مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوجیوں نے کپواڑہ میں 5کشمیری نوجوان شہید کردیے

مشترکہ حریت قیادت کا سرینگر میں احتجاجی مظاہرہ، کشمیری نظربندوں کی رہائی کا مطالبہ

ہفتہ مئی 18:34

سرینگر۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی میں آج ضلع کپواڑہ میں 5کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق فوجیوں نے نوجوانوں کو ضلع کے علاقے ٹنگڈار میں ایک فوجی آپریشن کے دوران شہید کیا۔ آخری اطلاعات آنے تک علاقے میں آپریشن جاری تھا۔

دریں اثناء بھارت اور مقبوضہ علاقے کی مختلف جیلوں میں غیر قانونی طورپر نظربند کشمیریوںکی رہائی کے مطالبے پر زوردینے کے لیے سید علی گیلانی،، میرواعظ عمرفاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ مزاحمتی قیاد ت کے زیر اہتمام پریس انکلیو سرینگر میں ایک زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔محمد یاسین ملک کی قیادت میں حریت رہنمائوں اور کارکنوں سمیت مظاہرے میں شریک لوگوں کی بڑی تعداد نے احتجاجی دھرنا بھی دیا۔

(جاری ہے)

مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر ’’تمام سیاسی نظربندوں کو رہاکرو‘‘ اور’’ وادی سے باہر منتقل کئے جانے والے کشمیری نظربندوں کو واپس لائو‘‘جیسے نعرے درج تھے۔محمد یاسین ملک نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ آزادی پسندکشمیریوں کو یرغمال بنانے، گولیوں اور پولیس مظالم سے جھکایا نہیں جاسکتا۔

انہوں نے گزشتہ روز سرینگر کی جامع مسجد کے علاقے میںمظاہرین پر بھارتی فوجیوں اور پولیس کی طرف سے طاقت کے وحشیانہ استعمال کی بھی شدید مذمت کی۔ بھارتی فوجیوں اور پولیس کی طرف سے گزشتہ روز نوہٹہ میں احتجاجی مظاہرین پر طاقت کے وحشیانہ استعمال کے خلا ف آج سرینگر کے ڈائون ٹائون علاقے میں احتجاج کے لیے مکمل ہڑتال کی گئی ۔ بھارتی فورسز نے نوہٹہ میں جامع مسجد کے سامنے احتجاجی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسوگیس اور پیلٹ گن کا استعمال کرکے خواتین سمیت کم از کم 50افراد کو زخمی کردیا تھا۔

علاقے کے تاجروں نے بھارتی فورسز کے ہاتھوں جامع مسجد کی بے حرمتی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ضلع بانڈی پورہ کے علاقے حاجن میں بھی نامعلوم مسلح افراد کے ہاتھوں ایک شہری کے قتل کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور ہڑتال کی گئی ۔جموںوکشمیر سالویشن مومنٹ نے مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں انسانی حقوق کی بڑھتی ہوئی پامالیوں کے خلاف سرینگر کے لالچوک میں احتجاجی مظاہرے کا اہتمام کیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر کالے قوانین کی منسوخی اور عیدا لفطر سے پہلے تمام کشمیری نظربندوں کی رہائی کے مطالبات درج تھے۔