وزیراعظم نے 1320میگاواٹ کے چائنہ حب پاورپراجیکٹ کاافتتاح کردیا

پاورپلانٹ میں 20 کوئلہ اپنے وسائل سے استعمال کریں گے،جس سے فارن اکاؤنٹ سیونگ ہوگی، دنیا میں سونے کے ذخائر سب سے زیادہ پاکستان میں ہیں،ریکوڈک میں کمپنی دوبارہ سونا نکالنا چاہتی ہے،چینی کمپنیاں اب سی پیک میں فشریز کیلئے آرہی ہیں۔وزیراعظم عمران خان کا تقریب سے خطاب

پیر اکتوبر 22:35

وزیراعظم نے 1320میگاواٹ کے چائنہ حب پاورپراجیکٹ کاافتتاح کردیا
حب (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 21 اکتوبر2019ء) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں پانی سے پچاس ہزار میگاواٹ جبکہ کوئلے سے آئندہ سو سال تک بجلی بنانے کی صلاحیت موجود ہے، پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے جس کے باعث ریکوڈک کیس میں چھ ارب ڈالر جرمانہ ہوا، پاکستان کے مستقبل کے لئے صاف اور شفاف گورننس دینا ہو گی، کاروباری افراد کے لئے آسانی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے،وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار 1320میگاواٹ کے چائنہ حب پاورپراجیکٹ کے افتتاح کے موقع پر خطاب میں کیا ۔

انہوں نے کہا کہ پاورپلانٹ میں 20 کوئلہ اپنے وسائل سے استعمال کریں گے،جس سے فارن اکاؤنٹ سیونگ ہوگی، دنیا میں سونے کے ذخائر سب سے زیادہ پاکستان میں ہیں،ریکوڈک میں کمپنی دوبارہ سونا نکالنا چاہتی ہے،چینی کمپنیاں اب سی پیک میں فشریز کیلئے آرہی ہیں،بلوچستان میں فشریز کے بڑے وسائل ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے آج حب میں 1320میگاواٹ کے چائنہ حب پاورپراجیکٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں بڑا خوش ہوں کہ سی پیک کے اندر پہلا مشترکہ پراجیکٹ ہے، اس کے مشترکہ پراجیکٹ پاکستان کیلئے خوش آئند ہیں،میں چاہوں گا کہ یہاں جو کوئلہ استعمال ہوناہے ،اس میں20فیصد کوئلہ ہمارا استعمال کیا جائے،یہ کوئلہ تھر سے لے کرآئیں،اس سے فارن اکاؤنٹ کی سیونگ ہوگی۔

ہمارا بڑا مسئلہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہے،جتنا ڈالر پاکستان سے باہر جارہا ہے اور جو ڈالر پاکستان آرہا ہے، اس میں تاریخی خسارہ تھا جب ہماری حکومت آئی ، ڈالر کی وجہ سے سارے مسئلے ہوئے۔جس سے روپے پر دباؤ آیا، 35فیصد ڈی ویلیوایشن ہوئی، مہنگائی ہوئی، تیل ،بجلی اور ٹرانسپورٹ مہنگی ہوگئی،امپورٹڈ اشیائ مہنگی ہوجاتی ہیں۔ہم چاہتے ہیں ہمارے تیل اور انرجی وسائل استعمال ہوں۔

ہائیڈروکی 50ہزار میگاواٹ کی جنریشن صلاحیت ہے ،ہمیں پہلے بجلی بنانی چاہیے تھی، ڈالر مہنگاہونے سے بجلی مہنگی ہوجاتی ہے ، ہمیں اس پر یس کے اگر ہم کنویں کھودتے تو وافر گیس ہوتی۔اگر ہماری ہائیڈروپر بجلی ہو، پھرڈالر مہنگاہونے سے بجلی مہنگی نہیں ہوتی۔اس لیے کوشش کریں کہ زیادہ کوئلہ تھر سے حاصل کریں۔تھر میں 185ٹن کوئلہ ہے۔اسی طرح کراچی میں پانی کے مسئلے پر بھی کام کریں، وہاں پانی کا بڑا مسئلہ ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ بلوچستان میں کتنے وسائل ہیں۔میں جب امریکا میں تھا تو مجھے پیغام ملا کہ ریکوڈک کمپنی جس نے سونا نکالنا تھا وہ بات کرنا چاہتا ہے، اس نے بتایا کہ دنیا میں سونے کے ذخائر سب سے زیادہ پاکستان میں ہیں۔یہ آسانی سے نکالے جا سکتے ہیں۔ اس نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں ہم پاکستان میں دوبارہ کام کرنا چاہتے ہیں ، کیونکہ موجودہ حکومت شفاف ہے۔

ہمیں سونے سے اربوں ڈالر مل سکتے ہیں، بلکہ ہمیں ریکوڈک میں پاکستان کو 6ارب ڈالرجرمانہ ہوا۔اس کا نقصان یہ ہوا کہ پاکستان میں دوسری کمپنیاں بھی مائننگ کیلئے نہیں آئیں۔سرمایہ کاری نہیں آئی۔کارکے رینٹل پاور کا منصوبہ ہے ، اس میں لوگ کرپشن کی وجہ سے نہیں آئے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ملک میں شفاف کلین حکومت کرنی ہے، اللہ نے پاکستان کو سب کچھ دیا ہے۔سی پیک مستقبل کا دور ہمارے لیے بڑاموقع ہے،سی پیک میں اب وہ فشریز کیلئے آرہے ہیں۔ بلوچستان میں فشریز کی بڑی پیداوار ہے۔ ہمارے سے 6گنا زیادہ گائے سے دودھ حاصل کرتے ہیں۔