مجھے ن لیگ کے راہنماؤں سمیت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو گرفتار کرنے کے لیے وزیراعظم کے مشیر شہزاد اکبر نے دباؤ ڈالا

عمران خان نے مجھ سے کہا کہ فی الحال گرفتار کر لوبعد میں ثبوت اکٹھے کر لیں گے،سابق ڈی جی ایف آئی اے نے نیا پینڈورا باکس کھول دیا

Sajjad Qadir سجاد قادر بدھ اپریل 04:12

مجھے ن لیگ کے راہنماؤں سمیت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو گرفتار کرنے کے لیے ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ، اخبار تازہ ترین، 28 اپریل 2021) وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے سابق ڈائریکٹر جنرل بشیر میمن نے انکشاف کیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف انکوائری کیلئے شہزاد اکبر نے انہیں کہا اور فروغ نسیم نے ان کی حمایت کی۔ نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بشیر میمن کا کہنا تھاکہ وزیر اعظم عمران خان نے مجھے کہاکہ ہمت کریں، آپ کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے بہت سمجھانے کی کوشش کی کہ ایف آئی اے کے ضابطہ کار میں ایسے نہیں کیا جاسکتا، یہ کام سپریم جوڈیشل کونسل کا ہے۔بشیر میمن نے کہا کہ پولیس قانون نافذ کرنے والا ادارہ ہے، غیر قانونی کام کیسے کرسکتا ہے؟ وہ بھی ایک جج کے خلاف؟ سابق ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ مجھ پر مریم نواز کو گرفتار کرنے کیلئے بھی دباؤ ڈالا گیا اور کہا گیا کہ مریم نے پریس کانفرنس کر کے ایک جج کو دہشت زدہ کیا اور جب جج دہشت زدہ ہوگئے تو دہشت گردی کا پرچہ تو بنتا ہے جس پر میں نے جواب دیا کہ یہ دہشت گردی کا کیس نہیں ہے۔

(جاری ہے)

بشیر میمن نے مزید انکشاف کیا کہ اسی طرح خاتونِ اول کی تصویر جاری کرنے پر دہشت گردی کا کیس بنوانے کیلئے بھی دباؤ ڈالا گیا۔بشیر میمن نے انکشاف کیا ہے کہ مجھ پر نوازشریف، شہبازشریف، مریم نواز، حمزہ شہباز، شاہد خاقان، رانا ثنا، مریم اورنگزیب، خواجہ آصف، خورشید شاہ، مصطفیٰ نوازکھوکھر، اسفند یار ولی اور امیر مقام کو گرفتار کرنے کیلئے دباؤ ڈالا جاتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ جب اعتراض اٹھایا کہ گرفتاری کیلئے ثبوت ہونے چاہئیں تو کہا گیا کہ فی الحال پکڑ لو بعد میں دیکھیں گے، ریمانڈ لیں گے، پھر عدالت میں اس کو ثابت کریں گے۔بشیر میمن نے کہا کہ خود وزیر اعظم نے انھیں کہا کہ سعودی شہزادہ محمد بن سلمان تو جو کہتا ہے وہ ہوجاتا ہے، آپ اعتراضات کرتے ہیں جس پر انھیں جواب دیا تھا کہ سعودی عرب میں بادشاہت ہے، پاکستان میں جمہوریت ہے، صرف گرفتار کرنا نہیں جرم بھی ثابت کرنا ہوتا ہے۔