پاکستان: کیا عمران خان اعتماد کا ووٹ حاصل کر پائیں گے؟

DW ڈی ڈبلیو ہفتہ مارچ 12:40

پاکستان: کیا عمران خان اعتماد کا ووٹ حاصل کر پائیں گے؟

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 06 مارچ 2021ء) پاکستانی وزیر اعظم اعظم عمران خان کو پارلیمان میں اکثریت حاصل ہے یا نہیں اس بات کے فیصلے کے لیے دارالحکومت اسلام آباد میں قومی اسبملی کے ایوان زیریں کا اجلاس شروع ہو گیا ہے۔ اس اجلاس کا آغاز مقامی وقت کے مطابق سوا بارہ بجے ہوا جس میں اعمتاد حاصل کرنے کے حوالے سے سے ایک قرار داد پیش کی گئی۔

پاکستانی آئین کی دفعہ 91 کی ایک ذیلی شق کے تحت اگر صدر مملکت کو یہ لگے کہ وزیر اعظم کو ایوان کا اعتماد حاصل نہیں ہے تو وہ وزیر اعظم سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کی ہدایت کر سکتا ہے اور اسی کے تحت صدر ڈاکٹر عارف علوی نے ایوان زیریں کا یہ اجلاس طلب کیا ہے۔

جمعے کے روز عمران خان نے پارلیمانی جماعتوں کے ساتھ ایک اہم میٹنگ بھی کی جس میں حکمراں اتحاد میں شامل تمام ارکان پارلیمان سے وزیر اعظم کی حمایت کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ اگر کسی رکن نے ایسا نہیں کیا تو وہ رکنیت سے محروم بھی ہوسکتا ہے۔

(جاری ہے)

اطلاعات کے مطابق اس میٹنگ میں حکمراں جماعت تحریک انصاف کی قیادت والے اتحاد سے تعلق رکھنے والے بیشتر ارکان پارلیمان نے شرکت کی اور اعمتاد کے ووٹ میں عمران خان کی حمایت کی یقین دہانی بھی کروائی۔

دوسری جانب حزب اختلاف کا متحدہ محاذ پی ڈی ایم اس اجلاس کا بائیکاٹ کر رہا ہے۔ جمعے کی شام کو پی ڈی ایم کے رہنماؤں نے ایک میٹنگ کے بعد اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا تھا۔

اس میٹنگ کے بعد مولانا فضل الرحمان نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ چونکہ اس اجلاس میں پی ڈی ایم میں شامل کسی بھی جماعت کا کوئی رکن شرکت نہیں کرے گا اس لیے اس اجلاس کی کوئی سیاسی حیثیت باقی نہیں رہ جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کیا عمران خان انہیں ارکان پارلیمان کی بدولت اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں جو بقول ان کے، "سینیٹ کے انتخابات میں بک گئے تھے۔

"

حزب اختلاف کی غیر موجودگی میں بھی وزیر اعظم عمران خان کو کم از کم 171 ارکان کی حمایت درکار ہوگی۔

اعتماد کے ووٹ کی ضرورت کیوں پڑی

گزشتہ دنوں سینیٹ کے انتخابات میں اکثریت ہونے کے باوجود حکمراں جماعت کے امیدوار عبد الحفیظ شیخ کو شکست ہو گئی تھی جبکہ ان کے مقابلے میں اپوزیشن کے متحدہ امیدوار سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی پانچ ووٹ سے کامیاب ہوگئے تھے۔

اسی شکست کی بنا پر یہ سوال پیدا ہوآ کہ شاید عمران خان کی مخلوط حکومت کو ارکان کی مطلوبہ اکثریت کی حمایت حاصل نہیں ہے اور اسی لیے انہیں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا پڑ رہا ہے۔

سینیٹ انتخابات میں حکمراں جماعت کے شکست کے بعد ہی اپوزیشن نے عمران خان سے مستعفی ہونے اور نئے انتخابات کروانے کا مطالبہ شروع کر دیا۔ اس کے رد عمل میں عمران خان نے کہا کہ وہ ایوان میں اعمتاد کا ووٹ حاصل کر کے یہ ثابت کر دیں گے کہ انہیں اب بھی ارکان کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔

عمران خان نے سینیٹ میں اپنے امیدوار کی شکست کے بعد قوم سے اپنے خطاب میں بھی اعتماد کے ووٹ پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ چاہیں گے کہ ارکان پارلیمان اپنی ضمیر کی آواز پر ووٹ کریں اور اگر اعتماد کے ووٹ میں ان کی شکست ہوتی ہے تو وہ اپوزیشن میں جانے کے لیے تیار ہیں۔

پاکستان کی قومی اسبملی کا ایوان زیریں 342 ارکان پر مشتمل ہے۔ اطلاعات کے مطابق عمران خان کی مخلوط حکومت کو ایوان میں فی الوقت 181 ارکان کی حمایت حاصل ہے جبکہ اپوزیشن ارکان کی تعداد 160 کے قریب ہے۔ تاہم حتمی فیصلہ ووٹنگ کے بعد ہوگا۔

ص ز/ ع ب