وزیر اعظم نے بلدیاتی نظام کیلئے تین بنیادی اصول کردیے ہیں، بلدیاتی نظام بااختیار ہوگا ، انتخابات براہ راست ہوں گے اور یہ نظام سادہ ہوگا، نواز شریف سے کسی قسم کی ذاتی لڑائی نہیں ہے، وہ قوم کا لوٹا ہوا پیسہ واپس کر دیں تو بات ختم ہو جائے گی ، میٹرو منصوبوں کی آڈٹ رپورٹ آگئی ہے ،اب فرانزک رپورٹ کا انتظار ہے ، بھارتی حکومت اندرونی سکینڈل میں پھنسی ہوئی ہے وہ اپنا بوجھ پاکستان پر ڈالنا چاہتی ہے ، بھارت کسی خوش فہمی میں نہ رہے، جنگ کسی کے مفاد میں نہیں ہے

وفاقی وزیرِ اطلاعات ونشریات فواد چودھری کی میڈیا سے گفتگو

اتوار ستمبر 21:40

لاہور۔23 ستمبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 ستمبر2018ء) وفاقی وزیرِ اطلاعات ونشریات فواد چودھری نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نے بلدیاتی نظام کیلئے تین بنیادی اصول کردیے ہیں ، بلدیاتی نظام بااختیار ہوگا ، انتخابات براہ راست ہوں گے اور یہ نظام سادہ ہوگا، نواز شریف سے کسی قسم کی ذاتی لڑائی نہیں ہے، وہ قوم کا لوٹا ہوا پیسہ واپس کر دیں تو بات ختم ہو جائے گی ، میٹرو منصوبوں کی آڈٹ رپورٹ آگئی ہے ،اب فرانزک رپورٹ کا انتظار ہے ، بھارتی حکومت اندرونی سکینڈل میں پھنسی ہوئی ہے وہ اپنا بوجھ پاکستان پر ڈالنا چاہتی ہے ، بھارت کسی خوش فہمی میں نہ رہے، جنگ کسی کے مفاد میں نہیں ہے ہفتہ کووزیراعظم عمران خان کے زیرِ صدارت پنجاب کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں فواد چودھری نے بتایا کہ اجلاس میں بلدیاتی نظام کے حوالے سے تفصیلی بحث کی گئی۔

(جاری ہے)

وزیر اعظم نے بلدیاتی نظام کیلئے تین بنیادی اصول طے کئے ہیں ، پہلا بلدیاتی نظام بااختیار ہوگا یعنی جو نمائندہ منتخب ہوگا وہ بااختیار ہوگا، دوسرا بلدیاتی انتخابات براہ راست ہوں گے اور تیسرا یہ نظام سادہ ہوگا۔اب اس کے مطابق اس پر قانون سازی ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ویلج کونسل کا تجربہ کیا گیا جو کامیاب رہا تھا، پنجاب میں یونین کونسل ہیں، سندھ اور بلوچستان میں بھی یونین کونسل ہیں، ویلج کونسل بنائی جائے یا پھر یونین کونسل کے سائز کا از سر نو جائزہ لیا جائے، اس پر اجلاس میں سیر حاصل گفتگو ہوئی ہے ۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میٹرو بس منصوبوں کیلئے حکومت کو سالانہ 8 ارب روپے دینا پڑیں گے ، میٹرو منصوبوں کی ساد آڈٹ رپورٹ آگئی ہے ،اب فرانزک رپورٹ کا انتظار ہے کیونکہ وہ ایک ٹیکنکیل آڈٹ ہوتا ہے اور اس پر وقت لگے گا،انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری حکومت مسلم لیگ ن سے بہتر اور مختلف حکومت ہو، جو عوام پر مبنی ہو ۔

ایک سوال کے جواب میں فواد چودھری نے کہا کہ نواز شریف کا کوئی سیاسی مستقبل نہیں، وہ اپنے ذاتی مستقبل کے لیے دعا کریں، نواز شریف کے اگلے کیس کا بھی فیصلہ جلد آنے والاہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے ساتھ ہماری کسی قسم کی ذاتی لڑائی نہیں، وہ قوم کا پیسہ واپس لے آئیں، وہ قوم کا پیسہ واپس کر دیں، بات ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے ہدایت کی مسلم لیگ ن کی حکومت کے دور جہاں جہاں آگ لگی ہے اور جتنے بھی ریکارڈ جلے ہیں ان کی تحقیقات کی جائیں ۔

انہوں نے کہا کہ جب بھی(ن)لیگ سے ریکارڈ مانگا جاتا آگ لگ جاتی تھی، جے آئی ٹی کے بعد سارے ریکارڈ کھلیں گے، مجھے نہیں لگتا کہ پنجاب حکومت میں جو لوگ تھے ان میں سے زیادہ تر لوگ جیل سے باہر رہ پائیں گے۔بھارتی آرمی چیف کے مضحکہ خیز بیانات کے حوالے سے فواد چودھری نے کہاکہ بھارتی حکومت اندرونی سکینڈل میں پھنسی ہوئی ہے ، نواز شریف پاناما اور نریندرمودی رافیل سکینڈل میں پھنس گئے ہیں، اس لیے بھارتی حکومت اپنا بوجھ پاکستان پر ڈالناچاہتی ہے، ہم ان سے کہتے ہیں کہ اپنی جنگ خود لڑو، ہمیں اس معاملے میں لانے کی ضرورت نہیں ہے، انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے بھارت کو مذاکرات کی دعوت دی لیکن وہ کسی خوش فہمی میں نہ رہے، جنگ کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔

ستر سال سے پاکستان اوربھارت لڑ رہے ہیں، دونوں ملک ایٹمی قوت ہیں، جنگ ہو گی تو پھر جو بچے جائے گا وہ بات کر لے گا۔ ضمنی انتخابات کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ امید ہے کہ جو زیادہ تر حلقہ ہیں ان میں یکطرفہ انتخابات ہوں گے