عوام کی جانب سے مسترد کئے جانے والے سیاسی مگرمچھوں کو صرف اقتدار سے باہر ہونے کا درد ہے،

وہ اپنا درد عوام کے درد سے جوڑ کر اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں، انہیں ناکامی کے سوا کچھ نہیں ملے گا، مولانا فضل الرحمن 1988ء کے بعد پہلی مرتبہ اقتدار سے باہر ہیں، اقتدار سے باہر رہنا ان کیلئے ناممکن ہو چکا ہے، وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں ملک میں معاشی استحکام کیلئے اقدامات اٹھا رہے ہیں، چین، قطر، سعودی عرب سمیت دوست ممالک معاشی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ہماری مدد کر رہے ہیں، اپوزیشن جانتی ہے کہ اگر پی ٹی آئی کا یہ بجٹ منظور ہو گیا تو اس کے بعد ملک میں مستقل معاشی استحکام آ جائے گا، اس کے بعد اپوزیشن کا چورن بکنے والا نہیں ہے، اسی لئے عوام کے مہنگائی کے درد کو اپنے سیاسی درد کے ساتھ جوڑ کر تحریک چلانے کی باتیں کر رہی ہے، پہلی مرتبہ اپوزیشن کی تحریک ان کے سینے میں ہی دم توڑ جائے گی، سیاسی نومولود قیادت کے بیانیہ کو اپنی جماعتوں نے ہی مسترد کر دیا تو وہ عوام میں کس منہ سے جا سکتے ہیں وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا ایجوکیشنل ایکسپو 2019ء کی افتتاحی تقریب سے خطاب

منگل جون 18:01

عوام کی جانب سے مسترد کئے جانے والے سیاسی مگرمچھوں کو صرف اقتدار سے ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 25 جون2019ء) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ عوام کی جانب سے مسترد کئے جانے والے سیاسی مگرمچھوں کو صرف اقتدار سے باہر ہونے کا درد ہے، وہ اپنا درد عوام کے درد سے جوڑ کر اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں، انہیں ناکامی کے سوا کچھ نہیں ملے گا، مولانا فضل الرحمن 1988ء کے بعد پہلی مرتبہ اقتدار سے باہر ہیں، اقتدار سے باہر رہنا ان کیلئے ناممکن ہو چکا ہے، وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں ملک میں معاشی استحکام کیلئے اقدامات اٹھا رہے ہیں، چین، قطر، سعودی عرب سمیت دوست ممالک معاشی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ہماری مدد کر رہے ہیں، اپوزیشن جانتی ہے کہ اگر پی ٹی آئی کا یہ بجٹ منظور ہو گیا تو اس کے بعد ملک میں مستقل معاشی استحکام آ جائے گا، اس کے بعد اپوزیشن کا چورن بکنے والا نہیں ہے، اسی لئے عوام کے مہنگائی کے درد کو اپنے سیاسی درد کے ساتھ جوڑ کر تحریک چلانے کی باتیں کر رہی ہے، پہلی مرتبہ اپوزیشن کی تحریک ان کے سینے میں ہی دم توڑ جائے گی، سیاسی نومولود قیادت کے بیانیہ کو اپنی جماعتوں نے ہی مسترد کر دیا تو وہ عوام میں کس منہ سے جا سکتے ہیں۔

(جاری ہے)

وہ منگل کو پاک۔چائنہ فرینڈ شپ سنٹر میں نجی میڈیا گروپ کی جانب سے منعقدہ 2روزہ ایجوکیشنل ایکسپو 2019ء کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہی تھیں۔ ایجوکیشنل ایکسپو میں برٹش کونسل، یو این ایس ای ایف پی، نسٹ یونیورسٹی، قائداعظم یونیورسٹی، رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی، زیبسٹ یونیورسٹی، ایئر یونیورسٹی، بحریہ یونیورسٹی، یونیورسٹی آف لندن، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، یونیورسٹی آف لاہور، اقراء یونیورسٹی، یونیورسٹی آف انجینئرنگ ٹیکسلا، آئی سی ایم اے پاکستان سمیت ملک بھر کی پبلک و پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے سٹالز لگائے گئے۔

وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کا درد سمجھ سکتے ہیں، 1988ء کے بعد پہلی مرتبہ وہ اقتدار سے باہر ہیں، وہ اپنے درد کو عوام کا درد بنا کر پیش کرنا چاہتے ہیں، مولانا صاحب عوام آپ کے چہروں کو اچھی طرح جان اور پہچان چکی ہے، وہ اقتدار سے باہر رہ کر اس طرح تڑپ رہے ہیں جس طرح مچھلی پانی سے باہر رہ کر تڑپتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقتدار کے سمندر کے مگرمچھ باہر بیٹھ کر بڑے بے چین ہیں، انہی لوگوں کی وجہ سے عوام کو جن مشکلات کا سامنا ہے ان سے نکالنے کیلئے وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا کام آئین، قانون کی بالادستی، اداروں کی مضبوط اور انہیں بااختیار بنانے کے ساتھ ساتھ کرپشن کا خاتمہ ہے، عوام کے حقوق کے تحفظ کیلئے حکومت دن رات کام کر رہی ہے، اپوزیشن کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے آئینی کردار کو ادا کرتے ہوئے عوام کی سہولت اور مفاد کے اقدامات اور قوانین کو حتمی شکل دینے کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی اکھڑی سانسیں بحال رکھنے کیلئے انہیں آکسیجن فراہم کرنا پڑ رہی ہے کیونکہ پہلے ہی عوام انہیں مسترد کر چکی ہے، احتجاج اور تحریک کی کال دینے والی نومولود سیاسی قیادت کی بڑھکوں کو اپنی جماعتیں ہی مسترد کر چکی ہیں، وہ عوام کو باہر نکالنے اور بجٹ منظوری میں رکاوٹ بننے کے دعوئوں کو اپنے سینوں میں ہی دفن کر دیں کیونکہ عوام ان کے دھوکہ میں نہیں آنے والے، یہ پہلی بار ہو گا کہ نومولود قیادت کی تحریک ان کے سینوں میں ہی دفن ہو جائے گی، ہم کسی ڈھال، چال اور ذاتی عمل سے مرعوب ہونے والے نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت عوام کے سامنے جوابدہ ہے، عوام بھی یہ سمجھتی ہے کہ انہی سیاستدانوں نے ملک کا بیڑا غرق کیا اور اپنی نئی نسل کو جہالت کے اندھیرے میں دھکیل دیا، ہمارے عوام باشعور ہو چکے ہیں، عمران خان کو اپنا رہبر ماننے والے اپوزیشن کے جھوٹے دعوئوں پر کان دھرنے والے نہیں ہیں، اب تو 22 کروڑ عوام بھی ان کرپٹ لوگوں سے 24 ہزار ارب قرض کا حساب مانگ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دو بڑے خاندانوں نے نسل در نسل وراثت اور سیاست کو منتقل کرکے اپنی اولادوں کو عیش و عشرت کی زندگی جبکہ عوام کو غریب سے غریب تر کیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت کسی بھی یونیورسٹی کا بجٹ کم نہیں کر رہی تاہم ماضی میں من پسند منصوبوں کیلئے کوئی فنڈز نہیں ہیں۔ قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ہمیں ملک میں روایتی تعلیم سے نکل کر رسمی تعلیم کی جانب آنا ہو گا، دنیا کے ساتھ مقابلہ کیلئے ٹیکنالوجی بیسڈ تعلیم کو عام کرنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی طرف سے تمام یونیورسٹیز سربراہان کو پیغام ہے کہ ملک میں معیاری تعلیم کیلئے اپنا کردار ادا کریں، پی ٹی آئی کے منشور میں بھی یکساں تعلیمی نظام اور تعلیمی اصلاحات اولین ترجیح تھی، وزیراعظم کی سرپرستی اور وزیر تعلیم کی زیر نگرانی کابینہ نے نئی ایجوکیشن پالیسی کے حوالہ سے کچھ ترجیحات طے کی ہیں، تعلیم کا شعبہ چونکہ 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو منتقل ہو گیا ہے، اس حوالہ سے صوبوں سے بھی مشاورت کی جائے گی، جن صوبوں میں پی ٹی آئی اور اتحادی جماعتوں کی حکومت ہے وہاں پر تعلیم کو اولین ترجیح پر رکھا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ معیاری تعلیم کو مدارس اور دیہی علاقوں کے ساتھ منسلک کرنا چاہ رہے ہیں تاکہ دیہی اور پسماندہ علاقوں میں عوام کو تعلیم کے حوالہ سے شہری علاقوں کے برابر سہولیات میسر ہوں۔ ڈاکٹر فردوس عاشق نے کہا کہ وزیراعظم کی زیر صدارت پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں بھی وزیراعظم نے قانون ساز پارلیمنٹیرینز کو تجویز دی کہ ملک بھر کی تمام سرکاری یونیورسٹیوں، کالجز اور سکولوں کو شام کے اوقات میں پرائیویٹ سیکٹر دیئے جائیں تاکہ وہ اسی انفراسٹرکچر سے ملک میں معیاری تعلیم کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے وزیر تعلیم کو ہدایات دیں کہ وہ اس حوالہ سے ایک روڈ میپ تیار کریں، اگر اس حوالہ سے قانون سازی کی ضرورت ہو یا صوبائی حکومتوں سے مشاورت، اس کی بھی نشاندہی کریں تاکہ ایک بہتر حکمت عملی سے آگے بڑھ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں ریاست مدینہ نے ایک قلیل مدت میں اسلامی ریاست کا لوہا منوایا، حضرت محمدؐ پر بھی پہلی وحی اقراء نازل ہوئی، اقراء سے شروع ہونے والا دین درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حال ہی میں وزیراعظم عمران خان نے القادر یونیورسٹی کا افتتاح کیا ہے، سائنس و ٹیکنالوجی جو مسلمانوں کی میراث تھی، اسے واپس لانے، دین اور دنیا کو اکٹھا لے کر چلنے کیلئے اسلامی آئیڈیالوجی اور قرآن پاک پر تحقیق کی جا سکے کیونکہ دنیا نے قرآن پاک پر تحقیق کرکے کائنات کی تسخیر کے فارمولے پر عمل کیا، اسلامی آئیڈیالوجی اور سیرت طیبہؐ پر عمل کرکے ہی ہم مشکلات سے نکل سکتے ہیں، آج ہمیں تعلیمی میدان میں اتحاد کی اشد ضرورت ہے، اگر ہم روایتی نظام پر چلتے رہے تو ہمارا تعلیمی نظام ناکام ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کا وژن ہے کہ پڑھے لکھے نوجوانوں کی کیریئر کونسلنگ کرکے ان کو درست تعلیمی سفر پر ڈالیں، حالانکہ یہ کام تو تعلیمی اداروں کا ہے لیکن ہمارے اداروں میں اس پر کام نہیں ہوتا، صرف والدین ہی فیصلہ کرتے ہیں کہ اپنے بچوں کو ڈاکٹر، انجینئر، استاد یا کس شعبہ میں لے کر جانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ملک کے معاشی محاذ پر جنگ جیتنے کیلئے بین الاقوامی امداد سے زیادہ پڑھے لکھے لوگوں کی ضرورت ہے، کامیاب نوجوان پروگرام کے تحت نوجوانوں کو بااختیار اور ہنرمند بنا کر ملکی ترقی میں حصہ دار بنانے جا رہے ہیں، اب جنگیں سرحدوں پر نہیں لڑی جائیں گی بلکہ ٹیکنالوجی جنگوں کو جیتنے میں معاون بنے گی۔