھرو نے کہا کہ حکومت کے پاس صرف 34 دن تھے، اسے پورے مالی سال کا بجٹ پیش نہیں کرنا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں غریبوں کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا بلکہ ان پر بوجھ مزید بڑھے گا اور مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔بعد ازاں سینٹ کا اجلاس بدھ کی سہ پہر تین بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔