ملک میں کورونا کے فعال کیسزکی تعداد20ہزار سے بھی کم رہ گئی

90فیصد مریض صحت یاب ہوئے‘مجموعی طور پر 6ہزار35افراد ہلاک ہوئے. سرکاری رپورٹ

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعرات اگست 12:56

ملک میں کورونا کے فعال کیسزکی تعداد20ہزار سے بھی کم رہ گئی
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔06 اگست ۔2020ء) پاکستان میں کورونا وائرس کی صورتحال ہر گرزتے دن کے ساتھ بہتری کی جانب گامزن ہے اور ملک میں 90 فیصد مریضوں کے صحت یاب ہونے سے فعال کیسز کی تعداد 20 ہزار سے بھی کم رہ گئی ہے. ملک میں کورونا وائرس کے مصدقہ کیسز کی تعداد 2 لاکھ 81 ہزار 863 ہے جس میں سے 2 لاکھ 56 ہزار 58 صحت یاب ہوئے ہیں جبکہ 6 ہزار 35 لقمہ اجل بنے ہیں آج 6 اگست تک ملک میں کورونا کی وبا نے مزید 322 افراد کو متاثر کیا جبکہ 5 افراد کی جان لے لی، تاہم ایک ہزار 772 مریض صحت یاب بھی ہوئے.

(جاری ہے)

اس عالمی وبا کا آغاز گزشتہ برس کے آخر میں چین کے شہر ووہان کی ایک سی فوڈ مارکیٹ سے ہوا تھا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا‘وبا نے نہ صرف پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا بلکہ دنیا کی صورتحال، لوگوں کا رہن سہن، معاشی معاملات اور یوں کہیں کہ سب کچھ بدل کر رکھ دیا. اگر خطے کی بات کریں تو پاکستان میں یہ وبا دیگر پڑوسی ممالک کے مقابلے میں دیر سے آئی اور یہاں فروری کے آخر میں پہلا کیس رپورٹ ہوا جبکہ یہاں اس وائرس سے بہتری کی جانب جانے کی صورتحال بھی دیگر ممالک سے بہتر ہے رواں ماہ کی بات کی جائے تو ابتدا کے 5 روز میں عید گزرنے کے باوجود کیسز کی صورتحال میں گزشتہ ریکارڈ کے مقابلے بہتر ہے‘آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں کورونا وائرس مزید 276 افراد کو متاثر اور 5 افراد کی جان لے لیا سرکاری اعداد و شمار کے لیے قائم پورٹل کے مطابق صوبے میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 276 نئے کیسز رپورٹ ہوئے اور یوں مجموعی کیسز کی تعداد 93 ہزار 847 ہوگئی اس کے علاوہ 5 افراد بھی 24 گھنٹوں میں انتقال کرگئے جس سے مجموعی اموات 2 ہزار 162 تک جاپہنچیں.

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مزید 19 افراد وائرس سے متاثر ہوئے‘سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں سامنے آنے والے نئے مریضوں کی تعداد 19 تھی، جس سے مجموعی کیسز 15 ہزار 141 تک پہنچ گئے. ملک میں کم متاثر علاقوں میں سے ایک گلگت بلتستان میں مزید 16 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی اعداد و شمار پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں سامنے آنے والے ان 16 نئے مریضوں کے بعد کیسز کی مجموعی تعداد 2 ہزار 234 تک پہنچ گئی.

آزاد کشمیر جو اب تک اس وائرس سے سب سے کم متاثر ہوا ہے وہاں نئے کیسز میں 11 کا اضافہ ہوا اعداد و شمار کے مطابق 16 نئے کیسز کے سامنے آںے کے بعد وہاں اب تک کے مجموعی کیسز 2 ہزار 116 تک پہنچ گئی. ملک میں نئے کیسز کے سامنے آنے کے باوجود صحت یاب افراد کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے‘گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں مزید 1 ہزار 772 مریض صحت یاب ہوئے جس کے بعد مجموعی طور پر صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 2 لاکھ 56 ہزار 58 ہوگئی جو مجموعی کیسز کا 90 فیصد ہے.

دوسری جانب وفاقی وزیراسد عمر کی زیرصدارت اجلاس میں کورونا کے پھیلاﺅکو روکنے کیلئے بڑے پیمانے پرعوامی شعور بیداری مہم کے آغاز کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایس اوپیز پر عملدرآمد کر کے کورونا سے بچا جاسکتا ہے’وفاقی وزیراسد عمر کی زیرصدارت این سی او سی کا اجلاس ہوا ، وفاقی وزرافخرامام،اعجازشاہ اور معاون خصوصی صحت ڈاکٹرفیصل سلطان نے شرکت کی، اجلاس میں صوبوں کی این سی اوسی کوکورونا صورتحال اور حکومتی اقدامات پر بریفنگ دی ، جس میں بتایا گیا کہ ملک بھر میں کورونا کے پھیلاﺅ میں واضح کمی آئی ہے، عوامی سطح پرایس اوپیزپر عملدرآمد میں کمی آئی ہے.

وفاقی وزیراسد عمر نے کہا کہ ملک سے کورونا وائرس کا مکمل طورپرخاتمہ نہیں ہوا، ایس اوپیز پر عملدرآمد کر کے کورونا سے بچا جاسکتا ہے، عوامی مقامات پر ماسک، سماجی فاصلے پر عملدرآمد کیلئے اقدامات کئے جائیں’اسد عمر نے کہا کہ کوروناکیسزبڑھنے پر حکومت نے ہسپتالوں کی استعداد کار بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، 31جون سے قبل اسپتالوں کو 2150 آکسیجن بیڈزفراہمی کافیصلہ ہوا اور صوبوں سے مشاورت کے بعد 2850 آکسیجن بیڈزفراہمی کا آغازکیاہے.

انہوں نے بتایا کہ ملکی ہسپتالوں کوتاحال 2608 آکسیجن بیڈزفراہم کئے جا چکے ہیں، آزادکشمیر 80، بلوچستان کو264 آکسیجن بیڈز، گلگت بلتستان کو100، خیبرپختونخواکو 400 آکسیجن بیڈزفراہم کر دیے ہیں. اسد عمر نے بتایا کہ پنجاب کو787، سندھ کو 351 ، اسلام آباد کے ہسپتالوں کو 626 آکسیجن بیڈزفراہم کئے جا چکے ہیں جبکہ پنجاب،سندھ،کے پی کومزید 242 آکسیجن بیڈزفراہم کئے جائیں گے، سندھ215، پنجاب 17، کے پی کو 10 آکسیجن بیڈز فراہم کئے جائیں گے‘این سی او سی کا وبائی امراض میں اضافہ روکنے کیلئے عوامی بیداری مہم تیزکرنے اور کوروناپھیلاﺅروکنے کیلئے بڑے پیمانے پرعوامی شعوربیداری مہم کے آغازکا فیصلہ کیا.