عمران خان عزیر بلوچ کے قصیدے پڑھنا چھوڑ دیں،عزیر بلوچ سے پہلے اویس مظفر ٹپی ، شرجیل میمن اور ایان علی کی بات کرنی چاہیئے، حبیب جان

پی ایس پی کے لوگوں کی طرح عزیر بلوچ کو معاف کیا جائے۔میں بلاول کے خلاف نہیں زرداری کے خلاف الیکشن لڑ رہا ہوں، پریس کانفرنس

منگل جولائی 23:47

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 جولائی2018ء) پیپلزپارٹی کے سابق رہنما اورکراچی سٹی الائنس کے سربراہ حبیب جان نے کہاہے کہ عمران خان عزیر بلوچ کے قصیدے پڑھنا چھوڑ دیں،عزیر بلوچ سے پہلے اویس مظفر ٹپی ، شرجیل میمن اور ایان علی کی بات کرنی چاہیئے،پی ایس پی کے لوگوں کی طرح عزیر بلوچ کو معاف کیا جائے۔میں بلاول کے خلاف نہیں زرداری کے خلاف الیکشن لڑ رہا ہوں۔

ان خیالات کا اظہارانہوں نے لیاری میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ حبیب جان نے کہاکہ بلاول بھٹو میری بہن کا بیٹا ہے بلاول اگر زرداری کو چھوڑ کر بھٹو کے نظریے پر آجائے تو میں دست بردار ہو جائونگا، لیاری کی عوام با شعور ہے ،،لیاری کی عوام زرداری کی پارٹی کو ووٹ نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ عمران خان صاحب عوامی مسائل پر بات کریں تو زیادہ بہتر ہوگا،ایک مرتبہ پھر عزیر بلوچ عزیر بلوچ ہو رہا ہے ،علی زیدی بار بار عزیر بلوچ کا نام لے رہے ہیں ،،عمران خان کہتے ہیں عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی لے آو، عمران خان عزیر بلوچ کے قصیدے پڑھنا چھوڑ دیں،عزیر بلوچ سے پہلے شرجیل میمن اور ایان علی کی بات کریں۔

انہوں نے کہاکہ عمران خان نے دورہ لیاری میں اپنے امیدوار شکور شاد کو عمران خان نے استقبالی ٹرک پر نہیں بلایا عمران خان لیاری کے عابد شاکا تک سے نہیں ملا ،خدا کے لیے لیاری والوں کا پیچھا چھوڑ دیں۔ انہوں نے کہاکہ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی ڈاکٹرائن سے کراچی میں امن آیا ہے جسے سراہتے ہیں لیاری کے لوگ کراچی کا ریونیو بڑھانا چاہتے ہیں اگر لیاری نہ ہوتا تو کراچی نہ ہوتا، کراچی کو بہت نقصان پہنچایا گیا ،تیس سال تک کراچی میں لاشیں گرتی رہیں ،چودہ سال تک گورنر ہاوس قاتلوں کا مرکز بنا رہا ، کرپشن کے معاملے میں پی ٹی آئی کو سپورٹ کرتا ہوں ،عارف علوی کہتے ہیں ٹکٹ کے لیے تین کروڑ دے دو، شکور شاد نے پیسے کہاں سے دیے کسی نے پوچھا تو بتا دوں گا۔

انہوں نے کہاکہ عزیر بلوچ نہ دہشت گرد تھا نہ کبھی ہوگا،عزیر بلوچ کو کسی نے کچھ کہا تو ہمارا ہاتھ ہوگا اور اسکا گریبان،عزیر بلوچ کو معاف کیا جائے جس طرح سے پی ایس پی کے لوگوں کو معاف کیا گیا ہے ،بلوچوں کے گلے کاٹنے والوں کی سرپرستی بانی متحدہ نے کی ،لوگوں کو صاف کرنے کے لیے ایک واشنگ مشین لیاری کے کارنر پر لگا دی جائے ۔انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی کو لیاری والوں سے معافی مانگنی چاہیے، الیکشن کے ماحول کو تلخ بنانا نہیں چاہتا، زرداری ہو ،،فریال تالپور ہو یا بانی متحدہ لیاری کے معاملے میں کوئی کمپرومائز نہیں کریں گے، اپنی حفاظت کے لیے بندوق اٹھانی پڑی تو اٹھائیں گے عزیر بلوچ پر الزام ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے۔

عزیر بلوچ کو غدار کہنا غلط ہے۔ انہوں نے کہاکہ بلاول بھٹو کی ریلی پر پتھرا پیپلز پارٹی کی اندرونی لڑائی کا نتیجہ ہے ،نبیل گبول کو ٹکٹ نہیں ملا تو انہوں نے جھگڑا کروایا ،بلاول پر کچھیوں نے حملہ نہیں کیا کچھ لوگ تھے اس ریلی میں جو کچھی رابطہ کمیٹی سے وابسطہ تھے، جاوید ناگوری خود گینگ وار کا نمائندہ ہے۔

Your Thoughts and Comments