تحریک انصاف کو پارٹی میں موجود چند اہم شخصیات نے بہت نقصان پہنچایا

کسی کی ذاتی خواہشات پر ملک یا ادارے نہیں چلتے، موجودہ صورتحال میں تناؤ کو کم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، پارلیمنٹ کی موجودگی میں زیادہ آرڈیننس نہیں آنے چاہئیں۔ سینئرسیاستدان ندیم افضل چن

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ بدھ 13 اکتوبر 2021 23:13

تحریک انصاف کو پارٹی میں موجود چند اہم شخصیات نے بہت نقصان پہنچایا
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔13 اکتوبر2021ء) سینئرسیاستدان ندیم افضل چن نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کو پارٹی میں موجود چند اہم شخصیات نے بہت نقصان پہنچایا، پارلیمنٹ کی موجودگی میں زیادہ آرڈیننس نہیں آنے چاہئیں، موجودہ صورتحال میں تناؤ کو کم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، کسی کی ذاتی خواہشات پر ملک یا ادارے نہیں چلتے۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں سیاسی قیادت کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے، اداروں کو لڑانے کی روایت اب ختم ہونی چاہیے، اداروں کو لڑانا سیاستدانوں کو شیوہ نہیں دیتا۔

موجودہ صورتحال پر تناؤ برداشت نہیں کیا جاسکتا، حکومت کی ذمہ داری ہے تناؤ کو کم کرے، تناؤ جمہوریت کیلئے نقصان دہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ  ملک میں جمہوری نظام ہے اورپارلیمنٹ کام رہی ہے،پارلیمنٹ کی موجودگی میں زیادہ آرڈیننس نہیں آنے چاہئیں۔

(جاری ہے)

موجودہ صورتحال پر مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ خان کا کہنا ہے کہ مریم نواز نے جنترمنتر جادوٹونے والی بات پوری ذمہ داری سے کی ہے، ماضی میں ایک صاحب نے استخارہ کرکے ذوالفقار بھٹو کو پھانسی پر چڑھا دیا، جنترمنتر سے فیصلہ کرنا وزیراعظم کا ذاتی معاملہ نہیں، وزیراعظم کے فیصلوں کے پیچھے بھی ایک ماضی ہے کہ کس طرح یہ درباروں پر گئے اور جگہ جگہ جاکرماتھا ٹیکتے رہے، جنترمنتر والا ان کا ذاتی مسئلہ کیسا ہوگیا؟ اگر امریکی صدر کے بارے میں کہا جائے تو وہ نشہ کرتا ہے تو کیا ان کا ذاتی مسئلہ ہوگا؟ اگر یہ بات سامنے آئے کہ برطانوی وزیراعظم کے فیصلوں کے پیچھے کوئی میرٹ نہیں ہوتا تو لوگ اس پر بات کرتے ہیں۔

ملک نے اس چیز کا بڑا نقصان اٹھایا ہے، خان صاحب کی جنتر منتر کی بات اب چلی ہے اس سے پہلے ایک صاحب تھے وہ استخارہ کرتے تھے اور استخارہ کرکے ذوالفقار بھٹو کو پھانسی پر چڑھا دیا۔دنیا کے کسی ملک میں اس قسم کے معاملات نہیں ہیں۔ اگر لوگ پریشانی کا اظہار کررہے ہیں کہ وزیراعظم ہاؤس میں ایک ایسا بندہ ہے جس کے فیصلوں میں کوئی منطق اور میرٹ نہیں ہے، پتا نہیں وہ کب کونسا فیصلہ کردے جس کا ملک کو بہت نقصان اٹھانا پڑے۔

ملک کے وزیراعظم کے فیصلوں کے پیچھے منطق اور میرٹ ہونی چاہیے، وزیراعظم کو تمام اختیارات حاصل ہیں لیکن تمام فیصلے آئینی حدود میں کرنا ہوتے ہیں،یہ نالائقی اور نااہلی خود کرتے ہیں اور پھر کہتے دیکھیں اپوزیشن بات کررہی ہے۔اس موقع پر وزیرمملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب نے کہا کہ وہ کون سی طوطا فال تھی جس کے ذریعے مریم نواز قطری خط لے کر آئیں؟لسی کا جادوئی گلاس جو پکڑا ہے آپ سمجھتی ہیں اس کا طلسم چل پڑے گا ایسا نہیں ہوگا۔