حکومت کو خستہ حال معیشت ورثے میں ملی جسے بہتر کرنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں، سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر

منگل جنوری 22:40

حکومت کو خستہ حال معیشت ورثے میں ملی جسے بہتر کرنے کے لیے اقدامات کیے ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 28 جنوری2020ء) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ حکومت کو خستہ حال معیشت ورثے میں ملی جسے بہتر کرنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں ، قومی مسائل کے حامل معاملات پر قانون سازی پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے، سی پیک پاکستان خصوصا گلگت بلتستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا، سی پیک کے تحت جاری منصوبوں کی تکمیل سے گلگت بلتستان میں ترقی اور خوشحالی کے راہیں کھلیں گی۔

ان خیالات کا اظہارانہوں نے منگل کو سپیکر گلگت بلتستان اسمبلی فدا محمد نوشاد سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات گلگت بلتستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں سمیت قانون سازی سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں اسد قیصر نے کہا کہ ملک معاشی مسائل کا شکار ہے جس سے نبرد آزما ہونے کے لیے موجودہ حکومت نے مشکل فیصلے کیے ہیں۔

(جاری ہے)

حکومت کو خستہ حال معیشت ورثے میں ملی جسے بہتر کرنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

قومی مسائل کے حامل معاملات پر قانون سازی پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک پاکستان خصوصا گلگت بلتستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ سی پیک کے تحت جاری منصوبوں کی تکمیل سے گلگت بلتستان میں ترقی اور خوشحالی کے راہیں کھلیں گی۔ انہوں نے کہا کہ سیاحت کے اعتبارسے ہمارے شمالی علاقے خصوصا گلگت بلتستان دنیا کی توجہ کا مرکز ہے۔

سیاحت کے فروغ کے ذریعے ہم علاقائی پسماندگی اور بے روزگاری پر قابو پا سکتے ہیں۔سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت نے خطے میں خوف ناک انسانی المیہ جنم لے لیا۔ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر کی موجودہ سنگین صورتحال کا نوٹس لے اور مسئلہ کشمیر کے فوری حل کے لیے قدامات کرے۔ اس موقع پر سپیکر گلگت بلتستان نے کہا کہ وفاق اور صوبوں کے مابین رابطوں کے فروغ سے ملک کو درپیش مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

وفاقی حکومت گلگت بلتستان کے مسائل پر خصوصی توجہ دے ۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی اور گلگت بلتستان اسمبلی کے اراکین میں راوبط سے قانوں سازی اور تجربات سے استفادہ حاصل کر سکتے ہیں۔ موجودہ حکومت کے معیشت کی بہتری کے لیے اقدامات قابل ستائش ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں جاری کرفیو نام نہاد بھارتی جمہوریت کے منہ پر طمانچہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے۔