سعودیہ میں غیر قانونی دھندہ کرنے والے پاکستانی گرفتار

پاکستانی اور افغانیوں کا 5 رُکنی گینگ غیر قانونی سکریپ کا کاروبار کرتا تھا

Muhammad Irfan محمد عرفان جمعہ دسمبر 15:58

سعودیہ میں غیر قانونی دھندہ کرنے والے پاکستانی گرفتار
ریاض(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔4دسمبر2020ء) سعودی عرب میں آئے روز پاکستانیوں کی جانب سے ایسی منفی حرکات کی خبریں سامنے آتی ہیں جن کے باعث مملکت میں مقیم 25 لاکھ سے زائد پاکستانیوں کا سر شرم سے جھک جاتا ہے، ان میں چوری، ڈکیتی، آن لائن فراڈ اور دیگر جعل سازیاں شامل ہیں۔ سعودی پولیس کی تازہ ترین کارروائی میں سکریپ کا غیر قانونی کاروبار کرنے والوں کو گرفتار کیا گیا۔

ان 5 ملزمان کا تعلق پاکستان اور افغانستان سے ہے۔ ریاض پولیس کے ترجمان کی جانب ے بتایاگیا ہے کہ ریاض ریجن پولیس نے ایک سڑک پر کچھ گاڑیوں کی تلاشی لی تو ان میں کاپر، سٹیل اور لوہے کا سکریپ برآمد ہوا۔ جو یہ دوسرے شہر لے جا رہے تھے۔ ان افراد سے سکریپ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو یہ کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکے ۔

(جاری ہے)

جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ چوری کا سامان تھا جسے سکریپ میں بدل کر بیچنے کے لیے لے جایا جا رہا تھا۔

مگر پولیس کی کڑی نگرانی کے باعث ان کے غیر قانونی دھندے کا پردہ فاش ہو گیا۔ پولیس نے پانچوں ملزمان کو گرفتار کرنے کے بعد ان کے خلاف مقدمہ درج کر کے پراسیکیوشن کے حوالے کر دیاہے جو ان سے مزید تفتیش کرنے کے بعد انہیں عدالت میں پیش کر کے کارروائی شروع کروائے گا۔ واضح رہے کہ چند روز قبل بھی درختوں کی لکڑی اور کوئلہ غیر قانونی طور پر فروخت کرنے پر 2 پاکستانیوں اور 3 سوڈانیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے جو ریاض کے نواحی علاقے میں ایک گودام بنا کر وہاں جنگلات سے غیر قانونی طور پر کاٹی گئی لکڑی اور کوئلہ فروخت کر رہے تھے۔

ملزمان کی گرفتاری ماحولیاتی تحفظ سے متعلق خصوصی سعودی فورسز کی جانب سے کی گئی ہے۔ سعودی نیوز ایجنسی ایس پی اے کے مطابق مملکت میں درخت کاٹنے پر سخت سزا مقرر کی گئی ہے تاہم ملزمان غیر قانونی طور پر گودام میں درخت کی لکڑی اور کوئلہ فروخت کر رہے تھے۔ جن کے بارے میں مخبری ہونے پر ماحولیاتی تحفظ سے متعلق فورس نے کریک ڈاؤن کیا اور یہ غیر قانونی کاروبار کرنے والے تمام افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ سعودی استغاثہ کی جانب سے چند روز قبل اعلان کیا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص درخت یا پودا کاٹے گا، اسے 10 سال قید کی سزا دی جائے گی ، اس کے علاوہ 3 کروڑ ریال تک کا جرمانہ بھی عائد ہو سکتا ہے۔