دبئی اسٹیل ملز کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے علاوہ مجھے کسی بات کا نہیں پتہ اور نہ قطری خاندان کے ساتھ کاروبارمیں خود شریک رہا۔نواز شریف

رابرٹ ریڈلے کی رپورٹ کی کوئی حیثیت نہیں کیونکہ اس کے پاس اصل دستاویز ہی نہیں‘اخترراجہ کا عدالت میں دیا گیا بیان جانبدارانہ تھا۔ایوان فیلڈ ریفررنس میں بیان

Mian Nadeem میاں محمد ندیم منگل مئی 11:29

دبئی اسٹیل ملز کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے علاوہ مجھے کسی بات کا نہیں ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔22 مئی۔2018ء) نیب ریفرنسز کی سماعت کے دوران سابق وزیراعظم نواز شریف نے قطری خطوط کو تسلیم کرلیا ہے۔منگل کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر شریف خاندان کیخلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کررہے ہیں۔سابق وزیراعظم نوازشریف،، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر)صفدر عدالت میں موجود ہیں۔

سماعت کے دوران نواز شریف نے دوسرے روز بھی اپنا بیان قلمبند کرانے کا سلسلہ جاری رکھا، انہوں نے کہا کہ جیرمی فری مین کے 5 جنوری 2017 کے خط میں ٹرسٹ ڈیڈ کی تصدیق کی گئی، جیرمی فری مین نے کومبر گروپ اور نیلسن نیسکول ٹرسٹ کی تصدیق کی‘ ان کے پاس ٹرسٹ ڈیڈ کی کاپی آفس میں موجود تھی لیکن تفتیشی افسر نے بھی ان سے ٹرسٹ ڈیڈ کی کاپیاں لینے کی کوشش نہیں کی، اختر راجہ نے نیب کی 3 رکنی ٹیم کی رابرٹ ریڈلے سے ڈھائی گھنٹے ملاقات کرائی، رابرٹ ریڈلے کی رپورٹ کی کوئی حیثیت نہیں کیونکہ اس کے پاس اصل دستاویز ہی نہیں تھی۔

(جاری ہے)

نواز شریف نے کہا کہ اختر راجہ نے جلد بازی میں دستاویزات خود ساختہ فرانزک ماہر کو ای میل کے ذریعے بھجوائیں، ان کو معلوم ہونا چاہیے فوٹو کاپی پر فرانزک معائنے کا کوئی تصور موجود نہیں، یہ بھی حقیقت ہے فرانزک ماہر نے فوٹو کاپی پر معائنے کے لیے ہچکچاہٹ ظاہر کی۔ سپریم کورٹ میں پہلے جمع کرائی گئی ڈیڈ میں غلطی سے پہلا صفحہ مکس ہوگیا تھا لیکن اختر راجہ نے اس واضح غلطی کی نشاندہی بھی نہیں کی۔

مسلم لیگ (ن) کے قائد نے اپنے بیان میں کہا کہ دبئی اسٹیل ملز کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے علاوہ مجھے باقی معاملات کا پتا نہیں، قطری خاندان کے ساتھ کاروبارمیں خود شریک نہیں رہا۔۔نواز شریف نے قطری خطوط کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ 22 دسمبر 2016 کا قطری شہزادے کا خط اور ورک شیٹ تسلیم شدہ ہے، قطری خطوط کی تصدیق خود حمد جاسم نے سپریم کورٹ کو خط لکھ کر بھی کی، قطری خاندان کے ساتھ کاروبار میں خود شریک نہیں رہا، سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی ورک شیٹ کی تیاری میں بھی شامل نہیں تھا۔

قطری شہزادے نے کبھی جے آئی ٹی کی کارروائی میں شامل ہونے سے انکار نہیں کیا، قطری شہزادے کے آمادہ ہونے کے باوجود بیان قلمبند کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی، جے آئی ٹی نے قطری شہزادے کا بیان خود ریکارڈ نہیں کیا، واجد ضیاءکا تبصرہ سنی سنائی بات ہے۔ نواز شریف نے بیان میںکہا کہ اختر راجہ واجد ضیاءکے کزن ہیں،ان کا عدالت میں دیا گیا بیان جانبدارانہ تھا۔سابق وزیراعظم نوازشریف کا بیان مکمل ہونے کے بعد ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر اپنا بیان ریکارڈ کرائیں گے۔احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں نامزد ملزمان سے الگ الگ سوالات کے جواب طلب کررکھے ہیں۔