وفاق کی جانب سے سندھ کو 49ارب روپے کم ملنے کے باعث ترقیاتی بجٹ میں 24ارب روپے کی کٹوتی پر مجبور ہوئے،وزیر اعلی سندھ سید

سندھ میں ترقیاتی اسکیموں کی کٹوتی کے بعد غیر ترقیاتی اخراجات کو بھی روکا جائے گا ، سندھ حکومت بچت اور کفایت شعاری کی پالیسی پر سختی سے عمل کرے گی،گورنر سندھ کے لئے یہ مناسب ہوگا کہ وہ اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں،وزیر اعظم کے دورہ کراچی کے موقع پر ڈیموں کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی،صوبے میں تعینات وفاقی افسران کے اچانک تبادلوں پر وزیر اعظم عمران خان کو سندھ حکومت کے تحفظات سے آگاہ کردیا ہے،کالا باغ ڈیم ایک مردہ ایشو ہے جس کے خلاف تین صوبوں کی اسمبلیاںاپنا فیصلہ دے چکی ہیں،مراد علی شاہ کا پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب

منگل ستمبر 21:19

وفاق کی جانب سے سندھ کو 49ارب روپے کم ملنے کے باعث ترقیاتی بجٹ میں 24ارب ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 ستمبر2018ء) وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ وفاق کی جانب سے سندھ کو اس کے حصہ کی رقم میں سے 49ارب روپے کم ملنے کے باعث سندھ حکومت ترقیاتی بجٹ میں 24ارب روپے کی کٹوتی پر مجبور ہوئی، سندھ میں ترقیاتی اسکیموں کی کٹوتی کے بعد غیر ترقیاتی اخراجات کو بھی روکا جائے گا ، سندھ حکومت بچت اور کفایت شعاری کی پالیسی پر سختی سے عمل کرے گی، سندھ کو اس کے حصے کی رقم کم ملنے اور صوبے میں تعینات وفاقی افسران کے اچانک تبادلوں پر وزیر اعظم عمران خان کو سندھ حکومت کے تحفظات سے آگاہ کردیا ہے۔

گورنر سندھ کے لئے یہ مناسب ہوگا کہ وہ اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں، کالا باغ ڈیم ایک مردہ ایشو ہے جس کے خلاف تین صوبوں کی اسمبلیاںاپنا فیصلہ دے چکی ہیں، وزیر اعظم کے دورہ کراچی کے موقع پر ڈیموں کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی ۔

(جاری ہے)

انہوں نے ان خیالات کا اظہار منگل کو سندھ اسمبلی آڈیٹوریم میں اپنی پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب اور بعد ازاں صحافیوں کے مختلف سوالات کا جواب دیتے ہوئے کیا ۔

اس موقع پر وزیر اعلی سندھ کے مشیر اطلاعات بیرسٹر مرتضی وہاب، چیف سکریٹری منصوبہ بندی و ترقیات محمد وسیم اور محکمہ خزانہ سندھ کے سکریٹری اور دوسرے اعلی افسران بھی موجود تھے۔وزیر اعلی سندھ نے گزشتہ روز سندھ اسمبلی میں پیش کئے جانے والے 9ماہ کے بجٹ کی خاص خاص باتوں پر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ عام انتخابات سے قبل ہم نے محض تین ماہ کا بجٹ اس لئے پیش کیا تھا کہ اگلی منتخب سندھ حکومت اپنی ترجیحات کے مطابق بجٹ دے سکے لیکن اللہ کی مہربانی اور سندھ کے عوام کی حمایت کے سبب ہم ایک مرتبہ پھر سندھ میں حکومت بنانے میں کامیاب رہے اس لئے بجٹ کے حوالے سے ہمارے ذہن میں جو باتیں تھیں ان میں کوئی بڑا فرق نہیں ہے البتہ مالی دشواری کے باعث ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کرنا پڑی۔

وزیر اعلی سندھ نے بتایا کہ بجٹ پر آئندہ پیر سے عام بحث ہوگی جوپانچ روز تک جاری رہے گی۔انہوں نے کہا کہ وفاق سے سندھ کو 30 جون تک 598 ارب میں سے 49 ارب روپے کم ملے ہیں جس کے سبب ہم ترقیاتی بجٹ میں24 ارب روپے کی کٹوتی پر مجبور ہوئے ۔انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم اور وزیرخزانہ سے کو بتادیا گیا ہے کہ وفاق سے سندھ کو این ایف سی کا شیئرکم ملاہے، اس صورتحال میں سندھ حکومت کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں تھا کہ اس نے صوبے میں ترقیاتی کاموں کے لئے جو اہداف مقرر کررکھے ہیں ان پر نظر ثانی کرے۔

سید مراد علی شاہ نے کہا کہتاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا کہ اگست 2018میںسندھ کو کم ترین فنڈز ملے ہیں، ہماری کوشش ہے کہ بجٹ کو حقیقت پسندانہ بنائیں،ضلعی ترقیاتی پروگرام کیلیے بجٹ دس ارب روپے تک بڑھادیاہے ۔ سندھ حکومت اپنی مالی مشکلات کے باعث جب ترقیاتی اسکیموں میں کٹوتی کررہی ہے تو وہ بہت زیادہ غیر ترقیاتی اخراجات کا بوجھ کس طرح برداشت کرسکتی ہے صوبے میں آپریشنل سرگرمیوں کے علاوہ کوئی نئی گاڑی نہیں خریدی جائے گی۔

وزیر اعلی نے کہا کہ سندھ حکومت بھی کفایت شعاری اور سادگی اختیار کرنے کے منصوبے پر سختی سے عمل کرے گی ۔انہوں نے واضح کیا کہ سندھ حکومت نے تمام محکموں کے لیے گاڑیوں کی خریداری پر پابندی عائد کی ہیرواں مالی سال میں ہم کوئی نئی گاڑی نہیں خریدیں گے۔ صرف آپریشنل گاڑیوں کی خریدای کی اجازت ہوگی ،آپریشنل وہیکلز میں پولیس ,ایمبولینس گاڑیاں شامل ہونگی ۔

انہوں نے کہا کہ واٹر کمیشن کی ہدایت پرایک نئی اسکیمز بجٹ میں شامل کی گئی ہے جس کے تحت ،60 کلومیٹر طویل کوسٹل ہائی وے منصوبے پر آٹھ ارب روپے کی لاگت آئیگی ،لاڑکانہ میں واٹرسپلائی اسکیم نہیں تھی رواں مالی سال کے بجٹ میں لاڑکانہ واٹرسپلائی اسکیم شامل کی گئی ہے۔وزیر اعلی نے کہا کہ سندھ حکومت رواں مالی سال کے دوران پورے صوبے میں41ٹراما سینٹرز پورے صوبے میں بنارہی ہے جبکہ17 ڈسڑکٹ تعلقہ اسپتال رواں مالی سال میں مکمل کرینگے ۔

وزیراعظم سے اپنی حالیہ ون آن ون ملاقات کے بارے میں وزیر اعلی سندھ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ ہر پالیسی قانون کے تابع ہوتی ہے ۔ ان سے شکایت کی گئی کہ وفاقی افسران کے بین الصوبائی تبادلے سندھ حکومت کو اعتماد میں لئے بغیر کئے گئے ہیں جو غلط ہیں۔ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ وزیراعظم نے تسلیم کیا کہ افسران کے تبادلوں کے سلسلے میں غلطی ہوئی ہے ۔

وزیراعظم سے یہ بھی کہا کہ سندھ کا مالیاتی شیئروقت پرملنا چاہیے اور اس بار ہمیں ہمارے حصہ سے بہت کم رقم ملی ہے۔مرادعلی شاہ کہا کہ کے فورمنصوبے کی لاگت اب بڑھ چکی ہے اس حوالے سے وفاق سے مالی مدد مانگی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم سے ڈیم کے حوالیسے کوئی بات نہیں ہوئی ۔وزیر اعلی سندھ کا کہنا تھا کہ کالاباغ ڈیم مردہ ایشوہے تین صوبوں کی اسمبلیاں اسے مسترد کرچکی ہیںانہوں نے کہا کہ کراچی میں وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات کے موقع پر وزیر اعظم نے بھی ڈیم کا کوئی زکر نہیں کیا،اسی طرح کچرا اٹھانے پر وزیراعظم نے پورے اجلاس میں کچھ نہیں کہا اگر انہوں نے گورنر سندھ کو کوئی ہدایت جاری کی ہے تو گورنر سندھ ،صوبائی حکومت نہیں ہیں،گورنر اپنے آئینی وقانونی حدود میں رہیں گے تو بہتر ہوگا۔

سید مراد علی شاہ نے کہا کہ وزیراعظم نے کچرے سے متعلق جو کہا کسی اور سے سننے کو ملااگر وزیراعظم نے کہاکہ اسی فیصد پانی سمندر برد ہورہاہے تویہ غلط بیان ہے اور وہ نہیں سمجھتے کہ وزیر اعظم ایسا غیر حقیقت پسندانہ بیان دے سکتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں جوحالات ہیں ان کے باعث آرمرڈ گاڑی اپنے لیے خریدی تھی ،سندھ حکومت کی لگژری گاڑیاں پہلے سے لی ہوئی ہیں،میں نے کوئی لگژری گاڑی نہیں خریدی۔

انہوں نے وفاقی حکومت کی گاڑیوں کی نیلامی کے حوالے سے کہا کہ کل گاڑیوں کا آکشن ہواتھا کتنے میں فروخت ہوئیں آرمرڈ گاڑیاں کوئی خریدنے والا ہے تو میری دو ذاتی گاڑیاں بھی فروخت کرادیں لیکن قیمت مناسب ملنی چاہیے۔انہوں نے وفاقی حکومت کے بارے میں طنزیہ انداز میں کہا کہ اب حکومت کررہے تو پتہ چل گیا، گیس کی قیمت بڑھادی ہے۔حقیقت تو اب پتہ چلے گی کہ حکومت کیسے کرتے ہیں۔

وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ وزیراعظم ہاس والے بھینسیں بیچنے کے بجائے پانچ سال اسکا دودھ بیچتے تو زیادہ فائدہ ہوتا۔وزیر اعلی سندھ کے اس دلچسپ مشورے پر پریس کانفرنس میں زبردست قہقہہ لگا ۔انہوں نے کہا کہ گاڑیاں اور بھینسیں بیچنے سے حکومتیں نہیں چلتیں،یہ کام ایک دوماہ مزید چل جائے گا اس کے بعد کیا ہوگا ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت گاج ڈیم کے لئے سنجیدہ ہے تاہم وفاق کی طرف سے اسکے لئے مطلوبہ فنڈز نہیں ملے گاج ڈیم کل چھبیس ارب کا منصوبہ ہے گیارہ ارب روپے خرچ کئے ہیں،گورکھ ہل بڑا تفریحی مقام ہے ،اس کے لئے سرمایہ کار دستیاب نہیں ہیں ۔

وزیر اعلی سندھ نے ڈیموں کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6کے تحت کارروائی کی باتوں کے حوالے سے کئے جانے والے سوال پر کہا کہ میرا خیال ہے کہ سندھ کی عوام کالا باغ ڈیم کے لئے کبھی تیار نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ افغانیوں اور بنگالیوں سمیت کسی کو غیر قانونی تارکین وطن کوشہریت دینے اور انکے شناختی کارڈ بنانے کے لئے ملک کا قانون اور آئین موجود ہے اور کوئی بھی خلاف قانون کام کس طرح کرسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بھاشا ڈیم پیپلزپارٹی کی حکومت نے منظور کیا تھا،بھاشا ڈیم سے کوئی کینال نہیں نکلتی ،کالا باغ ڈیم سے کینال نکل سکتی ہیں جس پر اعتراض کیا گیا تھا۔