زرداری صاحب سینیٹ میں اکثریت لانے کے خواب چھوڑ کر سندھ حکومت کی خیر منائیں، حلیم عادل شیخ

جمعرات اگست 18:34

زرداری صاحب سینیٹ میں اکثریت لانے کے خواب چھوڑ کر سندھ حکومت کی خیر ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 08 اگست2019ء) پی ٹی آئی سندھ کیصدر و پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ نے انصاف ہائوس کراچی میں اہم پریس کانفرنس سے خطاب کیا اس موقعہ پر ان کے ہمراہ پی ٹی آئی سندھ کے جنرل سیکریٹری محفوظ عرسانی، رکن سندھ اسمبلی راجا اظہر، پی ٹی آئی رہنما حاجی مظفر شجراع بھی شامل ہیں۔ حلیم عادل شیخ نے خطاب کرتے ہوئے کہا نئے پولیس آرڈر آنے کے بعد سندھ کی پولیس ڈس آرڈر ہوگئی ہے، پیپلزپارٹی نے سندھ کی پولیس کو گھر کی باندی بنا دیا ہے، سردار صلاح شاہانی جس پر لاکھوں ہیڈ منی ہے اس کو گرفتار کیا گیا، گڑھی خیرو کا ڈان تھا جس کو دوسرے دن وزیر اعلیٰ کے حکم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔

ہم آزاد عوامی پولیس چاہتے تھے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ دادو میں رفیق جمالی کا بھائی بجلی چوری کر رہا تھا سیپکو نے چھاپا مار تھا، پکڑا گیا۔

(جاری ہے)

ان کے بھائی نے سیپکو کی ٹیم کو اغوا کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا کیا جس کا مقدمہ تک درج نہیں ہوا جس کا مقصد سندھ پولیس باندی بنی ہوئی ہے، ایس ایس پی دادو نے ایف آئی نہیں کاٹی تھی، سندھ حکومت نے انٹی کرپشن کو تباہ کر دیا ہے،سعید غنی کی وزارت ایک بارش میں ہی بہہ گئی ہے، وزیر اعلیٰ سندھ نے چھ سالوں میں 495ارب روپے پانی میں بہا دیئے۔

چھ سالوں میں ترقیاتی کاموں کے نام پر کرپشن کی گئی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما خورشید شاہ نے کرپشن کے ذریعے 500 ارب روپے سے زائد کے اثاثے بنائے ہیں، ایس ایس پی ٹرانسفر پوسٹنگ کے لئے وزیر اعلیٰ ہائوس کے چکر لگاتے ہیں، پولیس آرڈر نافذ ہونے کے بعد ہمارے چار ایم پی ایز پر تشدد کیا گیا۔پولیس کمداری کر رہی ہے مجبور ہوچکی ہے، پولیس کے افسر نے ہمارے ایم پی اے کے خلاف گالم گلوچ استعمال کی تھی۔

سندھ پولیس بھی سندھ حکومت کی طرح ناکارہ ہوچکی ہے، آئی جی سندھ پولیس کمپرومائس کرکے درباری بن چکے ہیں۔ ہم ایسی سیاسی پولیس کو تسلیم نہیں کریں گے یہ پولیس گردی نہیں چلنے دیں گے انہوں نے مزید کہا پچھلی بارشوں میں کراچی سمیت سندھ کے متعدد شہر ڈوب گئے تھیاب دوبارہ بارشیں آرہی ہیں سندھ حکومت نیکوئی پلان نہیں بنایا ہے، آج بھی کراچی کا ویسٹ اور ایسٹ ڈوبا ہوا ہے حیدرآباد میں پانی کھڑا ہے، نالے انہوں نے صاف نہیں کرے آج کوئی نظر نہیں آرہا ہے، علی زیدی جو کام کر رہے ہیں وہ قابل تعریف ہے۔

سندھ ڈزاسٹر مینیجمنٹ موجود نہیں سندھ حکومت بارشوں سے نمٹنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ سندھ کے حکمرانوں نے بارشوں کے نام پر فنڈ خرد برد کرے تھے، اس بار دوبارہ ایسا کرنا چاہتے ہیں۔ چیف منسٹر اپنی ناکامی کا اعتراف کر چکے ہیں، سندھ کے لوگوں کو لاوارث چھوڑنے پر وزیر اعلیٰ کو استعیفیٰ دینا چاہیے، اس سے پہلے آنے والی بارشوں سے شہر ڈوب جائیں وزیر اعلیٰ سندھ کو جانا چاہیے۔

زرداری صاحب دوبارہ سینیٹ میں عدم اعتمام حاصل کرنے خواب دیکھنا رہے ہیں ان کو اب سندھ حکومت کی فکر کرنی چاہیے جو جانے والی ہے۔ چانڈکا اسپتال میں دوائیاں نہیں ہے بقیہ سندھ کا کیا حال ہوگا، خورشید شاہ سے لیکر مراد علی شاہ تک کرپشن میں بھرے ہوئے ہیں، سندھ کی ترقی کے لئے وفاقی حکومت تیزی سے کام کر رہی ہے۔کراچی سمیت سندھ کے لاڑ کی پٹی کے لئے پانی کی قلت کو پورا کرنے کا پلان بنا لیا ہے، وفاقی حکومت نے سندھ میں پانی کی قلت دور کرنے کے لئے بہت بڑا قدم اٹھایا ہے، سندھ بئراج کی تعمیر سے سمندر کا آگے بڑھنے سے روکنے میں مدد ملے گی۔

یہ منصوبہ رواں ماہ میں شروع کیا جارہا ہے وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے سندھ کی عوام کے لئے تحفہ دیا ہے بننے والی بئراج کا نام بھی سندھ بئراج رکھا گیا ہے جو ٹھٹھہ سے 65 کلومیٹر کراچی سے 130 کلومیٹر کے مفاصلے پر تعمیر ہوگا منصوبہ 2022 مکمل ہوکر کام شروع کر دیگا۔ پی ٹی آئی رہنما مظفر شراج نے کہا پیپلزپارٹی نے ہمیشہ سندھ کارڈ کھیلا ہے، اب بھی یہی کوشش کی جارہی ہے، وزیراعلی اوراس کی کابینہ ناکام ہوچکی ہے، پولیس کا سندھ میں موٹرسائیکل سواروں کو تنگ کرنا معمول ہے، وفاقی حکومت کام کرتی ہے تو ان کوتکلیف ہوتی ہے، اگر نالے صاف کئے جارہے ہیں تو اعتراض کیوں ہی تمام وزرا پولیس افسران کی گاڑیوں سے کالے شیشے اتارے جائیں، پی ٹی آئی سندھ کے جنرل سیکریٹری پی ٹی آئی سندھ محفوظ عرسانی نے کہا سندھ میں زراعت کی صورتحال خراب ہونے سے مختلف فصلوں کی پیداوار متاثر ہوئی ہے،پانی کی تقسیم میں متعلقہ ادارے ناکام ہوئے ہیں، بارش کا پانی پینے کے پانی میں مل ہوچکا ہے، مختلف بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ ہے۔