مسئلہ کشمیر کو حل کیے بغیر خطے میں امن و سلامتی کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا،چودھری محمد یاسین

کشمیریوں نوجوانوں کے دلوں سے موت کا خوف ختم ہو چکا ہے ، قابض افواج 71سال گزرنے کے باوجود کشمیریوں کے جذبہ آزادی میں کمی نہ لا سکا، دنیا کو اس مسئلے کے ہمیشہ حل کیلئے کشمیریوں کو رائے شماری کا حق دلوانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ،قائد حزب اختلاف آزاد کشمیرقانون ساز اسمبلی چودھری محمد یاسین سے صدرآزادکشمیرکی ملاقات ،مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال ،نام نہاد انتخابات کے ڈہونگ اور ،حریت قائدین کی گرفتاریوں پر تفصیلی تبادلہ خیال

ہفتہ اپریل 17:01

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 اپریل2019ء) آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چودھری محمدیاسین نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو حل کیے بغیر خطے میں امن و سلامتی کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا، کشمیریوں نوجوانوں کے دلوں سے موت کا خوف ختم ہو چکا ہے ، قابض افواج 71سال گزرنے کے باوجود کشمیریوں کے جذبہ آزادی میں کمی نہ لا سکا، دنیا کو اس مسئلے کے ہمیشہ حل کیلئے کشمیریوں کو رائے شماری کا حق دلوانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ خطے سے جنگ کے بادل چھٹ سکیں۔

۔ہفتہ کو آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چودھری محمدیاسین نے اسلام آباد میں صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان سے تفصیلی ملاقات کی جس میں مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال خاص کر بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد انتخابات کے ڈہونگ اور اس دوران حریت قائدین کی گرفتاریوں اور ان پر نام نہاد مقدمات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔

(جاری ہے)

اس موقع پر چوہدری محمد یاسین نے کہا ہے کہ کشمیر کے عوام بھارتی تسلط سے آزادی کے لہیے بے پناہ قربانیاں دے رہے ہیں ان قربانیوں کا مقصد اقوام متحدہ کی قرارداوں کے تحت کشمیری عوام کو استصواب رائے کا حق دیا جائے جس کے لہیے وہ70 سالوں سے قربانیاں دے رہے ہیں اس دوران کہی ممالک نے آزادی حاصل کی لیکن کشمیری عوام کو انکا پیدائشی حق حق خود ارادیت نہیں مل سکا انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر 1947سے اب تک حل طلب مسئلہ ہے ،یہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان باہمی مسئلہ نہیں کشمیری بھی اس کے فریق ہیں ، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے ۔

خطہ میں مستقل امن کیلئے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی جارحیت کی وجہ سے نوے کی دہائی کے بعد پیدا ہونے والی نسل میں تحریک آزادی سرائیت کر چکی ہے خاص کر تعلیم یافتہ نوجوانوں نے ہاتھوں میں ہتھیار اٹھا لئے ہیں ۔مقبوضہ کشمیر میں نوے کی دہائی کے بعد ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد شہید، دس ہزار بیوہ ، لاکھوں لوگ زخمی اور ہزاروں مکانات تباہ ہوچکے ہیں۔

قابض بھارتی فوجیوں کو مکمل آزادی ہے کہ وہ کسی کشمیری کو بلاوجہ اٹھا لیں یا اغواہ کر لیں اور پھر مار دیں یا کوئی بھی جھوٹا مقدمہ درج کریں ، وہاں کی مقامی حکومت کو بھی اختیار نہیں کہ وہ کسی ایک فوجی کے خلاف بھی کارروائی کر سکے ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم پر اقوام متحدہ کی رپورٹ شائع ہو چکی ہے اور اس حوالہ سے یورپین پارلیمنٹ بھی بحث ہو چکی ہے ۔

انہوں نے کہاکہ 1945میں مقبوضہ کشمیر اسمبلی میں الحاق کی قرارداد کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مسترد کر دیا تھا ۔ مہاراجہ نے زبردستی ریاست کا الحاق ہندوستان سے کیا جو کشمیریوں کی خواہشات کے سراسر خلاف تھا۔ انہوں نے کہاکہ وقت آگیا ہے کہ اس مسئلہ کا پائیدار حل کیا جائے وہ یہی ہے کہ کشمیریوں کو رائے شماری کا اختیار دیا جائے ۔ دنیا کو اس مسئلے کے ہمیشہ حل کیلئے کشمیریوں کو رائے شماری کا حق دلوانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ خطے سے جنگ کے بادل چھٹ سکیں ۔

انہوں نے کہاکہ مسئلہ کشمیر کو حل کیے بغیر خطے میں امن و سلامتی کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا ۔71 سال گزرنے کے باوجود بھارت نے کشمیریوں کا بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حق دینے کے بجائے وہاں قتل و غارت اور کشمیریوں کی نسل کشی کاسلسلہ شروع کر رکھا ہے۔قابض بھارتی افواج کا نشانہ کشمیری نوجوان ہیں ،خواتین کی عصمت دری اور بچوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

ہندوستان پیلٹ گن سے کشمیری نوجوانوں کی بینائی چھین رہا ہے۔ قابض افواج مقبوضہ وادی میں انسانیت سوز جرائم کی مرتکب ہورہی ہے ۔ مقبوضہ وادی میں مظالم ڈھانے کے ساتھ لائن آف کنٹرول پر بھی بھارت معصوم شہریوں کو جارحیت کا نشانہ بنارہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ کشمیریوں نوجوانوں کے دلوں سے موت کا خوف ختم ہو چکا ہے ، قابض افواج 71سال گزرنے کے باوجود کشمیریوں کے جذبہ آزادی میں کمی نہ لا سکا۔