امریکی سوچ میں ارتقا نہیں، پاکستان نے جب بھی دہشت گردی کیخلاف موثر قدامات کئے امریکی امداد اور تعاون میں کمی آئی،

امریکی موجودگی کے باوجود افغانستان میں داعش کا منظم ہونا ایک سوالیہ نشان ہے، پاک چین دوستی کا تاریخ میں کوئی متبادل نہیں، وسطی ایشیائی ممالک تک رسائی اوررابطوں میں اضافہ،شنگھائی تعاون تنظیم کی مکمل رکنیت، روس کیساتھ تعلقات کی بحالی، مشرق وسطی کے اپنے روایتی پارٹنرز اور اتحادیوں کیساتھ تعلقات کا استحکام، یورپ،امریکہ اور مشرق بعید میں اپنے شراکت داروں کیساتھ مسلسل روابط اور اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کا قائدانہ کردار ہماری خارجہ پالیسی کی اہم کامیابیاں ہیں برہان وانی کی شہادت نے حق خود ارادیت کیلئے کشمیریوں کی جدوجہد کو نئی زندگی دی، پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو ہر فورم پر اٹھایا ہے اور اٹھاتے رہیں گے،کلبھوشن یادیو کے اعتراف نے پاکستان میں تخریبی سرگرمیوں کے حوالے سے بھارت کے مزموم مقاصد کو بے نقاب کر دیا ہے، ہمارے مشرقی ہمسایہ کو منفی سرگرمیوں سے اجتناب کرنا ہوگا اور غیر مشروط مزاکرات کی میز پر آنا ہوگا، پاکستان کے مسلح افواج اور عوام ملکی دفاع کیلئے مکمل تیار ہیں وزیر خارجہ انجینئر خرم دستگیر کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے موجودہ حکومت کی پانچ سالہ کارکردگی بارے صحافیوں کو بریفنگ

جمعرات مئی 18:03

امریکی سوچ میں ارتقا نہیں، پاکستان نے جب بھی دہشت گردی کیخلاف موثر ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 مئی2018ء) وزیر خارجہ انجینئر خرم دستگیر نے کہا ہے کہ جب تک امریکہ جمہوری حکومتوں کیساتھ بات چیت نہیں کرتا، دیرپا تعلقات قائم نہیں ہو سکتے، امریکی سوچ میں ارتقا نہیں، پاکستان نے جب بھی دہشت گردی کیخلاف موثر قدامات کئے، امریکی امداد اور تعاون میں کمی آئی، امریکی موجودگی کے باوجود افغانستان میں داعش کا منظم ہونا ایک سوالیہ نشان ہے، پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کی علاقائی بحالی کے ذریعے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے دور میں پاکستان دہشت گردی،توانائی بحران اور گرتی ہوئی معیشت کے تاریک دور سے ایک پر امن، اقتصادی لحاظ سے فعال اور توانائی میں خود کفیل ملک کے طور پرابھر کر سامنے آیا ہے۔

جمعرات کو یہاں دفتر خارجہ کے ترجمان کے ہمراہ خارجہ پالیسی کے حوالے سے موجودہ حکومت کی پانچ سالہ کارکردگی کے بارے میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران مشکل سٹریٹجک ماحول اور دہشت گردی وشدت پسندی کیخلاف جنگ میں ہم نے متعدد چیلنجوں کا سامنا کیا اور ہم نے اپنی خارجہ پالیسی کی علاقائی بحالی کے زریعے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

(جاری ہے)

پہلے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور بعد میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر قیادت دنیا بالخصوص ہمسایہ ممالک کیساتھ قریبی اور بہتر تعلقات قائم کرنے کیلئے کوششیںکیں، ہمارا بنیادی مقصد اقتصادی رابطوں اور ملکی مفاد کو فروغ دینا، پارٹنرشپ کو مستحکم کرنا، سفارتی تعلقات کو توسیع دینا اور انٹرنیشنل پروفائل کو بلند کرنا تھا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ موجودہ حکومت نے چین کیساتھ تعلقات مزید مضبوط اور گہرے کئے۔

پاک چین دوستی کا تاریخ میں کوئی متبادل نہیں، سی پیک کا اجراء اور اس پر تیزی سے عملدرآمد ایک تاریخی کامیابی ہے، وسطی ایشیائی ممالک تک رسائی اوررابطوں میں اضافہ،شنگھائی تعاون تنظیم کی مکمل رکنیت، روس کیساتھ تعلقات کی بحالی، مشرق وسطی کے اپنے روایتی پارٹنرز اور اتحادیوں کیساتھ تعلقات کا استحکام، یورپ،،،امریکہ اور مشرق بعید میں اپنے شراکت داروں کیساتھ مسلسل روابط اور اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کا قائدانہ کردار ہماری خارجہ پالیسی کی اہم کامیابیاں ہیں۔

خرم دستگیر نے کہا کہ یورپ ،،امریکہ اور مشرق بعید کے اپنے شراکت داروں کیساتھ مسلسل روابط کے نتیجے میں 2014ء میں پاکستان نے جی ایس پی پلس کا سٹیٹس حاصل کیا جو پاکستان کی تاریخ میں طویل ترین تجارتی سہولت ہے اور اس کے نتیجے میں یورپی یونین کو ہماری برآمدات میں 38فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آج سعودی عرب،،،ایران اور ترکی کے ساتھ ہمارے قریبی دو طرفہ اقتصادی اور تجارتی تعلقات فعال ہیں اور اس میں تیزی سے پیشرفت ہو رہی ہے۔

کشمیر سے متعلق وزیر خارجہ نے کہا کہ برہان وانی کی شہادت نے حق خود ارادیت کیلئے کشمیریوں کی جدوجہد کو نئی زندگی دی، پاکستان جائز جدوجہد آزادی میں اپنے کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑا رہیگا، پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو ہر فورم پر اٹھایا ہے اور اٹھاتے رہیں گے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کر رہا ہے اور ایل او سی اور ورکنگ بائونڈری پر مسلسل سیز فائر کی خلاف ورزیوں کے زریعے سندھ طاس معاہدے کو غیر فعال کرناچاہتا ہے۔

بھارت سے متعلق انہوں نے کہا کہ کلبھوشن یادیو کے اعتراف نے پاکستان میں تخریبی سرگرمیوں کے حوالے سے بھارت کے مزموم مقاصد کو بے نقاب کر دیا ہے۔ہمارے مشرقی ہمسایہ کو منفی سرگرمیوں سے اجتناب کرنا ہوگا اور غیر مشروط مزاکرات کی میز پر آنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اگر بھارت سمجھتا ہے کہ اپنے منفی اقدامات سے پاکستان کو دبائو میں لائیں گے تو یہ انکی خام خیالی ہے،ہم تمام محازوں پر چوکنا ہیں۔

پاکستان کے مسلح افواج اور عوام ملکی دفاع کیلئے مکمل تیار ہیں۔حال ہی میں پاک بھارت ڈی جی ایم اوز نے سیز فائر معاہدے پر عملدرآمد پر اتفاق کیا ہے ،ہماری خواہش ہے کہ یہ افہام و تفہیم قائم رہے۔۔افغانستان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پائیدار افغانستان تمام خطے کے مفاد میں ہے۔۔پاکستان اور افغانستان زبان،ثقافت اور تاریخ کے مشترکہ رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں۔

پوری دنیا اس بات پر متفق ہو چکی ہے کہ افغان تنازعہ کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں۔پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے وزیر خارجہ خرم دستگیر نے کہا کہ پاک امریکہ تعلقات سات دہائیوں پر محیط ہیں ۔دونوں ملکوں کے مابین کثیرالجہتی تعلقات ہیں۔۔ٹرمپ انتظامیہ کیساتھ مکالمہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے اور جب تک امریکہ جمہوری حکومتوں کیساتھ بات چیت نہیںکرتا ،طویل المدتی تعلقات قائم نہیں ہوسکتے۔

امریکہ افغانستان میں اپنی تاریخ کی طویل ترین جنگ لڑ رہا ہے لیکن ہزاروں فوجیوں کی قربانی اور کھربوں ڈالر اخراجات کے باوجود کامیابی کے بجائے حزیمت کا سامنا کر رہا ہے اور اپنی ناکامی کا ملبہ دوسروں پر ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔انہوںنے کہا کہ ہم نے امریکہ کو بڑی متانت سے ڈیل کیا۔خرم دستگیر نے کہا کہ پاکستان آگے بڑھ رہا ہے ۔افواج پاکستان نے بے مثال قربانیاں دی اور فاٹا سمیت ملک سے دہشت گردی کا مکمل صفایا کیا لیکن امریکی سوچ آج بھی 2014میں دبی ہوئی ہے، امریکہ نے آج تک تسلیم نہیں کیا کہ پاکستان نے اپنی سرزمین کو دہشتگردی سے پاک کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عجب اتفاق ہے کہ جیسے جیسے پاکستان دہشت گردی کیخلاف موثر کارروائیاں کرتا ہے تو امریکی امداد و تعاون میں کمی آئی ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی موجودگی کے باوجود افغانستان میں داعش کی موجودگی ایک سوالیہ نشان ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں حقائق تبدیل ہوئے لیکن امریکی بیانیہ تبدیل نہیں ہوا۔