جس میدان میں پی ڈی ایم کی 11 جماعتوں نے مل کر پنڈال سجایا وہیں 8 نومبر کو پاک سرزمین پارٹی اکیلے عوامی طاقت کا مظاہرہ کریں گے،سید مصطفیٰ کمال

دنیا کو باور کروا دیں گے جب ہم کراچی کو بدل سکتے ہیں تو پاکستان کو بھی بدل دیں گے پی ڈی ایم جلسے میں کسی ایک جماعت کے رہنما نے کراچی میں کھڑے ہو کر کراچی کے مسائل پر بات نہیں کی 7 ایک طرف پی ڈی ایم نے کراچی کو اپنے مذموم سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا دوسری وزیراعظم جب بار بار یہ کہتے ہیں اسٹیبلشمنٹ اور حکومت ایک پیج پر ہے تو اسٹیبلشمنٹ کو بدنام کرتے ہیں ، جیسے مہنگائی بیروزگاری اور غربت میں اضافہ اسٹیبلیشمنٹ کی مرضی سے ہورہا ہے،چیرمین پاک سرزمین پارٹی

پیر اکتوبر 22:01

جس میدان میں پی ڈی ایم کی 11 جماعتوں نے مل کر پنڈال سجایا وہیں 8 نومبر ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 19 اکتوبر2020ء) پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ جس میدان میں پی ڈی ایم کی 11 جماعتوں نے مل کر پنڈال سجایا وہیں 8 نومبر کو پاک سرزمین پارٹی اکیلے عوامی طاقت کا مظاہرہ کر کہ دنیا کو باور کروا دیں گے جب ہم کراچی کو بدل سکتے ہیں تو پاکستان کو بھی بدل دیں گے۔ پی ڈی ایم کے جلسے میں کسی ایک جماعت کے رہنما نے کراچی میں کھڑے ہو کر کراچی کے مسائل پر بات نہیں کی۔

ایک طرف پی ڈی ایم نے کراچی کو اپنے مذموم سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا، کراچی کی زمین اور پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم کو افواجِ پاکستان اور ملکی سالمیت پر مامور اداروں کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کیا گیا جو ملکی سالمیت کے خلاف سازش ہے تو دوسری طرف اپنی نااہلی کے باعث مہنگائی بیروزگاری غربت میں ناقابل یقین اضافہ کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان جب بار بار یہ کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت ایک پیج پر ہے تو اسٹیبلشمنٹ کو بدنام کرتے ہیں کہ جیسے مہنگائی بیروزگاری اور غربت میں اضافہ اسٹیبلیشمنٹ کی مرضی سے ہورہا ہے۔

(جاری ہے)

وزیراعظم عمران خان اپنی نااہلی اداروں کے سر تھوپ کر افواجِ پاکستان اور ملکی سالمیت پر مامور اداروں کو بدنام کرنا بند کریں۔ مسلم لیگ ن بے جان کاغذ کے ٹکڑے ووٹ کی عزت کی تو بات کرتے ہیں لیکن اشرف المخلوقات ووٹر کی عزت کا کوئی احساس ہی نہیں۔ کیونکہ بے جان ووٹ خوراک، پینے کا صاف پانی، تعلیم، بیمار پڑنے پر دوا نہیں مانگے گا نا ہی اسے کتے کاٹنے پر ویکسین کی ضرورت پڑے گی لیکن جیتے جاگتے انسان کو عزت ملے تو وہ ان تمام بنیادی سہولیات کا مطالبہ کرئے گا جو یہ کرپٹ حکمران فراہم نہیں کرناچاہتے۔

ملک میں نا ختم ہونے والا درانی ہورہا ہے، پاک سر زمین پارٹی ووٹر کو عزت دلوائے گی، ہم مسلم لیگ کے نعرے کو سختی سے مسترد کرتی ہے۔کرسی گرانے اور بچانے کی جنگ میں کسی کو عوامی مسائل سے سروکار نہیں۔ کراچی والے اپنے حقوق کے حصول اور مستقبل کے لیے 8 نومبر کو باغ جناح پہنچیں۔ عوام باتوں کا ٹورنامنٹ کھیلنے والی حکومت اور اپوزیشن دونوں کو مسترد کر چکی ہے۔

پاکستان کی معاشی شہ رگ کراچی والوں کو لاوارث سمجھ لیا گیا ہے۔ یہ شہر ایک ماہ پہلے بارشوں کی تباہی کی وجہ سے ملکی و بین الاقوامی میڈیا کی خبروں کی زینت بنا ہوا تھا۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ آکر ملک کی اس معاشی شہہ رگ کے نالوں کی صفائی، ٹوٹی سڑکوں کر بات کر کے گئے تھے۔ وزیراعظم عمران خان آئے ایک پرچہ پڑھ کر 1100 ارب روپے کے پیکج کا اعلان کیا اور پھر بھول گئے۔

نہ وفاقی اور نہ صوبائی حکومت نے کوئی کام کیا۔ کیا اب دوبارہ تب بات ہوگی جب خدانخاستہ دوبارہ کوئی آفت آجائے اور لوگ مریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پارٹی صدر انیس قائم خانی و دیگر اراکین سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی و نیشنل کونسل بھی انکے ہمراہ موجود تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ڈی ایم کے جلسے کی میزبانی پیپلز پارٹی نے سر انجام دی جسکی سندھ میں 12 سالوں سے حکومت ہے۔

صرف گزشتہ 6 ماہ میں 1 لاکھ سے زائد لوگوں کو کتوں نے کاٹا ہے، صوبے بھر میں کتے کے کاٹنے کی ویکسین موجود نہیں ہے۔ کراچی کے نوجوانوں پر روزگار کے دروازے پہلے ہی بند تھے، مردم شماری میں لوگوں کو کم گنا گیا۔ اٹھارویں ترمیم میں صوبوں کو ملنے والے اختیارات وزیر اعلیٰ نے سلب کر لیئے، این ایف سی ایوارڈ کے بعد پی ایف سی ایوارڈ کا اجرائ نہیں کیا جاتا، وفاقی حکومت کراچی پورٹ ٹرسٹ اور بن قاسم میں نوکریوں کا اشتہار دیتی ہے لیکن لکھ دیتی ہے کہ کراچی والے زحمت نہ فرمائیں، سندھ حکومت کے تعصب کا سب کو علم ہے سندھ بھر کے بچوں کے لیے اسکالر شپ کا اشتہار دیا جاتا ہے لیکن ساتھ لکھ دیا جاتا ہے کہ کراچی اور حیدرآباد والے زحمت نہ کریں، ہزاروں نوکریوں میں شہر میں بسنے والی تمام اکائیوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

آج یہی پیپلز پارٹی جمہوریت اور عوامی حقوق کی علمبردار بنی ہوئی ہے جس نے سندھ کی عوام سے بنیادی انسانی حقوق بھی چھین لیے۔ کراچی کی عوام جلسے میں شرکت کر کے کراچی کے حقیقی مسائل کے حل کیلئے ہماری آواز میں اپنی آواز شامل کریں۔ موجودہ حکمران اور اپوزیشن صرف اقتدار کے حصول کی جنگ کر رہی ہے جس سے نقصان صرف عوام کا ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاک سر زمین پارٹی پاکستان کی قومی زبان اردو کی تضحیک کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ پی ڈی ایم اپنے ناعاقبت اندیش رہنماؤں کو ملک میں نفرتوں کا کاروبار کرنے سے روکے، پاک سرزمین پارٹی نے طویل جدوجہد کے بعد نفرتوں کا خاتمہ کر کے شہر میں امن و امان بحال کیا ہے جسے سبوتاڑ کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دیں گے۔#