سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس میں شہباز شریف کا سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہونے سے انکار

تحقیقات کے لیے نئی جے آئی ٹی بنانے کے لیے5 رکنی لارجر بنچ تشکیل دینے کا حکم

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر نومبر 13:22

سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس میں شہباز شریف کا سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہونے سے ..
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 19 نومبر 2018ء) : اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس میں سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہونے سے انکار کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق سانحہ ماڈل ٹاﺅن کیس کی سماعت آج سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ہوئی لیکن مسلم لیگ ن کے صدر اور اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف نے سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہونے سے انکار کر دیا۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کے لیے نئی جے آئی ٹی بنانے سے متعلق درخواست پر سماعت کی۔سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کی سماعت کے لیے ڈی جی نیب لاہورسلیم شہزاد سپریم کورٹ لاہور رجسٹری پہنچے۔ ڈی جی نیب سلیم شہزاد نے بتایا کہ مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف سانحہ ماڈل ٹاﺅن میں پیش نہیں ہونا چاہتے۔

(جاری ہے)

شہباز شریف نے ان کی جگہ وکیل کو پیش کرنے کا کہا ہے ۔

سلیم شہزاد نے بتایا کہ شہبازشریف نے تحریری طور پرآگاہ کیا ہے کہ وہ کیس کی سماعت میں پیش نہیں ہونا چاہتے۔ سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں آج ہونے والی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کے لیے نئی جے آئی ٹی بنانے کے لیے 5 رکنی لارجر بنچ تشکیل دینے کا حکم دے دیا۔ تشکیل دیا جانے والا لارجربنچ 5 دسمبرسے اسلام آباد میں کیس کی سماعت کرے گا۔

سماعت کے دوران سابق وزیراعظم نوازشریف، سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف،حمزہ شہباز، سابق صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کے وکیل نے عدالت سے مہلت کی استدعا کی اور کہا کہ قانونی نُکات پرتیاری کے لیے مہلت دی جائے، جس پر عدالت نے انہیں دو ہفتے کی مہلت دے دی۔ یاد رہے 17 نومبر کو سانحہ ماڈل ٹاون کے لیے نئی جے آئی ٹی بنانے کی درخواست کو سماعت کے لئے مقرر کیا تھا اور عدالت نے سانحہ ماڈل ٹاؤن استغاثہ کیس میں نامز ملزمان سابق وزیراعظم نوازشریف، سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف ، حمزہ شہباز، سابق صوبائی وزیر قانون راناثناءاللہ، دانیال عزیز،سابق وفاقی وزیر پرویز رشید اور سابق وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف سمیت دیگر 139 ملزمان کو نوٹس جاری کئے تھے۔