پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے مالی سال 2018-19کا تاریخی بجٹ پیش کر کے آزاد خطہ کی تقدیر کو تبدیل کرنے کی بنیاد رکھ دی ہے، حکومت نے مالیاتی خودمختاری حاصل کر لی جو تاریخی کامیابی ہے ، انفراسٹرکچر کو مزید ترقی دے کر سیاحت کے فروغ کے لئے ریاست کو آئیڈیل بنایا جا رہا ہے جو غربت کے خاتمہ میں اہم کردار ادا کرے گا، و زیر خزانہ آزادکشمیر ڈاکٹر محمد نجیب نقی کا پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب

بدھ مئی 13:23

مظفر آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) وزیر خزانہ آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر ڈاکٹر محمد نجیب نقی نے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت نے مالی سال 2018-19کا تاریخی بجٹ پیش کر کے آزاد خطہ کی تقدیر کو تبدیل کرنے کی بنیاد رکھ دی ہے ۔ حکومت نے مالیاتی خود مختاری حاصل کر لی جو تاریخی کامیابی ہے ، انفراسٹرکچر کو مزید ترقی دے کر سیاحت کے فروغ کے لئے ریاست کو آئیڈیل بنایا جا رہا ہے جو غربت کے خاتمہ میں اہم کردار ادا کرے گا ۔

کنٹرول لائن پر بھارتی فائرنگ کا شکار لوگوں کے لئے ایمبولینس سروس سے لے کر پانی ، سیوریج اور تعلیم کی سہولیات کی فراہمی کے لئے 13کروڑ کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے ۔ نئی آسامیوں کی تخلیق کے ساتھ ساتھ اخوت فائونڈیشن، ٹیوٹا ، محکمہ زراعت و لائیو سٹاک کے تحت بے روزگار نوجوانوں کے لئے بلا سود قرضوں کے لئے خطیر رقم مختص کی گئی ہے ۔

(جاری ہے)

وہ منگل کے روز محکمہ اطلاعات کے میڈیا سینٹر میں وزیر منصوبہ بندی و ترقیات کرنل ریٹائرڈ وقار احمد نور کے ہمراہ پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔

اس موقع پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات ڈاکٹر سید آصف حسین، سیکرٹری مالیات فرید احمد تارڑ، سیکرٹری اطلاعات ، سیاحت و آئی ٹی محترمہ مدحت شہزاد نے بھی صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے جبکہ ڈی جی انفارمیشن راجہ اظہرا قبال بھی موجود تھے۔ انہوںنے کہاکہ 2018-19کا آزادکشمیرگورنمنٹ کا تخمینہ میزانیہ 108-2 ارب روپے حجم کے اعتبار سے ریاست کی تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ ہے ۔

غیر ترقیاتی اخراجات کے لئے 82.7 ارب روپے اور ترقیاتی اخراجات کے لئے 25.5 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے ۔ میزانیہ2018-19کی موجودہ مالی سال کے مقابلے میں تقریباً14.6فیصد زیادہ ہے جس میں غیر ترقیاتی اخراجات میں16.3فیصد اور ترقیاتی اخراجات میں10فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے ۔ مہنگائی کے رحجانات کو دیکھتے ہوئے سرکاری ملازمین کی تنخواہ کے 10فیصد کے برابر ایڈہاک ریلیف الائونس، 50 فیصد کے برابر ہائوس رینٹ الائونس میں اضافہ اور پنشن کی موجودہ شرح میں 10فیصد اضافہ یکم جولائی2018سے دیا جائے گا ۔

انہوں نے کہاکہ محصولات کی مد میں ملنے والی گرانٹ میں این ایف سی فریم ورک کے تحت حکومت پاکستان کے ساتھ 1992 مالیاتی نظاممیں ترمیم کرتے ہوئے وفاقی محصولات میں آزادکشمیر کا حصہ2.27فیصد سے بڑھا کر3.64فیصد کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہیلتھ سیکٹر میں سروس ڈیلیوری کو بہتر بنانے کے لئے لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام اور پاپولیشن ویلیفیئر پروگرام کے 4000 سے زائد ملازمین کو وفاقی حکومت سے ملنے والی تنخواہیں ختم ہونے کے بعد آزاد کشمیر حکومت اپنے وسائل سے تنخواہوں کی مد میں میزانیہ2018-19میں تقریباً ایک ارب روپے کا اضافی بوجھ برداشت کررہی ہے ۔

اقتدارنچلی سطح پر منتقلی کی خاطر حکومت نے آئندہ مالی سال بلدیاتی انتخابات کروانے کا فیصلہ کیا ہے جس کیلئے آئندہ مالی سال50کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے ۔ وزیر خزانہ نے کہاکہ آزادکشمیر میں قائم تینوں میڈکل کالجز کی مالی مشکلات کو کم کرنے کے لئے مالی سال2018-19میں گرانٹ ان ایڈ کی صورت میں 30کروڑ روپے رکھے گئے ہیں ۔ معذورافراد کے بہتر علاج کیلئے مظفر آباد کے انفراسٹرکچرکی بحالی کے لئے سالانہ گرانٹ میں تقریباً100فیصد اضافہ کیا گیا ہے ۔

عدالت العظمیٰ میں آئی ٹی کے فروغ و سرکٹ بینچ ہاکی کے مابین رابطہ کے لئے مطلوبہ افرادی قوت مہیا کی گئی ہے ۔ اشتہارات کی مد میں بقایات جات کی ادائیگی کے لئے مالی سال 2018-19میں اضافی تقریباً2کروڑ روپے فراہم کیے گئے ہیں ۔ وزیر خزانہ نے کہاکہ حکومت نے عوام کو سستے اور فوری انصاف کی فراہمی کیلئے ڈویژنل اور ضلعی سطح پر عدالت العالیہ کے سرکٹ بینچ میرپور راولاکوٹ کے علاوہ ضلع کوٹلی میں کیمپ آفس عدالت العالیہ کے دفتر کا قیام عمل میں لایا ہے ۔

انہوں نے کہاکہ فارماسوٹیکل کمپنی اور حکومت آزادکشمیر کے درمیان ہونے والے معاہدہ کے تحت خون کے کیسز میں مبتلا سرکاری ملازمین کے علاج معالجہ کیلئے نظرثانی میزانیہ2017-18میں ایک کروڑ 14لاکھ روپے کی رقم مہیا کی گئی ہے جس سے اس مرض میں مبتلا سرکاری ملازمین علاج معالجہ کروا سکیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ تھیلیسمیا میں مبتلا بچوں کیلئے محفوظ انتقال خون کے مرکز کی بہتر کارکردگی کے لئے بلڈ ٹرانسفیوژن سروس مظفرآبادکو آئندہ مالی سال کے میزانیہ میں مزید رقم فراہم کی گئی ہے ۔

انہوں نے پاکستان و آزادکشمیر کے میڈیکل کالجز سے فارغ التحصیل ڈاکٹرز کے ہائوس جاب اور پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کی ٹریننگ کیلئے مالی سال 2018-19میں وظیفہ کی مد میں 25ملین روپے کی رقم فراہم کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ عوام کے دیرینہ مطالبے پر آزادکشمیر میں دوسرا کیڈٹ کالج چھتر کلاس مظفرآباد کے مقام پر قائم کیا گیا ہے جس میں قاباعدہ کلاسز کا آغاز ہو چکا ہے ۔

کالج کے ملازمین کی تنخواہ و دیگر اخراجات کیلئے آئندہ مالی سال30ملین روپے فراہم کیے جارہے ہیں ۔ محکمہ صحت عامہ کے ڈاکٹرز اور محکمہ تعلیم کے معزز اساتذہ کے دیرینہ مطالبہ کو پزیرائی بخشتے ہوئے حکومت نے مالی سال2018-19سے محکمہ صحت کے جنرل کیڈر ڈاکٹر سے انتظامی کیڈرکی علیحدگی کے علاوہ محکمہ تعلیم میں تدریسی کیڈر اور انتظامی کیڈر الگ الگ کیے گئے ہیں ۔

سالانہ ترقیاتی پروگرام کی تفصیلات بتاتے ہوئے وزیر منصوبہ بندی و ترقیات کرنل ریٹائرڈ وقار احمد نور نے کہا کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام 2018-19کا مجموعی حجم25ارب50کروڑ روپے ہے جس میں ایک ارب80کروڑ روپے کی فارن ایڈ بھی شامل ہیں ۔ مالی سال2018-19کا ترقیاتی میزانیہ مالی سال2017-18کے میزانیہ 23.280ارب روپے کے مقابلے 9.5 فیصد جبکہ 22ارب روپے مقابلہ میں16فیصد زائد ہے ۔

انہوںنے کہا کہ آئندہ سالانہ میزانیہ میں 41فیصد رسل و رسائل،14 فیصد پاور،9فیصد فزیکل پلاننگ اینڈ ہاوسنگ، 8فیصد لوکل گورنمنٹ،8 فیصد تعلیم اور 3فیصد صحت عامہ جبکہ بقیہ17فیصد دیگر پیداواری شعبہ جات وغیرہ کے لئے مختص کیے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ وزارت امور کشمیر کے وفاقی ترقیاتی پروگرام میں 4ارب37کروڑ66 لاکھ روپے کی رقم مہیا کی گئی ہے جس میں آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، میڈیکل کالج مظفرآباد و میرپور، لیسوا بائی پاس و کرن بائی پاسز اور ٹھوعہ ہریام برج کے منصوبہ جات شامل ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ دیگر وفاقی وزارتوں کے تحت تقریباً49 ارب روپے کی رقم مہیا کی گئی ہے جس کے خلاف اہم منصوبہ جات پونچھ یونیورسٹی، وویمن یونیورسٹی باغ اور نیلم جہلم ہائیڈل پراجیکٹ، لیپہ ٹنل، شونٹرٹو جگلوٹ روڈ ، اٹھ مقام کیل تائو بٹ روڈ جیسے اہم منصوبہ جات پر علمدرآمد کی جائیگا۔ انہوں نے کہاکہ آزاد جموں وکشمیر کو سی پیک میں شامل کر دیا گیا ہے اور ابتدائی مرحلہ میں مانسہرہ، میرپور ، منگلا ایکسپریس وے کی تعمیر کا منصوبہ لاگتی142ارب روپے وفاقی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے ۔

اس طرح سپیشل اکنامک زون میرپور کو بھی سی پیک میں شامل کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے جبکہ کوہالہ 1124میگا واٹ اور کیروٹ720میگا واٹ کے ہائیڈل پاور جنریشن کے منصوبہ جات بھی سی پیک کا حصہ ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ این ایچ کے ذریعے لوئر ٹوپہ، کوہالہ ایکسپریس وے کا منصوبہ وفاقی ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہے جس کی لاگت 20ارب روپے ہے اس کے خلاف آئندہ مالی سال میں 2ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے ۔

زلزلہ سے متاثرہ علاقوں کیلء جاری تعمیر نو وبحالی کے منصوبوں کیلئے ساڑھی8ارب روپے کی رقم بھی رکھی گئی ہے ۔ سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت جاریہ منصوبہ جات کیلئی71فیصد فنڈز مختص کرتے ہوئے رواں مالی سال میں145منصوبہ مکمل کیے گئے ہیں جبکہ آئندہ مالی سال مزید184منصوبہ جات کی تکمیل کا ہدف مقرر ہے جبکہ نئے منصوبہ جات کے لئی29فیصد فنڈز تجویز شدہ ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ پیداواری شعبہ جات کیلئے 17فیصد،سماجی شعبہ جات کیلئی14فیصداور انفراسٹرکچر شعبہ جات کے لئی69فیصد فنڈز مختص کیے گئے ۔ رواں مالی سال2017-18کے مقابلہ میں آئندہ مالی سال کے لئے تعلیم کے شعبہ میں 15فیصد، صنعت و حرفت کے لئی41فیصد،فزیکل پلاننگ و ہائوسنگ کے لئی46فیصد فیصد جبکہ کمیونیکیشن / ورکس کے لئی15فیصد اضافہ تجویز ہے ۔