انٹرنیشنل فورم فار جسٹس اینڈ ہیومن رائٹس کے زیر اہتمام مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کیخلاف سیمینار‘‘ کا انعقاد

ہفتہ مئی 20:01

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 مئی2018ء) مقبوضہ جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کیخلاف انٹرنیشنل فورم فار جسٹس اینڈ ہیومن رائٹس جموں کشمیر کے زیر اہتمام ’’ سیمینار‘‘ کا انعقاد، سابق صدر آزاد جموں و کشمیر سردار یعقوب خان ،(ر) جنرل ،سینیٹر عبدالقیوم ، سابق ہائی کمشنر عبدالباسط، وائس چانسلر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میر پور ڈاکٹر حبیب الرحمان، وائس چیئرمین انٹرنیشنل فار جسٹس و منتظم سیمینار مشتاق الاسلام، ممبر نیشنل اسمبلی پی ٹی آئی علی محمد خان، جسٹس (ر)شریف الدین بخاری، حریت کانفرنس کے کنونیئرزغلام محمد صفی ،فیض نقشبندی ،ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ فرزانہ باری، پروفیسر قائد اعظم یونیورسٹی ڈاکٹر راحت زبیر، پروفیسر شاہینہ اختر، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی پروفیسر شاہینہ اختر، بیرسٹر افضال حسین، سردار عثمان عتیق، محمد الطاف وانی، محمد رفیق ڈار، شیخ تجمل اسلام، عبدالحمید لون، ، شمیم شال ، جنرل(ر) امجد شعیب دفاعی تجزیہ نگار سمیت سیاسی، سماجی شخصیات نے کثیر تعداد میں شرکت کی، اس موقع پر موجود شرکاء نے کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور عالمی ادارے کے کمیشن برائے بھارت اور پاکستان کی قراردادوں جن میں عالمی ادارے نے جموں کشمیر میں رائے شماری کرنے کے ذریعے کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دینے کا وعدہ کیاتھا کا حوالہ دیتے ہوئے بھارت کو اس بارے میں عالمی برادری ، پاکستان اور کشمیری عوام سے کئے گئے وعدوں کو پوارا کرنے پر زور دیا۔

(جاری ہے)

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ بھارت جموں و کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، عالمی ادارے کے منشور، انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی قوانین ، جنیوا کنونشن اور انسانی حقوق کے بارے میں عالمی اعلامیہ کی کھلی خلاف ورزیاں کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنیوا میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے بارے میں ہائی کمشنر، او آئی سی اور برطانیہ ، یورپ اور دیگر ممالک کے منتخب نمائندوں کی طر ف سے مقبوضة کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی آزادنہ تحقیقات کرانے کے مطالبے پر بھارت مسلسل انکار کررہا ہے۔

مقررین نے بھارتی فوجیوں کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر جاری انسانی حقوق کی پامالیوں خاص طور پر نہتے کشمیریوں کے قتل عام اور ان پر مظالم کے تازہ واقعات ، جعلی مقابلوں ، نظر بندیوں کے ساتھ روا رکھے جانیوالے غیر انسانی سلوک، نوجوانوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے، خواتین کی بے حرمتیوں، قتل عام اور نظر بندیوں کو مقررہ تاریخوں پر عدالتوں میں پیش کئے بغیر انکی غیر قانونی نظر بندی کو طول دینے پر اظہار تشویش کیا۔

انہوں نے قابض فورسز کی طرف سے پرامن مظاہرین کے خلاف مہلک پیلٹ گن کا استعمال کر کے کشمیریوں خاص طور پر نوجوانوں کو بصارت سے محروم کرنے اور تلاشی اور محاصرے کی کارروائی کے دوران لوگوں کو قتل اور عمارتوں کو تباہ کرنے کی مذمت کی ۔ مقررین نے مقبوضہ کشمیر میں حریت رہنمائوں کی مسلسل نظربندی اوربھارتی قابض انتظامیہ کی طرف سے ان پر عائد غیرقانونی پابندیوں پر افسوس کا اظہار کیا۔

مقررین نے کہا کہ کشمیری طلباء کو تعلیم حاصل کرنے کے حق سے محروم رکھا جارہا ہے کیونکہ انہیں تعلیمی اداروں سے نکال کر سڑکوں پر گھسیٹتے ہوئے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایاجارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت حریت رہنمائوں کو نظربند کھنے انہیں ہراساں کرنے اورکشمیری عوام تک ان کی رسائی کو روکنے کیلئے تحقیقاتی اداروں این آئی اے اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے علاوہ پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے کالے قوانین کو استعمال کر رہا ہے انہوں نے کشمیریوں کے ناقابل تسیخ حق’’ حق خودارادیت ‘‘کے حصول کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے ہزاروں کشمیری شہداء کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا انہوں مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی شہریوں کو بسانے اوربھارتی آئین کی دفعہ370اور35Aکی منسوخی کی سازشوں کے ذریعے جموں کشمیر میں مسلمانوں کی غالب اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے بھارتی عزائم پر شدید تشویش ظاہر کی۔

مقررین نے جمو ریجن کے مسلمانوں کو ہجرت پر مجبورکرنے کے بھارتی ہتھکنڈوں خاص طور پر کٹھوعہ میں ہندوانتہاپسندوں کی طرف سے آٹھ سالہ بچی آصفہ کی بے حرمتی اورقتل کے حالیہ واقعے کی شدید مذمت کی۔انہوں نے کہا کہ یہ اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض فورسز کی طرف سے انسانی حقوق کی پامالیاں اور کشمیریوں کی منظم نسل کشی رکوانے کیلئے اپنا کرداراداکرے۔

انہوں نے دس ہزار سے زائد کشمیریوں کی دوران حراست گمشدگی پر شدید تشویش ظاہر کی۔۔مقبوضہ کشمیر میں اجتماعی گمنام قبروں کی دریافت کے بارے میں تحقیقاتی اداروں کی رپورٹوں کا نوٹس لیتے ہوئے مقررین نے اقوام متحدہ کی زیرنگرانی جنگ بندی لائن پر پاکستان اوربھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اورکنٹرول لائن کے قریب بھارتی فورسز کی طرف سے شدید گولہ باری کے ذریعے نہتے کشمیریوں کے قتل پر تشویش ظاہر کی۔

سیمینار کے شرکاء نے قوام متحدہ پر زوردیا کہ وہ کشمیر بارے متعلقہ قراردادوں کے مطابق اپنی زیرنگرانی جموں وکشمیر میں رائے شمار کرانے کی ذمہ داری پوری کرے اور کہا کہ اقوام متحدہ عالمی ریڈکراس اورانسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سمیت تمام عالمی اداروں سے تماحریت رہنمائوں اور کارکنوں کو رہا کرانے اور کالے قوانین کی منسوخی کیلئے بھارتی پر دبائو بڑھائے،مقررین نے اقوام متحدہ اور دیگر متعلقہ بین الاقوامی فورموں سے بھارتی فورسز اور آر ایس ایس اور بی جے پی جیسی ہندو دہشت گرد تنظیموں کی طرف سے کشمیریوں کے قتل عام، خواتین کی بے حرمتیوں، جعلی مقابلوں، جبری گمشدگیوں ، پیلٹ گنڈوں کے ذریعے دانستہ طور پر نوجوانوں کو بصارت سے محروم کرنے اور فوجی کارروائیوں کے دوران کیمیائی مواد استعمال کرنے کی تحقیقات پر زور دیا اور ان میں ملوث اہلکاروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا۔

اقوام متحدہ سے مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے بھارتی عزائم کا سخت نوٹس لینے پر زور دیا کیونکہ یہ عزائم کشمیریوں کے ناقابل تنسیخ حق، خودارادیت، جموں وکشمیرکے بارے میں اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مقصد اور ان قراردادوں کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں کبھی بھی منعقد کرائی جانیوالی رائے شماری کے نتائج کو شکست دینے کی ایک سازش ہے۔

اسلامی تعاون تنظیم(او آئی سی) اور یورپی یونین سمیت تمام بین الاقوامی تنظیموں سے دیرینہ تنازعہ جموں و کشمیر کے حل میں بامعنی اور موثر کردار ادا کرنے اور ان تنظیموں کو مقبوضہ کشمیر تک عالمی اداروں کو رسائی دینے کیلئے بھارت سے باضابطہ طور پر رابطہ کرنے کی درخواست کی۔ بھارت پر زور دیا کہ وہ انسانی حقوق کی تمام پامالیاں اور کشمیری عوام کا قتل عام فوری بند کرے اور غیر قانونی طور پر نظر بند تمام کشمیری نظر بندوں کو رہا اور حریت رہنمائوں ، کارکنوں اور نوجوانوں کے خلاف درج تمام جھوٹے مقدمات ختم کرے۔