کشمیری عید کے موقع پر شہداء اور نظر بندوں کو یاد رکھیں، سید علی گیلانی

جمعرات جولائی 18:04

سرینگر ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 30 جولائی2020ء) مقبوضہ کشمیر میں بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی نے تمام مسلم امہ کو عید الاضحی کی مبارکباد دیتے ہوئے کشمیریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ شہداء اور نظر بندوں کے اہلخانہ کی طرف خصوصی توجہ دیں۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سید علی گیلانی نے اپنے ایک ’ٹویٹ‘ میں کہا کہ کشمیری شہداء نے اپنا آج دیگر کشمیریوں کے بہتر مستقبل کیلئے قربان کیا اور وہ اس با ت کے مستحق ہیں کہ انہیں عید کے پر مسرت موقع پر یا د رکھا جائے ۔

انہوں نے کہا کہ عید الاضحی سے ہمارے اندر قربانی کا جذبہ پیدا ہونا چاہیے۔ مقبوضہ کشمیر کے مفتی اعظم مفتی ناصر الاسلام نے ایک انٹریو میں جبکہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما بلال صدیق نے بھی سرینگر میںایک بیان میں مقوضہ کشمیر کے لوگوں کو عید الاضحی کی مبارکباد دی ہے ۔

(جاری ہے)

مفتی ناصر الاسلام نے کشمیری عوام پر زور دیا کہ وہ پانچ اگست کو یوم سیاہ کے طور پر منائیں کیونکہ مودی کی سربراہی میں قائم فسطائی بھارتی حکومت نے گزشتہ برس اس روز عالمی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی۔

قابض انتظامیہ نے مقبوضہ علاقے میں تیز رفتار انٹرنیٹ سروس فور جی پر جاری پابندی میں 19اگست تک توسیع کر لی ہے ۔ علاقے میں فور جی انٹرنیٹ سروس گزشتہ برس پانچ اگست سے بند ہے۔دریں اثنا تحریک حریت جموںوکشمیر نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں پارٹی چیئرمین محمد اشرف صحرائی کی گرفتاری اور ان پر کالا قانون ’’پبلک سیفٹی ایکٹ‘‘ لاگو کرنے کی مذمت کی ۔

بیان میں کہا گیا کہ اشرف صحرائی کو صحت کی خرابی کی وجہ سے جموں خطے کی ادھمپور جیل سے رہا کیا جانا چاہیے یا پھر انہیں سرینگر منتقل کیا جائے۔ بزرگ کشمیر ٰی حریت رہنما سید علی گیلانی کو پاکستان کا سب سے بڑا سول اعزاز ’نشان پاکستان‘ دینے کی سینٹ کی قرارداد کا مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر خیر مقدم کیا گیا ہے۔جامعہ کشمیر سرینگر میں قانون اور بین الاقوامی تعلقات کے سابق پروفیسر ڈاکٹر شیخ شوکت حسین نے سرینگر میں ایک انٹرویو میں کہا کہ سید علی گیلانی عمر بھر جموںوکشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے حامی رہے اور انہی خطوط پر کشمیر کے اندر مزاحمتی تحریک کی قیادت کرتے رہے ۔

ادھر نامعلوم مسلح افراد نے ضلع پلوامہ میں بھارتی فوج کی ایک گاڑی پر حملہ کیا ۔ حملے کے بعد بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے حملہ آوروں کو پکڑنے کے لیے علاقے کا محاصرہ کر لیا۔ فوجیوںنے سرینگر، کپواڑہ ، بارہمولہ ، بانڈی پورہ، بڈگام ، گاندر بل ، اسلام آباد، پلوامہ ، کولگام، شوپیاں، کشتواڑ ، ڈوڈہ ، راجوری ، پونچھ اور دیگر علاقوں میں بھی محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا۔

جموں وکشمیر ڈیموکریٹک پارٹی کے قائمقام چیئرمین محمود احمد ساغر نے اسلام آباد میں ایک بیان میں عالمی رہنمائوں پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی نوآبادیاتی مہم کا موثر نوٹس لیں جس کا مقصدعلاقے میں نئے آبادکاروں کا معاشرہ تشکیل دے کر مقامی آبادی کو تبدیل کرنا ہے۔