Live Updates

لاپتہ صحافی و بلاگر مدثر نارو کے گمشدگی کے خلاف کیس کی سماعت

عدالت کا وفاقی حکومت کو جبری گمشدگیوں پر موثر اقدامات کرنے کا حکم تمام کوششوں کے باوجود کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکل سکا،اکثر لوگوں نے جہاد میں شرکت کے لیے ملک کو چھوڑا جو جبری گمشدگی میں نہیں آتے، کچھ لوگ حراستی مراکز میں ہیں،پاکستان کو دہشت گرد ی کا سامنا رہا ہے،اٹارنی جنرل عدالت نے اٹارنی جنرل کی استدعا منظور کرتے ہوئے کیسز کی موثر تفتیش کے لیے تین ہفتوں کی مہلت دیدی، سماعت 14 فروری تک ملتوی

منگل 18 جنوری 2022 22:56

لاپتہ صحافی و بلاگر مدثر نارو کے گمشدگی کے خلاف کیس کی سماعت
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 18 جنوری2022ء) اسلام آباد ہائی کورٹ چیف جسٹس اطہر من اللہ کی عدالت نے لاپتہ صحافی و بلاگر مدثر نارو کے گمشدگی کے خلاف کیس کی سماعت کی۔

(جاری ہے)

اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے عدالت کو بتایا کہ تمام کوششوں کے باوجود کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکل سکا، عدالت نے وفاقی حکومت کو جبری گمشدگیوں پر موثر اقدامات کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل تین ہفتوں میں مطمئن کریں کیا اقدامات کئے گئے عدالت نے جبری گمشدگیوں کے کیسز کی فہرست اٹارنی جنرل کو دینے کا حکم بھی دیا اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ مدثر نارو کی فیملی کی وزیراعظم سے ملاقات بھی کرائی گئی ہے گزشتہ ایک دہائی کے دوران کافی تعداد میں لوگ غائب ہوئے جبری گمشدگی میں نہیں آتے اکثر لوگوں نے جہاد میں شرکت کے لیے ملک کو چھوڑا،پاکستان کو دہشت گردی کا سامنا رہا کچھ لوگ کے پی کے حراستی مراکز میں ہیں عدالت نے کہا کہ وفاقی حکومت کی ایک پالیسی کے تحت لوگوں کو اٹھایا گیااس پر کیا کہیں گی جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ایسی کوئی پالیسی نہیں بنائی جس پر عدالت نے کہا کہ جبری گمشدگیوں میں جو لوگ بھی ملوث ہیں یہ وفاقی حکومت کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتاوفاقی حکومت نے پھر کوئی کارروائی کیوں نہیں کی یہاں اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایسا بھی ہوا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سپاہیوں کے سر چوراہوں پر لٹکائے جاتے تھے کسی بھی حکومت کی یہ پالیسی نہیں تھی کہ لوگوں کو زبردستی اٹھایا جائے عدالت نے استفسار کیا کہ پھر بھی لوگ حراستی مراکز میں رکھے گئے اس پر کیا کہیں گی جس پر اٹارنی جنرل نے کہا حراستی مراکز سے متعلق ایک قانون بنا تھا اور وہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت رہا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اب حکومت کیا کر رہی ہی آئین اور قانون تو موجود ہے ،اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ایک نیا قانون لایا جا رہا ہے اس موقع پر مسنگ پرسن کے والد نے عدالت کو بتایا کہ میرے دونوں بیٹے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس تھے جنہیں 2016 میں اٹھایا گیاایک ایل ایل بی اور دوسرا ماس کمیونی کیشن ڈیپارٹمنٹ میں پڑھ رہا تھا ،واقعہ کی ایف آئی آر جبری گمشدگیوں کے کمیشن کی ہدایات پر درج ہوئی، جے آئی ٹی رپورٹ کی روشنی میں کمیشن نے اپنی فائنڈنگ میں کہا کہ یہ جبری گمشدگیوں کا کیس ہے میں نے ایک درخواست دی کہ ذمہ داری عائد کی جائے کہ یہ کس کا کام ہی اس موقع پر عدالت نے کہا کہ جبری گمشدگیوں کے کمیشن کا صرف یہی کام رہ گیا ہے کہ وہ ایف آئی آر درج کرائے دن دیہاڑے لوگوں کی موجودگی میں وفاقی دارالحکومت سے ان کے دو بچوں کو اٹھا لیا گیاجس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ،اس موقع پر عدالت نے کہا کہ ریاست نہیں کہہ سکتی کہ اس کے پاس کوئی جواب نہیں تفتیش میں کیا ہوا سینکڑوں افراد جبری گمشدگیوں کے خلاف سڑکوں پر ہیں ایس ای سی پی کے ملازم کو بھی اٹھایا گیا تھا ایک صحافی کو اٹھایا گیا جس کی سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی دستیاب ہیں کیا ہوا کچھ بھی نہیں ایک بیچارے نے کہا تھا کہ وہ شمالی علاقہ جات گیا تھا اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بتا سکتے ہیں اس موقع پر وکیل صفائی کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے مسنگ پرسن کیس میں ملوث ایک انٹیلی جنس افسر کی تصویر دکھائی تو لاپتہ شہری واپس آ گیاشہری نے واپس آ کر بیان ریکارڈ کرایا کہ وہ افغانستان چلا گیا تھا عدالت نے کہا کہ مسنگ پرسنز کی فیملیز یہاں پھر رہی ہیں، کون یہ کر رہا ہی حکومت اور وفاقی کابینہ جواب دہ ہے وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ لاپتہ افراد کے 8279 کیسز ہیں اس موقع پر عدالت نے کہا کہ عدالت کس کو ذمہ دار ٹھہرائی اس موقع پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ آئی جی اسلام آباد سے اس متعلق رپورٹ منگوا لیں عدالت کا کہنا تھا کہ آئین کے مطابق آرمڈ فورسز بھی وفاقی حکومت کی منظوری کے بغیر کچھ نہیں کر سکتیں کسی کو یہاں سمن کرنا مسئلے کا حل نہیں آپ اس کورٹ کو حل بتائیں ایسے واقعات سے نان سٹیٹ ایکٹرز کی بھی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور وہ بھی ایکٹو ہو جاتے ہیں اگر وفاقی دارالحکومت کا یہ حال ہے تو باقی جگہوں کی کیا صورتحال ہو گی یہاں سپریم کورٹ ہے، ہائی کورٹ ہے، وزیراعظم سیکرٹریٹ اور انٹیلی جنس ایجنسی کے دفاتر ہیں ایک ٹیسٹ کیس ہے کہ اس عدالت کی حدود سے ایک شخص کو اٹھایا گیا اور اس کی تحقیقات میں کچھ نہ ہوایہ ایسی بات ہے کہ ریاست کو ہل جانا چاہئے عدالت رپورٹ نہیں ایکشن چاہتی ہییہ کورٹ کسی کو سمن کر کے کیا کہے گی وہ کہے گا مجھے نہیں پتہ آپ کی بات ٹھیک ہے کہ لوگ جینوئن بھی غائب ہو سکتے ہیں ایسے واقعات کی وجہ سے لوگ ریاست پر شک کرتے ہیں پوری دنیا میں ایسے واقعات ہو جاتے ہیں لیکن وہاں لوگوں کا ریاست پر اعتماد ہوتا ہیکمیشن نے جے آئی ٹی بنائی اور رپورٹ دے کر کہا کہ ان کی جان تو چھوٹ گئی وہ بچہ یقینا ناردرن ایریا تو نہیں گیا تھا کم از کم معاملہ انوسٹی گیٹ ہو جاتا تو لوگوں کو اعتماد ہوتا اس موقع پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ نواز شریف، یوسف رضا گیلانی اور عمران خان سمیت کسی کی یہ پالیسی نہیں تھی کہ لوگوں کو غائب کیا جائے اگر ایک دفعہ کسی کو سزا ہو جائے تو یہ اچھا میسج جائے گاجس کیس میں سی سی ٹی وی فوٹیج دستیاب ہے اس کیس سے شروع کر لیتے ہیں اس موقع پر عدالت نے کہا کہ آپ بتائیں کہ اس معاملے میں کیسے آگے بڑھا جائی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اگر کسی کو نشاندہی ہو جائے اور چیف ایگزیکٹو نہ ایکشن لیں تو وہ جوابدہ ہیں عدالت کا کہنا تھا کہ ایک چیف ایگزیکٹو نے کتاب میں لکھا کہ یہ پالیسی تھی ،اس موقع پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وہ غاصب تھے، انہیں منتخب چیف ایگزیکٹوز کے ساتھ نہ ملایا جائے وہ تو مکا بھی دکھا رہے تھے اور اب مفرور ہیں میرے لیے کہنا آسان ہے کہ جس دور میں گمشدگیاں ہیں اس وقت کے چیف ایگزیکٹو کو ذمہ دار ٹھہرائیں میں ایسا نہیں کہوں گا، عدالت کا کہنا تھا کہ اٹارنی جنرل کہہ رہے ہیں کہ جبری گمشدگیوں کے ان تینوں کیسز کو ٹیسٹ کیس کے طور پر لیا جائے گا جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایسی بات نہیں، حراستی مرکز میں موجود تمام افراد کی شناخت اور لسٹ موجود ہے حراستی مرکز میں موجود لوگوں کی ان کی فیملیز سے ملاقات بھی کرائی جاتی ہے عدالت نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے ایک واضح پیغام آنا چاہئے کہ اس معاملے کو برداشت نہیں کیا جائے گا، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ پتہ بھی تو چلے کہ یہ پیغام دینا کس کو ہے جس پر عدالت نے کہا کہ جبری گمشدگیوں کے کیس میں مشکل ہی یہ ہے کہ ریاست خود ملوث ہو تو تفتیش کون کرے گا یہ عدالت وکیل صحافی یا کوئی اور تفتیش نہیں کر سکتاآپ کو وفاقی حکومت کی جانب سے واضح پیغام دینے کے لیے مزید وقت دیں عدالت نے اٹارنی جنرل کی استدعا منظور کرتے ہوئے کیسز کی موثر تفتیش کے لیے تین ہفتوں کی مہلت دیتے ہوئے سماعت 14 فروری تک ملتوی کر دی۔

Live عمران خان کی احتجاجی تحریک سے متعلق تازہ ترین معلومات