کشمیریوں اور پاکستان کا رشتہ فطری ، 22کروڑ پاکستانی قوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے،صدر آزاد کشمیر

آر ایس ایس اور بی جے پی کی فسطائی سوچ نے پورے ہندوستان اور کشمیر میں نفرت اور انتشار کی فضا کو پروان چڑھایا ہے ، نریندر مودی کی حکومت کو انسانیت سوز مظالم اور جرائم کی قیمت چکانا پڑے گی، معاشی اور دفاعی طور پر مضبوط پاکستان ہی ہندوستانی جارحیت اور ہندتوا سوچ کا مقابلہ کر سکتا ہے،سردار مسعود خان

ہفتہ فروری 17:21

کشمیریوں اور پاکستان کا رشتہ فطری ، 22کروڑ پاکستانی قوم کشمیریوں کے ..
اسلا م آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 06 فروری2021ء) صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ کشمیریوں اور پاکستان کا رشتہ فطری ہے ۔ 22کروڑ پاکستانی قوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے ۔ 19جولائی 1947کو کشمیریوں نے سرینگر میں الحاق پاکستان کے حق میں اپنا فیصلہ سنا دیا تھا ۔ غیر مسلح اور نہتے کشمیری ہندوستان کی 9لاکھ افواج کے سامنے سینہ سپر ہو کر بہادری اور جوانمردی سے مقابلہ کر رہے ہیں ۔

آر ایس ایس اور بی جے پی کی فسطائی سوچ نے پورے ہندوستان اور کشمیر میں نفرت اور انتشار کی فضا کو پروان چڑھایا ہے ۔ نریندر مودی کی حکومت کو انسانیت سوز مظالم اور جرائم کی قیمت چکانا پڑے گی ۔ معاشی اور دفاعی طور پر مضبوط پاکستان ہی ہندوستانی جارحیت اور ہندتوا سوچ کا مقابلہ کر سکتا ہے ۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پانچ فروری یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

اس سیمینار سے وفاقی وزیر اعظم سواتی ، سینٹر جنرل (ر) عبد القیوم ، ائیر چیف مارشل (ر) امان سہیل ، چوہدری محمد یاسین اپوزیشن لیڈر آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی ، اسلام آباد چیمبر کے صدر یاسر الیاس ، سابق صدر اسلام آباد کونسل حلیم عباسی ، ظفر بختاوری ، اخبار فراش یونین آف پاکستان کے سیکرٹری جنرل ٹیکا خان ، اسلا م آباد چیمبر آف کامرس کے وائس پریزڈنٹ احن ظفر بختاوری نے بھی خطاب کیا ۔

سردار مسعودخان نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ ہر سال 05فروری پوری پاکستانی قوم اور آزادکشمیر کے لوگ اپنے مقبوضہ جموں وکشمیر کے لوگوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں ۔ اس یکجہتی کی کال سب سے پہلے جماعت اسلامی کے امیر (مرحوم) قاضی حسین احمد نے دی تھی اور پھر اُس وقت کی حکومت نے اُس پر لبیک کہتے ہوئے اسے سرکاری سطح پر بنایا اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے جو خوش آئند ہے ۔

صدر آزادکشمیر نے کہا کہ ہمیں مایوس ہونے کی ہر گز ضرورت نہیں ہے ۔ آج پوری دنیا میں کشمیرکے مسئلے کی باز گشت سنائی دے رہی ہے ۔ یورپین پارلیمنٹ کے 634ارکان نے کشمیریوں کے حق میں قرار دار منظور کی ہے ۔ برطانیہ کی پارلیمنٹ میں مسئلہ کشمیر زیر بحث آ رہا ہے ۔ امریکہ کی نو منتخب وائس پریذڈنٹ نے کشمیر میں انسانی حقو ق کی بات کی ہے ، واشنگٹن ، برسلز ، لندن، مشرق وسطی ، ہر طرف کشمیر کا ذکر ہو رہا ہے ۔

حال ہی میں اسلامی ممالک کی تنظیم OICنے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے جاندارقردار پاس کی ہے ۔ سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ آج ہمیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم پوری دنیا میں بالعموم اور اسلامی ممالک میں بالخصوص ہندوستان کی موجودہ حکومت کیخلاف تجارتی بائیکاٹ مہم کا آغاز کریں ۔ آج ہمیں دنیا کو اس بات پر قائل کرنا ہو گا کہ ہندوستان کی موجودہ فاشسٹ حکومت ہندوستان کی اقلیتوں پر اور مقبوضہ کشمیر کے نہتے لوگوں پر انسانیت سوز مظالم کی مرتکب ہو رہی ہے اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں کر رہی ہے۔

صدر مسعود خان نے کہا کہ جب کوئی آپ کیے ملک پر حملہ آور ہو جائے ، آپ کے گھر بار ، کھیت کھلیان تباہ کرنا شروع کر دے تو پھر اسکے خلاف اُٹھ کھڑے ہونا ایک فطری عمل ہے۔ نوجوان نسل ہندوستان کی جارحیت کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں ۔ ان کے سامنے ظہیر الدین بابر کی مثال موجود ہے ۔ صدر نے نوجوانوں پر زور دیا کہ آپ جدید ذرائع ابلاغ کو بروئے کار لاتے ہوئے ہندوستان کو پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کریں ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 22کروڑ عوام میں سے 15کروڑ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے ۔ صدر نے کہا کہ پاکستان حضرت قائد اعظم کی قیادت میں مشت ایزدی سے وجود میں آیا اور آپ اس ملک کے کٹدڈین ہیں ۔صدر نے آخر میں چیمبر آف کامرس اسلام آباد کے صدر یاسر الیاس ، اُن کی پوری ٹیم اور ظفر بختاوری کوعظیم الشان سیمنار منعقد کروانے پر خواج تحسین پیش کیا اور کہا کہ اس سیمنار کے توسط سے آج ایک توانا اور جاندار یکجہتی کا پیغام کشمیر کے اُس پار گیا ہے ۔