پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر دہشت گردوں کے حملہ کا مقدمہ درج

سی ٹی ڈی نے ایس ایچ او میٹھادر رضوان پٹیل کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا

Mian Nadeem میاں محمد ندیم منگل جون 23:13

پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر دہشت گردوں کے حملہ کا مقدمہ درج
کراچی(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔30 جون۔2020ء) کراچی پولیس نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) پر گزشتہ روز ہونے والے حملے کا مقدمہ درج کر لیا ہے‘ مقدمہ محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے ایس ایچ او میٹھادر رضوان پٹیل کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا‘پولیس نے مقدمے میں 3/4/5 ایکسپلیوزیو ایکٹ، انسداد دہشت گردی، قتل، اقدام قتل، سندھ آرمز ایکٹ سمیت دیگر دفعات شامل کی ہیں.

مقدمے میں کہا گیا ہے کہ پولیس اور دہشت گردوں سے مقابلے میں چار دہشت گرد مارے گئے جبکہ کورٹ پولیس کا سب انسپکٹر محمد شاہد کی لاش میں گیٹ کے پاس پڑی تھی اور چیک پوسٹ کے قریب ہی دو سیکیورٹی گارڈز کی لاشیں بھی تھیں.

(جاری ہے)

پولیس نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کچھ فاصلے پر ریپڈ رسپانس فورس (آر آر ایف) کے دو جوان امتیاز علی اور شہزاد زخمی پڑے تھے جبکہ اسٹاک ایکسچینج کے داخلی دروازے کے ساتھ ایک دہشت گرد کی لاش اور دوسرے دہشت گرد کی لاش درخت کے قریب پڑی تھی.

مقدمے میں دہشت گردوں سے ملنے والے اسلحے کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ جائے وقوع سے بڑی تعداد میں دستی بم، لانچر، رائفل، گرینیڈ، گولیاں، میگزین، کھانے پینے کا سامان، ایس ایم جیز، کٹ بیگ، پانی کی بوتلیں اور دیگر گولہ بارود ملا‘خیال رہے کہ کراچی میں گزشتہ روز سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کی بڑی کارروائی کو ناکام بناتے ہوئے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کی عمارت پر حملے کی کوشش کرنے والے چاروں دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا تھا‘دہشت گردوں کے حملے میں ایک پولیس اہلکار اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے 2 سیکیورٹی گارڈ شہید ہوئے تھے.

قبل ازیں محکمہ انسداد دہشت گردی کراچی کے انچارج راجہ عمر خطاب نے بتایا تھا کہ 4 حملہ آوروں میں سے 3 کی شناخت فنگر پرنٹس کے ذریعے سلمان، تسلیم بلوچ اور سراج کے ناموں سے ہوگئی ہے. انہوں نے بتایا کہ تینوں کا تعلق بلوچستان کے ضلع کیچ سے تھا‘ ایک دہشت گرد کو ان کی گاڑی سے 25 فٹ، دوسرے کو 26 فٹ، تیسرے کو 300 فٹ اور چوتھے کو 312 فٹ کی دوری پر ہلاک کیا گیا.

راجہ عمر خطاب نے کہا کہ گاڑی سلمان نے پرانی سبزی منڈی سے نقد رقم دے کر خریدی تھی اور اپنا اصل شناختی کارڈ بھی جمع کرایا تھا جو ابھی ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے پاس ہے‘انہوں نے کہا کہ دہشت گرد لیاری ایکسپریس وے کے غریب آباد انٹرچینج سے آئے تھے اور انہوں نے حملے کے لیے ماڑی پور روڈ استعمال کیا تھا. انہوں نے کہا کہ محکمہ انسداد دہشت گردی نے شواہد حاصل کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے‘واضح رہے کہ کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملے کی ذمہ داری کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی تھی ‘کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے سوشل میڈیا کے ذریعے حملے کی ذمہ داری قبول کی.