جب تک مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل نہیں ہوتا اس وقت خطے میں دیرپا امن ممکن نہیں، وزیر خارجہ

بھارت پاکستان کو نیچا دکھانے کیلئے ہر موقع کو استعمال میں لانے کی کوشش کرتا ہے، سیاسی اختلافات کے باوجود مسئلہ کشمیر پر پوری پارلیمنٹ یک آواز ہے، شاہ محمود قریشی

پیر 29 نومبر 2021 16:39

جب تک مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل نہیں ہوتا اس وقت خطے میں دیرپا امن ممکن ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 29 نومبر2021ء) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ جب تک مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل نہیں ہوتا اس وقت خطے میں دیرپا امن ممکن نہیں، بھارت پاکستان کو نیچا دکھانے کیلئے ہر موقع کو استعمال میں لانے کی کوشش کرتا ہے، سیاسی اختلافات کے باوجود مسئلہ کشمیر پر پوری پارلیمنٹ یک آواز ہے ، تمام ادارے ایک صفحہ پر ہیں،دو ایٹمی قوتوں کا جنگ کی طرف جانا خود کشی کے مترادف ہے، تمام پیچیدہ سے پیچیدہ مسائل، صرف گفتگو کے ذریعے حل ہو سکتے ہیں۔

پیر کو پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا جس میں پاکستانی نژاد امریکی ڈیموکریٹک رہنما طاہر جاوید نے بھی شرکت کی ۔چیئرمین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو بین الاقوامی فورمز پر اجاگر کرنے پر پاکستانی ڈایا سپورا کے کردار کو سراہا ۔

(جاری ہے)

طاہر جاوید نے کہاکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی کمیونٹی امریکہ میں بہت متحرک ہے۔

انہوںنے کہاکہ ہمارے لیے خوشی کی بات ہے کہ وزیراعظم عمران خان صاحب بذریعہ واٹس ایپ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ساتھ رابطہ استوار کیے ہوئے ہیں۔ شہر یار آفریدی نے کہاکہ میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اور ان کی ٹیم نے امریکہ سمیت مختلف ممالک میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے حوالے سے اہم شخصیات سے ملاقاتوں میں میری معاونت کی۔

انہوںنے کہاکہ میں وزیر خارجہ کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے نیویارک میں او آئی سی کنٹک گروپ برائے کشمیر کے اجلاس میں مجھے شرکت کا موقع فراہم کیا۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اجلاس میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کے حوالے سے بریفنگ دی ۔ انہوںنے کہاکہ میں چیئرمین و ممبران کشمیر کمیٹی کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے مجھے اظہار خیال کا موقع دیا۔

انہوںنے کہاکہ 27 اکتوبر 1947 سے مسئلہ کشمیر سلگ رہا ہے، سب حکومتوں نے مسئلہ کشمیر کو زندہ رکھنے میں اپنے تئیں ہر ممکن کوشش کی ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہندوستان، پاکستان کو نیچا دکھانے کیلئے ہر موقع کو استعمال میں لانے کی کوشش کرتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ جب تک مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل نہیں ہوتا اس وقت خطے میں دیرپا امن ممکن نہیں۔ انہوںنے کہامکہ خوش آئند بات یہ ہے کہ سیاسی اختلافات کے باوجود مسئلہ کشمیر پر پوری پارلیمنٹ یک آواز ہے اور تمام ادارے ایک صفحہ پر ہیں۔

انہوںنے کہاکہ 5 اگست 2019 کے یکطرفہ بھارتی اقدام کے بعد اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی فورمز پر مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا گیا۔ انہوںنے کہاکہ ہندوستان، یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا تھا کہ یہ ان کا اندرونی معاملہ ہے، سلامتی کونسل میں ان کے دعوے کی عملاً نفی ہوئی۔ انہوںنے کہاکہ او آئی سی اقوام متحدہ کے بعد دوسرا بڑا فورم ہے، مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو ہم نے ہیومن رائٹس کونسل میں اٹھایا۔

انہوںنے کہاکہ مجھے ہاؤس آف کامنز میں ایک پارلیمانی وفد لے جانے کا موقع ملا جس میں پارلیمان میں موجود تمام جماعتوں کی نمائندگی موجود تھی۔ انہوںنے کہاکہ دو ایٹمی قوتوں کا جنگ کی طرف جانا خود کشی کے مترادف ہے۔مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہاکہ تمام پیچیدہ سے پیچیدہ مسائل، صرف گفتگو کے ذریعے حل ہو سکتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہمارا واضح موقف ہے کہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں اور کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل کیا جائے۔

انہوںنے کہاکہ بھارت کے 5 اگست 2019 کے اقدامات بین الاقوامی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنے کے درپے ہے۔مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہاکہ بھارت کی ہندتوا سوچ، مقبوضہ جموں و کشمیر کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنا چاہتی ہے۔ انہوںنے کہاکہ بھارت نے جھوٹ پر مبنی تاثر دینے کے کوشش کی کہ 5 اگست 2019 کے اقدامات کشمیریوں کی بہتری کیلئے کیے۔

شاہ محمود قریشی نے کہاکہ ان اقدامات سے کشمیریوں کی معیشت تباہی سے دو چار ہوئی، ان اقدامات کے بعد، کشمیریوں کے اندر بھارت سرکار کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوا۔ انہوںنے کہاکہ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوئترس، اور سابق صدر سلامتی کونسل والکن بوذکر جب پاکستان کے دورے پر آئے تو ان کے بیانات نے بھارت کے موقف کی نفی کی۔مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہاکہ ہندوستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں حالات کے معمول پر ہونے کا جھوٹا تاثر دینے کی کوشش کی، ہماری سفارتی کاوشوں سے ہندوستان کا یہ ناٹک بھی بے نقاب ہوا۔

انہوں نے کہاکہ ہندوستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی جدوجہد کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی، پاکستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو بین الاقوامی سطح پر لانے کیلئے ایک ’’ڈوزیر‘‘جاری کیا،اس ڈوزیر میں بھارتی قابض افواج کے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔

انہوںنے کہاکہ نیویارک میں جنرل اسمبلی کے چھہترویں اجلاس کے موقع پر میں نے مختلف وزرائے خارجہ کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں انہیں ڈوزیر کی کاپی پیش کی تاکہ وہ حقائق کا جائزہ خود کر سکیں۔ انہوںنے کہاکہ ہندوستان کے اندر ایک بہت بڑا طبقہ حکومت کی کشمیر پالیسی پر آواز بلند کر رہا ہے، ہندوستان کیاندر سے اٹھنے والی آوازیں ہمارے بیانیے کو تقویت دیتی ہیں۔

انہوںنے کہاکہ ہیومن رائٹس کمیشن کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے حوالے سے دو رپورٹس کا شائع ہونا ہمارے موقف کی تائید ہے،اس سال 27 اکتوبر کو ہم نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے حوالے سے بلیک ڈے پر بھرپور انداز میں آواز بلند کی۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ میں 5 اگست 2019 سے اب تک سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ اور صدر سلامتی کونسل کو 25 کے قریب خطوط لکھ چکا ہوں تاکہ انہیں حقائق سے آگاہ رکھا جائے، ہندوستان، کی جانب سے کشمیریوں کی حق خودارادیت کی جدوجہد کو دہشت گردی سے تعبیر کرنے کی سازش بھی ناکامی سے دوچار ہوئی۔

مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہاکہ ہماری خواہش ہے کہ مارچ 2022 میں اسلام آباد میں متوقع او آئی سی کی وزرائے خارجہ کونسل کے اگلے اجلاس میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے حوالے سے رپورٹ او آئی سی کی رپورٹ کو پیش کیا جا سکے۔ انہوںنے کہاکہ ہماری کوشش ہے کہ مسئلہ کشمیر کو دنیا کہ ہر فورم پر پوری شدومد کے ساتھ اجاگر کیا جائے۔وزیر خارجہ نے پارلیمان کی سطح پر مسئلہ کشمیر کو اہم بین الاقوامی فورمز پر اجاگر کرنے کیلئے مختلف تجاویز دیں ۔

انہوںنے کہاکہ 74 سالوں کے بھارتی جبرو استبداد کے باوجود، کشمیریوں کے حوصلے پست نہیں ہوئے، ہندوستان کو کشمیریوں کے ساتھ دل و دماغ کی جنگ میں شکست ہوئی۔ انہوںنے کہاکہ بزرگ کشمیری رہنما سید علی گیلانی کے جسد خاکی کے ساتھ جو ہتک آمیز رویہ بھارت سرکار نے اپنایا وہ انتہائی شرمناک ہے۔ انہوںنے کہاکہ اللہ کا شکر ہے کہ قومی مفادات کے امور پر قومی اتفاق رائے موجود ہے، آج مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ہندوستان کے ساتھ کوئی بیک چینل رابطہ موجود نہیں۔

انہوںنے کہاکہ ہمارا موقف واضح ہے کہ صورتحال کو ابتر ہندوستان نے کیا ہے لہذا اسے بہتر بنانے کی ذمہ داری بھی ہندوستان پر عائد ہوتی ہے، ہندوستان کی جانب سے لاین آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزیوں کا سب سے زیادہ نقصان نہتے کشمیریوں کو اٹھانا پڑا ۔ انہوںنے کہاکہ ہمارا موقف واضح ہے ہم کشمیریوں کو ان کے جائز حق، حق خودارادیت کے حصول تک کشمیریوں کی معاونت جاری رکھیں گے۔