کنونیئر کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں کشمیر و پاکستان کی زیر صدارت سمینار کا انعقاد ،شہدائے ہندواڑہ کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا گیا

ہندواڑہ میں پر امن مظاہرین کا اندوہناک قتل نام نہاد بھارتی جمہوریت کے چہرے پر سیاہ دھبہ ہے،شہداکی بیش بہا قربانیاں تحریک آزادی کا قیمتی اثاثہ ہیں ، مقررین

بدھ 25 جنوری 2023 18:25

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 جنوری2023ء) کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں کشمیر و پاکستان کے کنونیئر محمود احمد ساغر کی صدارت میں ایک سمینار کا انعقاد ہوا جس میں شہدائے ہندواڑہ کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہاکہ ہندواڑہ میں پر امن مظاہرین کا یہ اندوہناک قتل نام نہاد بھارتی جمہوریت کے چہرے پر ایک اور سیاہ دھبہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہداکی بیش بہا قربانیاں تحریک آزادی کا ایک قیمتی اثاثہ ہیں اور ان ہی قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ تنازعہ کشمیر اس وقت عالمی سطح پر توجہ کا مرکز ہے اور حق و انصاف پر یقین رکھنے والے کشمیریوں کو انکا پیدائشی حق، حق خود ارادیت دینے پر زور دے رہے ہیں۔ بھارت بے انتہا قتل و غارت کے باوجود کشمیریوں کے جذبہ حریت کو دبانے میں ناکام رہا ہے مقررین نے کہا کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے ادارے سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کے قتل عام کے واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانے اور جنگی جرائم میں ملوث بھارتی فوجیوں کے خلاف سخت کارروائی کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔

(جاری ہے)

شہیدا کشمیر کے لئے دعا کی گئی اور غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کشمیر ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری محمد اشرف بٹ کے جوان سال بیٹے کی وفات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا گیا اور مرحوم کے ایصال ثواب کیلئے دعائے مغفرت کی ہے۔ مقررین میں محمد فاروق رحمانی۔غلام محمد صفی، میر طاہر مسعود، سید یوسف نسیم، شیخ عبدلمتین، محمد رفیق ڑار ،حسن لبنا، شیخ محمد یعقوب، ایڈوکیٹ پرویز احمد، شیخ عبدل ماجد ، مشتاق احمد بٹ، گلشن احمد، کفایت حسین، منظور احمد ڈار، زاہد صفی ، راجہ خادم حسین، حاجی سلطان بٹ، عبدل مجید لون، اشفاق بلوال، محمد اشرف ڈار، زاہد اشرف، نسار مرازا، جاوید اقبال بٹ،داواد یوسف زئی، زاہد مجتابا، امتیاز احمد بٹ، ندیم احمد، قاضی عمران اور امتیاز وانی نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

واضح رہے کہ 25جنوری 1990کو ہندواڑہ قصبے میں ہزاروں لوگ بھارتی سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے اہلکاروں کے ہاتھوں اس وقت چند روز قبل سرینگر کے علاقے گائوکدل میں بیگناہ شہریوں کے قتل عام کے خلاف پرامن احتجاجی مارچ کر رہے تھے کہ بھارتی سیکورٹی فورسزنے ان پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی اور 20سے زائد افراد شہید جبکہ سو کے لگ بھگ زخمی کر دیئے تھے۔