اہم تقرری کا فیصلہ دباؤ کے باوجود میرٹ پر کیا

سنیارٹی کے اصولوں پر فیصلہ ملک کے استحکام کا باعث بنے گا،معاشی مضبوطی کے لیے نیشنل ڈائیلاگ کی تجویز پر قائم ہوں،ملک میں انتشار اور افراتفری کی گنجائش نہیں۔وزیراعظم شہباز شریف کی گفتگو

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعرات 24 نومبر 2022 17:21

اہم تقرری کا فیصلہ دباؤ کے باوجود میرٹ پر کیا
اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 24 نومبر 2022ء ) وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ اہم تقرری کا فیصلہ دباو کے باوجود میرٹ پر کیا۔انہوں نے دنیا نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سنیارٹی کے اصولوں پر فیصلہ ملک کے استحکام کا باعث بنے گا۔سنیارٹی کا اصول اداروں کو مضبوط بناتا ہے۔ معاشی مضبوطی کے لیے نیشنل ڈائیلاگ کی تجویز پر قائم ہوں۔

معاشی مضبوطی ہماری اولین ترجیح ہے۔ملک میں انتشار اور افراتفری کی گنجائش نہیں۔خیال رہے کہ آج صبح وزیراعظم نے اہم تعیناتیوں سے متعلق سمری صدرِ مملکت کو ارسال کی۔نئے آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کی تقرری کی سمری ایوان صدر کو موصول ہو گئی ہے۔ صدر مملکت عارف علوی کی جانب سے سمری کی منظوری دی جائے گی۔

(جاری ہے)

صدر مملکت آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت وزیر اعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر منظوری دیں گے۔

صدر مملکت کی منظوری کے بعد جنرل سید عاصم منیر کے آرمی چیف تعینات ہونے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا جبکہ جنرل ساحر شمشاد مرزا کا چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا جائے گا۔ یہاں واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے جنرل عاصم منیر کو ری ٹین کر لیا۔ آرمی ایکٹ کے تحت کسی آفیسر کو ری ٹین کیا جا سکتا ہے۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے قواعد کے مطابق ری ٹین کرنے کی سمری کابینہ کو پڑھ کر سنائی۔

وزارت دفاع نے پہلے ہی لیفٹننٹ جنرل عاصم منیر کو ریٹائرمنٹ کی اجازت نہیں دی تھی۔وزارت دفاع نے لیفٹننٹ جنرل عاصم منیر کو ری ٹین کرنے کی سمری تیار کی۔ وفاقی کابینہ نے متفقہ طور پر لیفٹننٹ جنرل عاصم منیر کو ری ٹین کرنے کی منظوری دی، قانون کے مطابق میجر اور اس سے اوپر کے رینک ریٹائرمنٹ کے لیے وزارت دفاع سے اجازت لیتے ہیں۔