محمد یاسین ملک کا جیلوں میں نظربندکشمیریوں کوعید الفطر سے پہلے رہا کرنے کا مطالبہ

کشمیر کو پولیس سٹیٹ میں تبدیل کردیا گیا ،ہر مخالف آواز کو فوجی طاقت سے دبایاجارہا ہے،بیان

بدھ جون 20:53

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 جون2018ء) مقبوضہ کشمیرمیں جموںوکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے کہا ہے کہ کشمیر کو ایک پولیس ریاست میں تبدیل کردیا گیا ہے جہاںکسی کو اپنی بات کہنے کا کوئی حق نہیں اور ہر مخالف سیاسی آواز کو فوجی طاقت سے دبایاجارہا ہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق محمد یاسین ملک نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں نظربندکشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو غیر جمہوری اور غیر اخلاقی قرار دیتے ہوئے تمام کشمیری نظربندوں کو عید الفطر سے پہلے رہا کرنے کا مطالبہ کیاہے۔

انہوں نے کہا کہ14سال کے بچوں سے لیکر 80سال کے بزرگوں اور علیل خواتین تک کو جیلوں میں نظربند رکھا گیا ہے اور ہزاروں کشمیری تہاڑ ، امپھالہ،،کورٹ بھلوال، ادھمپور، کٹھوعہ،ہیر انگر اور کشمیر اور بھارت کی دیگر جیلوں میں مظالم برداشت کرنے پر مجبور ہیں جبکہ روزانہ کی بنیاد پر مزید لوگوں کو گرفتار کرکے جیلوں میں ڈالاجارہا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ بھارت کے حکمرانوں نے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو دبانے کیلئے اپنی فورسز اور ایجنسیوں کو استعمال کرکے سینئر حریت رہنمائوں شبیر احمد شاہ، الطاف احمد شاہ، شاہد الاسلام،ایاز اکبر، پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین کلوال، نعیم احمد خان، فاروق احمد ڈار، ظہور احمد وٹالی ،شاہد یوسف اور دیگرکوبے بنیاد کیسوں میں پھنسا کر سرینگر سے اغوا کرکے دہلی کی تہاڑ جیل میں نظربندکررکھا ہے جہاں ان کی نظربندی کو طول دینے کیلئے نت نئے حربے آزمائے جارہے ہیں۔

اسی طرح ڈاکٹر قاسم فکتو، شفیع شریعتی، غلام قادر بٹ، نذیر احمد شیخ، شوکت احمد خان، عبدالغنی گونی، لطیف احمد وازہ، جاوید احمد خان، محمود ٹوپی والا، افتخار مرزا، فیروز احمد، پرویز احمد، طارق احمد ، منظور احمد ، محمد اسلم وانی،مظفر احمد ڈار، محمد ایوب ڈار، محمد ایوب میر، مراز نثار حسین، محمد لطیف بڈگام اور دیگر کو عمر قید کی سزائیں سناکر جیلوں کی نذر کردیا ہے۔

فرنٹ سربراہ نے کہاکہ مسرت عالم بٹ، سراج الدین میر، عبدالرشیدمغلو، میر حفیظ اللہ، محمد یوسف فلاحی، امیر حمزہ، محمد یوسف میر، طارق احمد ڈار، مولانا سرجان برکاتی، اسداللہ پرے، شوکت حکیم ،غلام محمد خان سوپوری ،محمد رمضان خان ،بلال احمد کو ٹہ، فاروق تو حیدی، علی محمد بٹ ، محمد یوسف میر ،شکیل احمد بٹ، عبدالغنی، محمد سبحان وانی اور دیگر کوکالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ یا دوسرے الزامات کے تحت جیلوں اور پولیس تھانوں میں نظربند رکھا گیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ شہر خاص سے تعلق رکھنے والی18معصوم نوجوانوں کوڈی ایس پی قتل کیس میں پھنساکر جیل میں ڈالا گیا ہے۔ یاسین ملک نے کہاکہ ظلم کی حد یہ ہے کہ ایک علیل خاتون آسیہ اندرابی کو دو ساتھیوں فہمیدہ صوفی اور ناہید نسرین کے ہمراہ کئی ماہ سے پولیس کے جبر کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیںہے۔انہوں نے انٹرنیشنل ریڈ کراس سمیت انسانی حقوق کی عالمی تنظیموںسے اپیل کی کہ وہ کشمیری نظربندوں کی زندگیوں کو بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔