عمران خان نے کشمیر فروشی کے ہمارے دعوؤں پر مہر ثبت کردی، مولانا فضل الرحمان

آزاد کشمیر کی حیثیت ختم کرنے کیلئے ریفرنڈم اقوام متحدہ کی تاریخی قراردادوں سے کھلا انحراف ہے، ریفرنڈم اس 7نکاتی ایجنڈے کا حصہ ہے جس کی ابتدا سابق فوجی ڈکٹیٹر جنرل مشرف نے کی تھی۔ سربراہ جےیوآئی ف پی ڈی ایم کا ردعمل

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ 23 جولائی 2021 21:20

عمران خان نے کشمیر فروشی کے ہمارے دعوؤں پر مہر ثبت کردی، مولانا فضل ..
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔23 جولائی2021ء) جمعیت علمائے اسلام پاکستان و پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ عمران خان نے کشمیر فروشی کے ہمارے دعوؤں پر مہر ثبت کر دی، آزاد کشمیر کی حیثیت ختم کرنے کیلئے ریفرنڈم اقوام متحدہ کی تاریخی قراردادوں سے کھلا انحراف ہے، ریفرنڈم اس 7نکاتی ایجنڈے کا حصہ ہے جس کی ابتدا سابق فوجی ڈکٹیٹر جنرل مشرف نے کی تھی۔

انہوں نے وزیراعظم عمران خان کی تقریر کے ردعمل میں کہا کہ کشمیر فروش سلیکٹیڈ حکمرانوں نے کشمیر سے متعلق بیان دیکر ہمارے موقف کی تائید کرتے یوئے کشمیر فروشی کا اعتراف کرلیا ہے پارٹی عہدیداروں اور ارکان اسمبلی سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کی جداگانہ حیثیت ختم کرنے کیلئے ریفرنڈم کرانے کی بات اقوام متحدہ کی تاریخی قرار دادوں و مؤقف سے کھلا انحراف اور اسی سات نکاتی ایجنڈے کا حصہ ہے جس کی شروعات سابق فوجی ڈکٹیٹر جنرل مشرف نے اپنے دور میں کی تھی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا گلگت بلستان اور 85 ہزار مربع کلومیٹر کے علاقے و آبادی کو چھوڑ کر صرف آزاد کشمیر میں ریفرینڈم کرانا جدوجہد و آزادی کشمیر کے ساتھ غداری ہے ہم مسئلہ کشمیر کا حل صرف اور صرف اقوام متحدہ کے حق استصواب رائے سے چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مودی مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرکے 350/35A لگائے تو وہ کشمیریوں کا قاتل کہلاتا ہے اور اگر عمران خان آزاد کشمیر کے حوالے سے پاکستان اور اقوام متحدہ کی قراردادوں اور مؤقف سے بغاوت کرتے ہوئے اسکو علیحدہ صوبہ بنانے اور اسکی جداگانہ حیثیت ختم کرکے اسے پاکستان میں شامل کرنے کیلئے ریفرنڈم کرانے کا اعلان کرے تو وہ کشمیر فروش نہیں تو اور کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ثابت ہوگیا ہے کہ عمران خان پراجیکٹ کے ڈائریکٹرز عمران خان کو پاکستان میں اسکی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں میں تبدیلی لانے کیلئے لائے ہیں لیکن ہم کسی بھی صورت عمرانی ایجنڈے کی تکمیل نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں 25 جولائی کے عام انتخابات میں اگر 25 جولائ 2018 کی تاریخ دہرائی گئی تو اسکے بھیانک نتائج نکلیں گے۔