عمران خان کی سیاست شریف سے شروع ہو کر شریف پر ختم ہوتی ہے ، شرافت سے ان کا دور کا بھی واسطہ نہیں ، 2018ء کے الیکشن میں 2103کا چورن نہیں بکے گا، کارکن عمران کو مسترد کرچکے ہیں ، چند سپورٹرز رہ گئے وہ بھی چھوڑ جائیں گے،مریم اورنگزیب

جمعرات جون 20:30

لاہور۔21 جون(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) مسلم لیگ ن کی مرکزی ترجمان اور سابق وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ عمران خان کی سیاست شریف سے شروع ہو کر شریف پر ختم ہوتی ہے ، 2018ء کے الیکشن میں 2103کا چورن نہیں بکے گا، عمران کے کارکن عمران کو مسترد کرچکے ہیں اور دوسری جماعتوں سے رابطے کر رہے ہیں ۔ جو چند سپورٹرز رہ گئے ہیں وہ بھی چھوڑ جائیں گے۔

مسلم لیگ ن کے سیکرٹریٹ 180ایچ ماڈل ٹائون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان کو انتخابی مہم شروع کرنے کا اعلان سلاخوں کے پیچھے سے کرنا پڑا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اور ان کے ترجمان نے رونا دھونا شرو ع کررکھا ہے فلاں کو ہٹائو، فلاں کو ہٹائو۔ پنجاب اور سندھ میں تبادلوں کا رونا رو رہے ہیں ، بس چلے تو پنجاب کے تمام منصوبوں کا بھی اپنے صوبے میں تبادلہ کرلیں۔

(جاری ہے)

کے پی کے میںکسی کے تبادلے کی بات نہیں کی جاتی، وہاں بس چلتا تو پرویز خٹک کو ہی وزیر اعلیٰ رکھا جاتا۔ سابق وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ پوری قوم کی جانب سے بیگم کلثوم کے لیے دعائوں پر شکرگزارہیں۔ بیگم کلثوم نواز نے ڈٹ کر مشرف کا مقابلہ کیا اوران کی ڈکٹیٹر کے دور میں جمہوریت کے لیے جدو جہد کو سارا پاکستان سراہتا ہے۔ انہوںنے مسلم لیگ ن کے قائد محمد نواز شریف کے شانہ بشانہ آمریت کے خلاف جو جمہوری جدوجہد کی ان کی صحت کے لیے دعا گو ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان کا کہنا تھا کہ ہر شعبے کی طرح سیاست کا بھی ایک معیار ہوتا ۔ سیاست کو 70ء کی دہائی میں لے کر جانا اور کسی کی ماں ، بیوی یا بیٹی کی بیماری کو سیاسی رنگ دینا افسوسناک ہے۔ اعتزاز احسن کی طرف سے بیگم کلثوم نواز کے بارے میں بیان سے دِل دُکھا ۔ ان جیسے سیاسی قد کاٹھ کے شخص کو ایسی باتیں زیب نہیں دیتیں ۔۔مریم اورنگزیب نے میڈیا سے بھی کہا کہ بیگم کلثوم نواز کی بیماری کی خبروں کو ریٹنگ کے لیے استعمال کرنا قابل افسوس ہے ۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے قائد محمد نواز شریف نے نیب میں 100 پیشیاں بھگتیں ۔ ہماری تمام ریفرنسز یکجا کر نے کی درخواست نہیں مانی گئی ۔ نیب ریفرنسز ، جے آئی ٹی کی تحقیقات اور باہر سے کاغذات منگواکر بھی نواز شریف پر ایک پیسے کی کرپشن ثابت نہیں ہوسکی ۔ نیب میں طلبی صرف ن لیگ کے لوگوں کی ہو رہی ہے۔ انتخابات سے قبل نیب کا اس طرح متحرک ہو جانا پری پول دھاندلی ہے ۔

سابق وزیر اطلاعات نے کہا کہ نواز شریف ، مریم نواز نے ہر ٹرائل کا سامنا کیا ، پیشیاں بھگتیں ، ان کا نام ہی ای سی ایل میں کیوں ڈالا جائے، انہوں نے کہا کہ ایون فیلڈ پراپرٹی سے نواز شریف کا کوئی تعلق نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن جلد انتخابی منشور کا اعلان کرے گی اور میں چیلنج کرتی ہوں کہ کوئی جماعت ایسا منشور پیش نہیں کر سکی ۔ ہمارے پاس عوام کو بتانے کے لیے پانچ سال کی خدمت اور سینکڑوں منصوبے ہیں ۔

دوسری کسی جماعت کے پاس پانچ سال کی کوئی کارکردگی نہیں ۔ مسلم لیگ ن نواز شریف کے نعرے ’’ ووٹ کو عزت دو ‘‘ اور شہباز شریف کے ترقی کے ایجنڈے کے ساتھ الیکشن میں حصے لے گی اور 25 جولائی کو الیکشن جیتے گی ۔ 25 جولائی کو تمام جھوٹوں سے مقابلہ ہوگا۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ فنکار کسی بھی ملک کا چہرہ ہوتے ہیں، ہمارے ملک کے فنکاروں نے مارشل لاء ادوار میں بھی مشکلات سہہ کر ہماری ثقافت کو زندہ رکھا۔

ترجمان مسلم لیگ ن نے کہا کہ خواتین کی تضحیک کرنے کی ایک روایت چل نکلی ہے۔ میں ایک ماں ، بہن اور بیٹی ہونے کے ناطے یہ کہہ رہی ہوں کہ عورت اور سیاست کو الگ رکھیں، کسی خاتون کی تضحیک نہ کریں ۔ ایسا میری اپنی جماعت کے اندر ہو گا تو اس کے خلاف بھی آواز اٹھائوں گی۔ جس طرح کے القابات خواتین کو دیے جاتے ہیں اور ٹاک شوز میں بھی جس طرح تضحیک کی جاتی ہے خدارا اس روایت کو ختم کریں ۔ خواتین کو جس مقام پر اسلام نے رکھا ہے آپ بھی وہی مقام دیں۔